سپریم کورٹ نے دہرادون کے جم آپریٹر ’محمد دیپک‘ کے خلاف درج مقدمے میں مزید کارروائی پر روک لگا دی

سپریم کورٹ نے اتراکھنڈ ہائی کورٹ کے اس حکم پر بھی روک لگا دی جس میں دیپک کو واقعہ سے متعلق ویڈیو یا پیغام سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنے سے روکا گیا تھا۔

<div class="paragraphs"><p>سپریم کورٹ آف انڈیا / آئی اے این ایس</p></div>
i

سپریم کورٹ نے دہرادون کے جم آپریٹر دیپک کمار (محمد دیپک) کے خلاف درج مجرمانہ معاملے میں مزید کارروائی پر روک لگا دی ہے۔ یہ معاملہ جنوری میں ایک مسلم دکاندار کے ساتھ مبینہ طور پر ہراسانی کے واقعہ سے متعلق ہے۔ جسٹس وکرم ناتھ اور جسٹس سندیپ مہتا کی بنچ نے پیر کو محمد دیپک کی عرضی پر عبوری حکم جاری کیا۔ دوسری جانب سپریم کورٹ نے اس معاملے میں اتراکھنڈ حکومت سے بھی جواب طلب کیا ہے۔

سپریم کورٹ نے اتراکھنڈ ہائی کورٹ کے اس حکم پر بھی روک لگا دی جس میں دیپک کو واقعہ سے متعلق ویڈیو یا پیغام سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنے سے روکا گیا تھا۔ بنچ نے کہا کہ ’’متعلقہ ایف آئی آر کی کارروائی اور ہائی کورٹ کے حکم کا اثر اور عمل رکا رہے گا۔‘‘ رواں سال مارچ میں اتراکھنڈ ہائی کورٹ نے ایک شکایت پر دیپک کے خلاف درج ایف آئی آر کو منسوخ کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ دیپک کا الزام ہے کہ وہ دکاندار کی مدد کے لیے پہنچے تھے لیکن بعد میں اسی کے خلاف مقدمہ درج کر دیا گیا۔


واضح رہے کہ یہ معاملہ رواں سال 26 جنوری کو پیش آئے ایک واقعہ سے متعلق ہے، جس میں بجرنگ دل کے کچھ کارکنان نے مبینہ طور پر ایک مسلم دکاندار کی جانب سے اپنی دکان کے نام میں ’بابا‘ لفظ استعمال کیے جانے پر اعتراض کیا تھا۔ ’محمد دیپک‘ کا کہنا ہے کہ وہ مبینہ طور پر پریشان کیے جا رہے دکاندار کی مدد کے لیے موقع پر پہنچے تھے۔ اس کے بعد بجرنگ دل کے کچھ کارکنان کے ساتھ دیپک کی بحث ہوئی اور اس کے خلاف بھی مجرمانہ مقدمہ درج کر لیا گیا۔ اس کے بعد دیپک نے اپنے خلاف درج ایف آئی آر کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ ہائی کورٹ نے مارچ میں مقدمہ منسوخ کرنے سے انکار کر دیا تھا اور پولیس کو تحقیقات جاری رکھنے کی اجازت دی تھی۔ ہائی کورٹ نے دیپک کو سوشل میڈیا پر اس معاملے سے متعلق واقعات پر تبصرہ کرنے سے بھی روک دیا تھا، کیونکہ یہ خدشہ تھا کہ اس سے جاری پولیس تحقیقات میں رکاوٹ پیدا ہو سکتی تھی۔ بعد میں دیپک نے سپریم کورٹ کا رخ کیا تھا۔