قومی خبریں

تلنگانہ اسمبلی میں منریگا کو جاری رکھنے کی قرارداد منظور، جی رام جی قانون کی مخالفت

تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی نے اسمبلی میں کہا کہ نیا قانون دیہی خواتین اور معاشرے کے کمزور طبقات کے لیے روزگار کی ضمانتوں کو خطرے میں ڈالتا ہے، جو بنیادی طور پر اس اسکیم پر انحصار کرتے ہیں

<div class="paragraphs"><p>وزیر اعلیٰ تلنگانہ ریونت ریڈی / آئی اے این&nbsp;ایس</p></div>

وزیر اعلیٰ تلنگانہ ریونت ریڈی / آئی اے این ایس

 
IANS

مرکزی حکومت کی جانب سے منریگا کی جگہ نیا قانون (وی بی جی رام جی) لانے پر جاری ہنگامے کے دوران تلنگانہ اسمبلی نے بڑا قدم اُٹھاتے ہوئے جمعہ کو ایک قرارداد منظور کی جس میں مہاتما گاندھی نیشنل رورل ایمپلائمنٹ گارنٹی اسکیم (منریگا) کو جوں کی توں جاری رکھنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی حال میں منظور کئے گئے ’وکست بھارت گارنٹی روزگار‘ اور ’اجیویکا مشن (دیہی) ایکٹ (وی بی جی جی رام جی جی) کو غریبوں کے حقوق کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔ خیال رہے کہ تلنگانہ دوسری ایسی دوسری ریاست ہے جس کی اسمبلی نے نئے قانون کے خلاف قرار داد منظور کی ہے، اس سے پہلے پنجاب اسمبلی میں بھی اسی نوعت کی قرارداد منظور کی جا چکی ہے۔

Published: undefined

ریاست کے وزیراعلیٰ اے ریونت ریڈی نے اسمبلی میں قرارداد پیش کی، جسے صوتی ووٹ سے متفقہ طور پر منظور کردیا گیا۔ قرارداد کے مطابق نیا قانون غریبوں کے حقوق، خواتین مزدوروں کے حقوق کے خلاف ہے اور وفاقیت کی روح کی خلاف ورزی کرتا ہے۔

قرارداد میں کہا گیا ہے کہ منریگا کو 2005 میں ڈاکٹر منموہن سنگھ کی قیادت والی یو پی اے حکومت نے دیہی غریبوں کو روزگار اور غریب خاندانوں کو معاشی تحفظ فراہم کرنے کے لیے نافذ کیا تھا۔ یہ ایکٹ، غریبی، بے روزگاری، نقل مکانی، غیر ہنر مند مزدوروں کے استحصال اور مرد اور خواتین کے درمیان اجرت کے تفاوت کو کم کرنے اور معاشرے کے تمام طبقات کی ترقی کو فروغ دینے کے مقصد سے بنایا گیا اوریہ 2 فروری 2006 کو نافذ ہوا۔ اس ایکٹ کا بنیادی مقصد ہر دیہی خاندان میں کم از کم 100 دن کی ملازمت کو یقینی بنانا اور کم از کم اجرت فراہم کرنا ہے۔

Published: undefined

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پچھلے 20 سالوں میں ریاست میں اس اسکیم کے تقریباً 90 فیصد استفادہ کنندگان درج فہرست ذات، درج فہرست قبائل اور پسماندہ طبقات سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان میں 62 فیصد خواتین ہیں۔ دلت، آدیواسی، معذور اور انتہائی پسماندہ برادریوں جیسے قبائلیوں اور دیگر غریب برادریوں جو سب سے زیادہ فائدہ ملا ہے۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ نیا قانون دیہی خواتین اور معاشرے کے کمزور طبقات کے لیے روزگار کی ضمانتوں کو خطرے میں ڈالتا ہے، جو بنیادی طور پر اس اسکیم پر انحصار کرتے ہیں۔ پرانی روزگار گارنٹی اسکیم کی روح کو کمزور کرنے والی دفعات غریبوں کے لیے لعنت بن جائیں گی۔

Published: undefined

قرارداد میں کہا گیا ہے کہ نیا قانون غریبوں کے حقوق کے خلاف ہے کیونکہ اس سے روزگار گارنٹی ایکٹ کا بنیادی مقصد کمزور ہوتا ہے۔ اس نے مانگ کے مطابق ٹیلرنگ کے کام کے منصوبوں کا نظام ختم کر دیا ہے۔ تجویز کے مطابق نیا قانون خواتین مزدوروں کے خلاف ہے۔ موجودہ وقت میں منریگا اسکیم کے تحت تقریباً 62 فیصد استفادہ کنندگان خواتین ہیں۔ نئے قانون میں شامل محدود مختص نظام سے کام کے دنوں کی تعداد کم ہو جائے گی۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined