
سپریم کورٹ آف انڈیا
نئی دہلی: تہلکہ میگزین کے سابق ایڈیٹر ترون تیج پال نے اپنی سابق ساتھی کے ساتھ عصمت دری کے معاملے میں بامبے ہائی کورٹ کی جانب سے سنائی گئی 10 سال کی سزا کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔ اس معاملے میں گوا حکومت نے بھی سپریم کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے ہائی کورٹ کی جانب سے دی گئی سزا کو ناکافی قرار دیتے ہوئے مزید سخت سزا دینے کی اپیل کی ہے۔
ترون تیج پال نے اپنی درخواست میں بامبے ہائی کورٹ کے 6 اگست 2026 کے فیصلے اور اس کے تحت سنائی گئی 10 سال کی سخت قید کی سزا کو چیلنج کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی وہ ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو بھی چیلنج کر رہے ہیں جس میں انہیں 2013 کے اس معاملے میں قصوروار قرار دیا گیا ہے۔
یہ معاملہ نومبر 2013 میں سامنے آیا تھا۔ ترون تیج پال پر الزام تھا کہ انہوں نے گوا کے ایک لگژری ہوٹل کی لفٹ میں اپنی ایک جونیئر خاتون ساتھی کے ساتھ عصمت دری کی۔ شکایت کے بعد گوا پولیس نے ان کے خلاف عصمت دری سمیت مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔ پولیس نے نومبر 2013 میں انہیں گرفتار بھی کیا تھا۔
اس معاملے کی سماعت مپوسا کی سیشن عدالت میں ہوئی۔ مئی 2021 میں عدالت نے ثبوتوں کی کمی کا حوالہ دیتے ہوئے ترون تیج پال کو تمام الزامات سے بری کر دیا تھا۔ اس فیصلے کے خلاف گوا حکومت نے بامبے ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔
ہائی کورٹ نے تقریباً پانچ سال بعد 6 اگست 2026 کو نچلی عدالت کے فیصلے کو پلٹ دیا اور ترون تیج پال کو قصوروار قرار دیا۔ عدالت نے تعزیرات ہند کی مختلف دفعات کے تحت انہیں 10 سال کی سخت قید اور جرمانے کی سزا سنائی۔
ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد گوا حکومت نے بھی سپریم کورٹ کا رخ کیا۔ 18 اگست کو دائر اپنی درخواست میں ریاستی حکومت نے مؤقف اختیار کیا کہ معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے 10 سال کی سزا کافی نہیں ہے۔ حکومت نے سپریم کورٹ سے ترون تیج پال کو مزید سخت سزا دینے کی درخواست کی ہے۔
اب اس معاملے میں سپریم کورٹ کے سامنے دونوں فریقوں کی اپیلیں ہوں گی۔ ایک جانب ترون تیج پال ہائی کورٹ کے فیصلے کو منسوخ کرنے اور 10 سال کی سزا سے راحت حاصل کرنے کی کوشش کریں گے، جبکہ دوسری جانب گوا حکومت سزا میں اضافے کا مطالبہ کرے گی۔
2013 میں یہ معاملہ سامنے آنے کے بعد ترون تیج پال کو شدید قانونی اور عوامی تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس وقت وہ تحقیقاتی صحافت کے لیے معروف میگزین تہلکہ کے ایڈیٹر تھے۔ کیس میں طویل قانونی کارروائی کے بعد مئی 2021 میں نچلی عدالت سے بری ہونے کے باوجود معاملہ اپیل کے مرحلے میں جاری رہا اور بالآخر اگست 2026 میں بامبے ہائی کورٹ نے انہیں قصوروار قرار دیتے ہوئے سزا سنائی۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔