
فائل تصویر آئی اے این ایس
امریکہ کے شہر منیاپولس میں آئی سی ای ایجنٹ کو گولی مارکرقتل کئے جانے کی واردات کے بعد زبردست کشیدگی پھیل گئی ہے۔ اس واقعے کے بعد امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ اورمینیسوٹا کے گورنر آمنے سامنے آگئے ہیں۔ ٹرمپ نے مینیسوٹا کے گورنرٹم والزاورمنیاپولس کے میئرجیکب فری (دونوں ڈیموکریٹ لیڈر) پر بغاوت پراکسانے کا الزام لگایا۔ وہیں والز نے ریاست میں ٹرمپ کی امیگریشن پالیسی پر کڑی تنقید کی۔
Published: undefined
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’سوشل ٹروتھ‘ پر لکھا کہ میئراورگورنرمغرور اور اپنی متکبربیان بازی سے بغاوت بھڑکا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو بھڑکانے کے بجائے ان احمقوں کو مینیسوٹا اور امریکہ کے عوام سے چوری کئے گئے اربوں ڈالر کی تلاش کرنا چاہیے۔ ٹرمپ نے ایک آئی سی ای ایجنٹ کی انگلی کی دو تصاویر پوسٹ کیں، جنہیں مبینہ طور پر مظاہرین نے کاٹ لی تھی۔ ٹرمپ نے سوال اُٹھایا کہ امیگریشن اور کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) افسران کی حفاظت کے لیے مقامی پولیس کو کیوں تعینات نہیں کیا گیا؟۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ افسران کو ان کا کام کرنے سے روکا گیا۔
Published: undefined
امریکی صدر نے کہا کہ یہ بندوق حملہ آور کی ہے۔ یہ بندوق لوڈیڈ (دو اضافی میگزین کے ساتھ) اور استعمال کے لیے تیار ہے... یہ سب کیا ہے؟ مقامی پولیس کہاں تھی؟ انہیں آئی سی ای افسران کی حفاظت کرنے کی اجازت کیوں نہیں دی گئی؟ کیا میئر اور گورنر نے انہیں واپس بلایا؟
Published: undefined
ٹرمپ نے متوفی کو مسلح قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئی سی ای کے ایجنٹوں کو اپنے دفاع میں کام کرنا پڑا۔ امریکی صدر نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ جن دھوکے بازوں نے پیسہ چوری کیا ہے وہ جیل جائیں گے، وہی ان کی جگہ ہے۔ یہ بینک ڈکیٹی سے الگ نہیں ہے۔ ٹرمپ نے یہ بھی الزام لگایا کہ وفاقی ایجنٹوں کے اقدامات پرعوامی تنقید چوری اور دھوکہ دہی کی پردہ پوشی ہے۔ مینیسوٹا کے رہنما متکبر اور خطرناک بیان بازی سے بغاوت کو ہوا دے رہے ہیں۔ ایسے میں ہمارے آئی سی ای محبان وطن کو اپنا کام کرنے دیجئے۔ دریں اثنا مینیسوٹا کے ڈیموکریٹک گورنر ٹم والز نے وفاقی اقدامات کی مذمت کی اور کارروائیوں کو فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا۔ والز نے ’ایکس‘پر لکھا کہ یہ بالکل غلط ہے، صدر (ڈونلڈ ٹرمپ) کو یہ آپریشن ختم کرنا چاہیے۔ مینیسوٹا سے ہزاروں متشدد، غیر تربیت یافتہ افسران کو فوری طور پر ہٹا دیں۔
Published: undefined
اس واقعے نے مینیسوٹا میں وفاقی امیگریشن نفاذ کی توسیع پر ریاستی حکام اور ٹرمپ انتظامیہ کے درمیان کشیدگی میں اضافہ کردیا ہے۔ مقامی رہنماؤں کی جانب سے شدید تنقید اور وائٹ ہاؤس کی جانب سے سیاسی ردعمل سامنے آیا ہے۔ بتادیں کہ وفاقی ایجنٹوں کی فائرنگ میں جس شخص کی جان گئی ہے وہ واردات منیا پولس کے جنوبی حصے میں ہوئی۔ مقامی افسران نے کہا کہ وہ اس معاملے کی جانچ کررہے ہیں۔ انہوں نے لوگوں سے پُرامن رہنے اور علاقے سے دوررہنے کی اپیل کی ہے۔
Published: undefined
تازہ واردات ٹرمپ انتظامیہ کے بڑے پیمانے پر جاری امیگریشن مخالف آپریشن کے دوران پیش آیا۔ اس سے قبل 7 جنوری کو رینی گڈ نامی ایک 37 سالہ خاتون کو آئی سی ای افسر نے گولی مار دی تھی، جس کے بعد لوگوں کا غصہ پھوٹ پڑا تھا۔ یہ ہنگامہ اس وقت شروع ہوا تھا جب آئی سی ای ایجنٹ کی گولی سے 3 بچوں کی ماں 37 سالہ رینی گڈ کی موت ہوگئی۔ محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی (ڈی ایچ ایس) نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ خاتون ایک فسادی تھی اور اس نے اپنی گاڑی سے ایک ایجنٹ کو کچلنے کی کوشش کی تھی۔ صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی بینس نے اس وقت آئی سی ای ایجنٹ کا دفاع کیا تھا۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined