تمل ناڈو کے نومنتخب وزیر اعلیٰ وجے اور کانگریس رہنما راہل گاندھی، تصویر سوشل میڈیا، بشکریہ @RahulGandhi
اداکار سے سیاستداں بنے جوزف وجے نے آج تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ کے عہدے کا حلف اٹھا لیا۔ تمل ناڈو کے گورنر راجندر وشواناتھ آرلیکر نے وجے کو عہدے اور رازداری کا حلف دلایا۔ ان کے ساتھ 9 دیگر وزراء نے بھی حلف اٹھایا۔ اس دوران حلف برداری کی تقریب میں حزب اختلاف کے قائد اور کانگریس رہنما راہل گاندھی سمیت کئی سرکردہ سیاسی لیڈران اور فلمی شخصیات موجود تھیں۔ راہل گاندھی آج صبح ہی اس تقریب میں شرکت کے لیے چنئی پہنچ گئے تھے۔
Published: undefined
کانگریس رہنما راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جوزف وجے کی حلف برداری تقاریب کی کئی تصاویر شیئر کیں۔ ایک تصویر میں راہل گاندھی اور نومنتخب وزیر اعلیٰ جوزف سیلفی لیتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ راہل گاندھی نے کیپشن میں لکھا کہ ’’تمل ناڈو نے انتخاب کر لیا ہے۔ ایک نئی نسل۔ ایک نئی آواز۔ ایک نئی سوچ۔ میری نیک تمنائیں تھیرو وجے کے لیے - دعا ہے کہ وہ تمل ناڈو کے عوام کی امیدوں پر پورا اتریں۔‘‘
Published: undefined
راہل گاندھی کے علاوہ کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھڑگے نے بھی تمل ناڈو کے نومنتخب وزیر اعلیٰ کو مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ کے طور پر تھیرو ٹی وی کے وجے کی حلف برداری کے موقع پر، میں انہیں، تملگا ویٹری کزگم پارٹی اور پورے ترقی پسند اتحاد کو دلی مبارکباد اور نیک خواہشات پیش کرتا ہوں۔‘‘ وہ مزید لکھتے ہیں کہ ’’اس حکومت کی تشکیل خودداری، سماجی انصاف، بااختیاری اور حقیقت پسندی کی ان پائیدار اقدار کی دوبارہ توثیق کرتی ہے، جو طویل عرصے سے تمل ناڈو کے سیاسی اور سماجی شعور کی پہچان رہی ہیں۔ یہ وہ ورثہ ہے جسے پیریار اور کامراجر نے تشکیل دیا۔‘‘
Published: undefined
ملکارجن کھڑگے ’ایکس‘ پر مزید لکھتے ہیں کہ ’’تمل ناڈو کے لاکھوں لوگوں، خصوصاً باصلاحیت اور پُرامید نوجوانوں نے ٹی وی کے پر اپنا اعتماد ظاہر کیا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ ان کی قیادت میں یہ نظریات حکمرانی کی رہنمائی کرتے رہیں گے اور پورے ملک کے لیے باعث تحریک بنیں گے۔ نئی حکومت کے لیے میری دعا ہے کہ وہ ہمدردی، شمولیت اور عزم کے ساتھ عوام کی خدمت میں عظیم کامیابی حاصل کرے۔‘‘
Published: undefined
قابل ذکر ہے کہ تمل ناڈو اسمبلی انتخاب میں وجے کی پارٹی کو 108 سیٹیں ملی تھیں، جبکہ حکومت بنانے کے لیے 118 سیٹوں کی ضرورت تھی، جس کی وجہ سے کئی دنوں تک سیاسی ہلچل مچی رہی۔ کانگریس نے پہلے ہی حمایت دے دی تھی اس کے بعد دیگر پارٹیوں نے بھی وجے کی حمایت کر دی۔ اِس وقت وجے کی پارٹی ’ٹی وی کے‘ کو کانگریس کے 5 اراکین اسمبلی اور سی پی آئی، سی پی آئی ایم، وی سی کے سمیت آئی یو ایم ایل کے 2-2 اراکین اسمبلی کی حمایت حاصل ہے۔ یہ تمام جماعتیں ڈی ایم کے کی قیادت والے سیکولر پروگریسو الائنس (ایس پی اے) کا حصہ بن کر الیکشن لڑی تھیں۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined