قومی خبریں

تمل ناڈو: مچھلی پکڑنے پر عائد پابندی آج ختم، 61 دنوں بعد ماہی گیروں کی سمندر میں واپسی

ماہرین کا طویل عرصے سے یہ ماننا ہے کہ مچھلی پکڑنے پر سالانہ پابندی خلیج بنگال میں ماحولیاتی توازن برقرار رکھنے اور مچھلیوں کی پائیدار پیداوار کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

<div class="paragraphs"><p>تصویر/آئی اے این ایس</p></div>

تصویر/آئی اے این ایس

 

تمل ناڈو میں مچھلی پکڑنے پر عائد 61 روزہ پابندی اتوار (14 جون) کو ختم ہو رہی ہے۔ اس کے بعد ہزاروں ماہی گیر دوبارہ مچھلی پکڑنے کا کام شروع کرنے کی تیاریوں میں مصروف ہو گئے ہیں۔ واضح رہے کہ مرکزی حکومت نے 15 اپریل سے 14 جون تک مچھلی پکڑنے پر پابندی عائد کی تھی۔ حکومت کا مقصد مچھلیوں کی افزائش کے سب سے اہم دور میں ان کی نسل کو محفوظ رکھنا اور سمندری وسائل کو طویل عرصے تک برقرار رکھنا تھا۔

Published: undefined

2 ماہ کے وقفے کے دوران ماہی گیر اپنی کشتیوں کی مرمت، انجنوں کی درستگی اور مچھلی پکڑنے کے آلات کو ٹھیک کرنے میں مصروف رہے۔ حکومت کی جانب سے عائد پابندی 14 جون کی نصف شب کو ختم ہو جائے گی، جس کے بعد تمل ناڈو کے مختلف ماہی  گیری کی بندرگاہوں پر سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ ماہی گیر سمندر میں روانگی سے قبل آخری تیاریوں میں مصروف ہیں۔

Published: undefined

بندرگاہ کے افسران اور محکمہ ماہی پروری کی جانب سے بھی کام دوبارہ شروع کرنے کے لیے ضروری انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔ امکان ہے کہ 15 ہزار سے زیادہ مشینی کشتیوں کے ساتھ ایک لاکھ سے زائد ماہی گیر سمندر کا رخ کریں گے۔ اس میں چنئی کا کاسیمیڈو، تروولور، چنگل پٹو، ولّوپورم، کڈلور، تنجاور، ترووارور، ناگ پٹنم، مئیلا دوتھورائی، پڈوچیری، کاری کال، پڈوککوٹئی، رام ناتھ پورم، تھوتھوکوڈی، ترو نیل ویلی اور کنیا کماری کے ساحلی علاقے شامل ہیں۔

Published: undefined

پابندی ختم ہونے کے بعد مچھلی کے تاجروں، نیلامی کرنے والوں، ٹرانسپورٹرز اور سی فوڈ پروسیسنگ سے وابستہ ملازمین کو بھی کاروباری سرگرمیوں میں تیزی آنے کی امید ہے۔ ماہرین کا طویل عرصے سے یہ ماننا ہے کہ مچھلی پکڑنے پر سالانہ پابندی خلیجِ بنگال میں ماحولیاتی توازن برقرار رکھنے اور مچھلیوں کی پائیدار پیداوار کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

Published: undefined

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined