نائیجیریا میں صاف پانی اور طبی خدمات کا فقدان، 2 ماہ میں ہیضے کی وباء کے سبب بورنو ریاست میں 200 افراد کی موت
ایم ایس ایف نے بورنو ریاستی حکومت کی جانب سے جاری اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 12 جولائی تک ریاست میں کم از کم 198 افراد کی موت ہو چکی تھی اور 35500 سے زیادہ مشتبہ معاملے سامنے آئے۔

نائیجیریا کی شمال مشرقی ریاست بورنو میں ہیضے کی وباء سے گزشتہ 2 ماہ کے دوران تقریباً 200 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ کیوں کہ بورنو ریاست میں صاف پانی، مناسب صفائی اور طبی سہولیات کا فقدان ہے۔ یہ اطلاع ایک بین الاقوامی طبی انسانی ہمدردی کی تنظیم ’ڈاکٹرز وِد آؤٹ بارڈرز‘ (جسے بین الاقوامی سطح پر میڈیسنز سانس فرنٹیئرز-ایم ایس ایف بھی کہتے ہیں) نے دی ہے۔ بدھ کے روز مقامی وقت کے مطابق جاری ایک بیان میں ایم ایس ایف نے بیماری کے بڑھتے ہوئے اثرات پر تشویش کا اظہار کیا اور خبردار کیا کہ امدادی کوششوں کے باوجود یہ بیماری مقامی طبی سہولیات پر بھاری پڑ سکتی ہے۔
ایم ایس ایف نے بورنو ریاستی حکومت کی جانب سے جاری اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 12 جولائی تک ریاست میں کم از کم 198 افراد کی موت ہو چکی تھی اور 35500 سے زیادہ مشتبہ معاملے سامنے آئے تھے۔ تنظیم نے بتایا کہ سرکاری طبی حکام اور انسانی امدادی شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کرتے ہوئے اس نے 12 جولائی تک ہیضے کے مشتبہ 24000 سے زائد مریضوں کا علاج کیا ہے۔ شنہوا خبر رساں ایجنسی کے مطابق تنظیم نے متاثرہ طبقے میں صاف پانی، صفائی ستھرائی اور طبی خدمات کی ناکافی دستیابی کو بیماری کے مسلسل پھیلنے کی وجہ قرار دیا۔ اپریل میں نائجیریا کے ’ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن سینٹر‘ نے شدید بارش اور سیلاب سے منسلک ہیضے کے پھیلاؤ کے خطرے کے پیشِ نظر 10 ریاستوں کو ہائی الرٹ پر رکھا تھا۔
نائجیریا کی حکومت نے اپنے ڈیزاسٹر مینجمنٹ سسٹم کو فعال کر دیا ہے اور متاثرہ علاقوں میں طبی ٹیمیں تعینات کر دی ہیں۔ ’ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن‘ (ڈبلیو ایچ او)، ’یونائیٹڈ نیشنز چلڈرنز فنڈ‘ (یونیسیف) اور ’ڈاکٹرز وِد آؤٹ بارڈرز‘ سمیت بین الاقوامی تنظیموں نے بھی اس وبا کے خاتمے میں تعاون دیا ہے۔ بورنو ریاستی حکومت کے سکریٹری بوکر تجانی نے کہا کہ ریاست نے ہنگامی اقدامات نافذ کر دیے ہیں، جن میں مقامی ڈیموں اور آبی ذخائر جیسے پانی کے ذرائع تک رسائی کو محدود کرنا اور ٹینکروں کے ذریعے محفوظ پینے کے پانی کی فراہمی میں توسیع کرنا شامل ہے، جبکہ وبا کے وجوہات کی تحقیقات جاری ہیں۔ آلودہ خوراک یا پانی سے پھیلنے والی دست کی بیماری نائجیریا میں خصوصاً سیلاب سے متاثرہ ریاستوں اور پانی و صفائی ستھرائی کے ناقص بنیادی ڈھانچے والی ریاستوں میں اب بھی صحتِ عامہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
