قومی خبریں

تمل ناڈو حکومت نے دودھ پروڈکشن کرنے والوں کو سنائی خوشخبری، خرید قیمت میں 3 روپے اضافہ کا اعلان

19 اگست کو تمل ناڈو اسمبلی میں ڈیری کسانوں سے دودھ خرید قیمت 38 روپے سے بڑھا کر 41 روپے فی لیٹر کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔ اب یہ قیمت مزید بڑھ کر 44 روپے فی لیٹر ہو گئی ہے۔

<div class="paragraphs"><p>وزیر اعلی تمل ناڈو وجے / آئی اے این ایس</p></div>

وزیر اعلی تمل ناڈو وجے / آئی اے این ایس

 

تمل ناڈو حکومت نے ریاست کے ڈیری کسانوں کو راحت دیتے ہوئے ’آوین‘ کے لیے دودھ کی خرید قیمت میں ایک بار پھر اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیر اعلیٰ سی جوزف وجے نے پیر کو دودھ خرید قیمت میں 3 روپے فی لیٹر اضافے کا اعلان کیا۔ اس کے بعد کسانوں سے دودھ خریدنے کی قیمت 41 روپے سے بڑھ کر 44 روپے فی لیٹر ہو جائے گی۔ یہ فیصلہ کسانوں کی آمدنی بڑھانے اور ریاست میں ڈیری شعبے کو مضبوط کرنے کے مقصد سے لیا گیا ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ حکومت نے کچھ ہی دن پہلے دودھ کی خرید قیمت میں 3 روپے کا اضافہ کیا تھا۔ 19 اگست کو اسمبلی میں خرید قیمت 38 روپے سے بڑھا کر 41 روپے فی لیٹر کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔ اب یہ قیمت مزید بڑھ کر 44 روپے فی لیٹر ہو گئی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ ’آوین‘ تمل ناڈو کا اہم کوآپریٹو ڈیری برانڈ ہے۔ دودھ کی خرید قیمت میں تازہ اضافہ سے ریاست کے مختلف حصوں میں دودھ پیدا کرنے والے کسانوں کو براہ راست فائدہ ملنے کی امید ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ خرید قیمت بڑھنے سے کسانوں کو پیداواری لاگت کے مقابلے میں بہتر منافع ملے گا اور ڈیری کاروبار کو فروغ ملے گا۔

اس درمیان وزیر اعلیٰ نے ریاست کے بجلی کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط کرنے کے لیے بھی بڑی سرمایہ کاری کی تجویز پیش کی ہے۔ تمل ناڈو ٹرانسمیشن امپروومنٹ اسکیم کے تحت 196 نئے سب اسٹیشن بنائے جائیں گے اور تقریباً 15,000 کلومیٹر نئی بجلی کی لائنیں بچھائی جائیں گی۔ اس پوری اسکیم پر 33,066 کروڑ روپے خرچ کیے جانے کی تجویز ہے۔ حکومت کا مقصد بڑھتی ہوئی صنعتی اور گھریلو بجلی کی طلب کو دیکھتے ہوئے ٹرانسمیشن نیٹورک کی صلاحیت بڑھانا ہے۔

تمل ناڈو حکومت نے توتیکورین میں ایک بڑے بجلی گھر کی اسکیم بھی سامنے رکھی ہے۔ پبلک-پرائیویٹ پارٹنرشپ یعنی ’پی پی پی ماڈل‘ کے تحت یہاں 1,600 میگاواٹ صلاحیت کا سپر کریٹیکل تھرمل پاور اسٹیشن قائم کیا جائے گا۔ اس منصوبے میں تقریباً 20,800 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی تجویز ہے۔ اس سے ریاست کی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت بڑھانے اور مستقبل کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے میں مدد ملنے کی امید ہے۔

ریاستی حکومت نے بجلی کے ساتھ ساتھ سیمی کنڈکٹر اور لاجسٹکس سے متعلق بنیادی ڈھانچے کو مضبوط کرنے پر بھی زور دیا ہے۔ حکومت کا مقصد تمل ناڈو کے مینوفیکچرنگ شعبہ اور ٹیکنالوجی ایکو سسٹم کو مزید مضبوط بنانا ہے۔ ڈیری کسانوں کے لیے خرید قیمت میں اضافہ اور دوسری جانب بجلی، مینوفیکچرنگ اور لاجسٹکس کے لیے بڑی سرمایہ کاری کے اعلانات کو ریاست کی معیشت اور روزگار کی صلاحیت بڑھانے کی سمت میں اہم قدم مانا جا رہا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔