
سوشل میدیا
بہار کی سابق وزیر اعلیٰ رابڑی دیوی کے سرکاری رہائش گاہ کے معاملے پر سیاسی تنازع مزید گہرا ہوگیا ہے۔ راشٹریہ جنتا دل کے بانی لالو پرساد یادو کے بڑے بیٹے تیج پرتاپ یادو نے ریاست کی این ڈی اے حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر رابڑی دیوی کو سرکاری بنگلہ خالی کرنے کا نوٹس دیا گیا ہے تو دیگر سابق وزرائے اعلیٰ کے خلاف بھی یکساں کارروائی ہونی چاہیے۔
Published: undefined
تیج پرتاپ یادو نے کہا کہ ریاستی حکومت نے رابڑی دیوی کو پٹنہ کے 10 سرکولر روڈ واقع سرکاری بنگلہ خالی کرنے کے لیے 15 دن کا الٹی میٹم دیا ہے، اس لیے سابق وزیر اعلیٰ نتیش کمار اور جیتن رام مانجھی کو بھی اسی نوعیت کے نوٹس جاری کیے جانے چاہئیں۔ انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ راشٹریہ لوک مورچہ کے سربراہ اوپیندر کشواہا کو بھی سرکاری رہائش گاہ خالی کرنے کا حکم دیا جائے کیونکہ وہ بھی پٹنہ میں سرکاری بنگلے میں مقیم ہیں۔
Published: undefined
رابڑی دیوی کے زیر استعمال سرکاری بنگلے کو حال ہی میں ریاستی حکومت کے وزیر نند کشور رام کے نام الاٹ کیے جانے کے بعد یہ تنازع شروع ہوا۔ رابڑی دیوی نے مبینہ طور پر رہائش گاہ خالی کرنے سے انکار کیا ہے، جس کے بعد معاملہ سیاسی بحث کا موضوع بن گیا ہے۔ محکمہ تعمیراتِ عمارات نے 27 مئی کو جاری اپنے حکم نامے میں راج بھون اور وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ کے قریب واقع اس بنگلے کو مویشی پروری اور ماہی پروری وسائل کے وزیر نند کشور رام کے نام الاٹ کیا تھا۔
تیج پرتاپ یادو نے ریاستی حکومت پر دوہرے معیار اپنانے کا الزام بھی لگایا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ وزیر اعلیٰ سمرت چودھری آٹھ ایکڑ پر مشتمل وسیع سرکاری رہائش گاہ میں کیوں مقیم ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر انہیں اتنی بڑی رہائش گاہ درکار ہے تو انہیں دہلی کے لال قلعہ میں منتقل ہو جانا چاہیے۔
Published: undefined
انہوں نے بہار میں قانون و نظم کی صورت حال پر بھی حکومت کو نشانہ بنایا۔ تیج پرتاپ یادو کے مطابق ریاست میں امن و امان کی حالت انتہائی خراب ہو چکی ہے اور حکومت کے دعوے زمینی حقیقت سے مطابقت نہیں رکھتے۔ انہوں نے پٹنہ میں خان سر کے کوچنگ ادارے کے باہر پیش آنے والے حالیہ فائرنگ کے واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے واقعات روزانہ پیش آ رہے ہیں اور عوام خود کو محفوظ محسوس نہیں کر رہے۔
تیج پرتاپ یادو نے کہا کہ اگر سمرت چودھری حکومت چلانے میں ناکام ہیں تو انہیں اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دینا چاہیے۔ ان کے بیان کے بعد ریاست کی سیاست میں اس معاملے پر بحث مزید تیز ہونے کا امکان ہے۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined