قومی خبریں

مرکزی وزیر بنڈی سنجےکے بیٹے کی گرفتاری پر روک سے تلنگانہ ہائی کورٹ کا انکار، نابالغ سے جنسی ہراسانی کا ہے الزام

جسٹس ٹی مادھوی دیوی نے بھاگیرتھ کی قبل از گرفتاری ضمانت کی درخواست پر کہا کہ ’’میں نے متاثرہ کا بیان پڑھا ہے۔ اسے دیکھنے کے بعد، اس مرحلے پر میں کوئی بھی عبوری راحت دینے کے حق میں نہیں ہوں۔‘‘

تلنگانہ ہائی کورٹ، تصویر آئی اے این ایس
تلنگانہ ہائی کورٹ، تصویر آئی اے این ایس 

مرکزی وزیر بنڈی سنجے کمار کے بیٹے بنڈی بھاگیرتھ کو ایک بڑے قانونی معاملہ میں ہائی کورٹ سے جھٹکا لگا ہے۔ تلنگانہ ہائی کورٹ نے ’پاکسو‘ قانون کے تحت درج ایک معاملہ میں بھاگیرتھ کو گرفتاری سے عبوری راحت دینے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ ہائی کورٹ کی ویکیشن بنچ نے جمعہ کی شام بھاگیرتھ کی قبل از گرفتاری ضمانت کی درخواست پر سماعت شروع کی تھی۔ جسٹس ٹی مادھوی دیوی کی سربراہی میں یہ سماعت تقریباً آدھی رات تک چلتی رہی۔ طویل بحث کے بعد جج نے قبل از گرفتاری ضمانت کی درخواست پر اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا۔ لیکن بھاگیرتھ کے وکیل نے عدالت سے درخواست کی کہ آخری فیصلہ آنے تک بھاگیرتھ کی گرفتاری پر روک لگائی جائے۔ حالانکہ عدالت نے اس مطالبے کو سرے سے مسترد کر دیا۔

Published: undefined

ہندی نیوز پورٹل ’آج تک‘ پر شائع خبر کے مطابق عبوری راحت کے مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے جسٹس ٹی مادھوی دیوی نے کہا کہ ’’مجھے نہیں لگتا کہ اس موڑ پر کوئی عبوری حکم جاری کرنا چاہیے۔ میں نے متاثرہ کا بیان پڑھا ہے۔ اسے دیکھنے کے بعد، اس مرحلے پر میں کوئی بھی عبوری راحت دینے کے حق میں نہیں ہوں۔‘‘ سماعت کے دوران بھاگیرتھ کے وکیل نے دلیل دی کہ ضمانت کی درخواست پر سماعت کرتے وقت عدالت کے پاس حتمی فیصلہ آنے تک عبوری ضمانت دینے کا بنیادی اختیار ہوتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس معاملے کے شکایت کنندہ نے خود تسلیم کیا تھا کہ ان کی بیٹی 2025 سے بھاگیرتھ کے ساتھ رشتے میں تھی اور دونوں کے درمیان اچھے تعلقات تھے۔ دوسری جانب متاثرہ کے وکیل نے بھاگیرتھ کو کسی بھی قسم کی راحت دیے جانے کی سخت مخالفت کی۔ انہوں نے دلیل دی کہ ملزم کے والد (بنڈی سنجے) ایک انتہائی بااثر شخصیت ہیں۔ ایسے میں اگر ملزم کو راحت ملتی ہے، تو وہ ثبوتوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کر سکتا ہے۔

Published: undefined

واضح رہے کہ 8 مئی کو ایک 17 سالہ نابالغ لڑکی کی ماں نے پولیس میں شکایت درج کرائی۔ شکایت میں الزام عائد کیا گیا کہ بھاگیرتھ ان کی بیٹی کے ساتھ رشتے میں تھا اور اس نے لڑکی کا جنسی استحصال کیا۔ پولیس نے پہلے بھارتیہ نیائے سنہتا (بی این ایس) اور پاکسو ایکٹ کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔ لیکن عدالت کے سامنے متاثرہ کا بیان درج ہونے کے بعد مقدمہ میں پاکسو قانون کی مزید سخت دفعات شامل کر دی گئیں۔

Published: undefined

دوسری جانب بھاگیرتھ نے بھی کریم نگر پولیس میں لڑکی اور اس کے اہل خانہ کے خلاف ایک جوابی شکایت درج کرائی ہے۔ بھاگیرتھ کا دعویٰ ہے کہ لڑکی سے اس کی جان پہچان تھی اور وہ اس کی خاندانی تقریب میں بھی گیا تھا۔ اس نے الزام عائد کیا کہ لڑکی اور اس کے والدین اس پر شادی کا دباؤ بنانے لگے۔ جب اس نے شادی سے انکار کر دیا، تو وہ پیسوں کا مطالبہ کرنے لگے اور جھوٹے مقدمہ میں پھنسانے کی دھمکی دی۔ بھاگیرتھ کا الزام ہے کہ اس نے لڑکی کے والد کو 50000 روپے بھی دیے تھے، لیکن بعد میں خاندان نے اس سے 5 کروڑ روپے کا مطالبہ کیا اور مانگ پوری نہ ہونے پر ماں نے خودکشی کرنے کی دھمکی دی۔

Published: undefined

قابل ذکر ہے کہ سماعت شروع ہونے سے قبل جسٹس ٹی مادھوی دیوی نے اس معاملے کو لے کر سوشل میڈیا پر چلائی جا رہی گمراہ کن مہم پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر متاثرہ کے وکیل کو ان کے سامنے بحث کرنے پر کوئی اعتراض ہے، تو وہ اس معاملے کی سماعت نہیں کریں گی۔ حالانکہ فریقین کے وکلاء کی اپیل پر انہوں نے مقدمہ کی سماعت کی۔

Published: undefined

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined