کوشامبی کے پٹاخہ گودام میں زوردار دھماکہ، کئی مکانات منہدم، 7 افراد جاں بحق
دھماکہ والی جگہ پر اب بھی پٹاخے پھٹ رہے ہیں، جس کی وجہ سے لوگ جائے وقوع کے قریب نہیں جا پا رہے۔ فائر بریگیڈ کی گاڑیاں موقع پر پہنچ کر آگ بجھانے کا کام بہت احتیاط کے ساتھ کر رہی ہیں۔

اتر پردیش کے کوشامبی میں پٹاخہ گودام میں زوردار دھماکہ سے افرا تفری کا ماحول پیدا ہو گیا۔ یہ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ جائے وقوع پر ہی 7 لوگوں کی موت ہو گئی۔ کئی لوگ زخمی بھی بتائے جا رہے ہیں۔ معاملہ کوشامبی اور پریاگ راج بارڈر پر تھانہ پپری اور پورا مفتی علاقہ کی سرحد کے قریب ’آدتیہ‘ نام سے آپریٹ کیے جا رہے پٹاخہ گودام کا ہے۔ پیر کی صبح تقریباً 11 بجے یہاں زوردار دھماکہ ہونے سے علاقے میں دہشت پھیل گئی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق دھماکہ کی زد میں آ کر آس پاس کے کئی مکانات کے متاثر یا منہدم ہونے کی خبر ہے۔ حادثہ کے بعد جائے وقوع پر ہنگامہ برپا ہو گیا اور فوری طور پر پولیس کو اس کی خبر دی گئی۔ پولیس و انتظامیہ کے افسران حادثہ والی جگہ پر پہنچ چکے ہیں اور ساتھ ہی راحت رسانی کی ٹیمیں بھی حالات پر قابو پانے میں مصروف ہیں۔ فی الحال انتظامیہ کی طرف سے مہلوکین و زخمیوں کی تعداد کی آفیشیل تصدیق کا انتظار کیا جا رہا ہے، حالانکہ میڈیا رپورٹس میں 7 ہلاکتوں کی اطلاع دی گئی ہے۔
دونوں اضلاع کے افسران موقع پر پہنچ کر راحت و بچاؤ کے کاموں پر نظر بنائے ہوئے ہیں۔ آس پاس کے گاؤں کے لوگ بھی موقع پر پہنچ چکے ہیں اور ملبہ ہٹانے میں مدد کر رہے ہیں۔ جہاں دھماکہ ہوا ہے، وہاں کئی گھر زمیں دوز ہو چکے ہیں۔ ملبہ ہٹا کر دبے ہوئے لوگوں کو نکالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ بتایا یہ بھی جا رہا ہے کہ دھماکہ والی جگہ پر اب بھی پٹاخے پھٹ رہے ہیں، جس کی وجہ سے لوگ جائے وقوع کے قریب نہیں جا پا رہے۔ فائر بریگیڈ کی گاڑیاں موقع پر پہنچ کر آگ بجھانے کا کام بہت احتیاط کے ساتھ کر رہی ہیں۔ کوشامبی ضلع کے ضلع مجسٹریٹ اور ایس پی بھی موقع پر پہنچ چکے ہیں۔
اس حادثہ میں درجن بھر سے زیادہ لوگوں کے جھلسنے اور ملبہ میں دبنے کی خبر ہے۔ موصولہ اطلاع کے مطابق لائسنس میں 10 کلو سے زیادہ بارود رکھنے کی اجازت نہیں ہوتی ہے، لیکن اتنا بڑا دھماکہ ہونے سے اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ کثیر مقدار میں بارود رکھا گیا تھا۔ اگر گاؤں کے پاس اس طرح پٹاخہ فیکٹری یا گودام آپریٹ کیا جا رہا تھا تو یہ سنگین جانچ کا موضوع ہے۔
مقامی لوگوں کے مطابق دھماکہ اتنا تھا کہ تقریباً 2 کلومیٹر تک اس کی گونج سنائی پڑی۔ دھماکہ کی آواز سن کر لوگ جہاں تھے، وہیں چھپ کر بیٹھ گئے۔ فی الحال پولیس اور دیگر جانچ ایجنسیوں کی ٹیمیں معاملے کی جانچ میں مصروف ہو گئی ہیں۔ اب سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ اتنی بڑی سطح پر پٹاخوں اور بارود کا ذخیرہ کس کی اجازت سے کیا جا رہا تھا اور اس خوفناک حادثہ کا ذمہ دار کون ہے؟ اس حادثہ کے بعد زخمیوں اور مہلوکین کے کنبوں پر غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
