شری رام مندر ٹرسٹ کے سی ای او کے لیے ایک درخواست...اے جے فلپ
اے جے فلپ نے طنزیہ انداز میں مندر ٹرسٹ کے سی ای او کے عہدے کے لیے درخواست پیش کرتے ہوئے شفافیت، بہتر تنخواہوں، مالیاتی نظم، وی آئی پی کلچر کے خاتمے اور عالمی سطح کی ہندو یونیورسٹی کا خاکہ پیش کیا ہے

شری رام جنم بھومی تیرتھ کھیتر کے سربراہ کے نام اے جے فلپ کی ’درخواست‘ کے ترمیم شدہ اقتباسات:
محترم سوامی جی،
کیا میں شری رام جنم بھومی تیرتھ کشیتر کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) کے عہدے کے لیے درخواست دے سکتا ہوں؟ اہلیت کی شرائط دیکھنے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ چند خامیوں کے باوجود میں اس عہدے کے لیے موزوں امیدواروں میں شامل ہو سکتا ہوں۔
شروع ہی میں سب کچھ واضح کر دینا ضروری ہے۔ میری عمر 70 سال سے زیادہ ہو چکی ہے، لیکن امید ہے کہ یہ میری اہلیت کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنے گی۔ میں اب بھی وزیر اعظم نریندر مودی جی، قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈووال جی اور اتر پردیش کی گورنر آنندی بین پٹیل جی سے عمر میں چھوٹا ہوں۔
میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ درخواست گزار کا ہندو دھرم پر عمل کرنے والا ہونا ضروری ہے اور بہتر ہوگا کہ وہ ویشنو ہو۔ میں نے ایک ممتاز ہندو رہنما کو یہ کہتے ہوئے سنا تھا کہ یسوع مسیح کو بھی ہندو روایت میں تسلیم کیے جانے والے 33 کروڑ روپوں میں سے ایک سمجھا جا سکتا ہے۔ یہ ہندو دھرم کی جامع اور ہمہ گیر فطرت کی علامت ہے۔ ہندو روایات سے میرا بچپن ہی سے تعلق رہا ہے۔ مجھے یاد ہے کہ جب میرے والد مجھے ترواننت پورم کے شری پدم نابھ سوامی مندر لے جاتے تھے تو میں کس طرح ان کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑے رہتا تھا۔
کچھ لوگ پوچھ سکتے ہیں کہ میں خود کو ویشنو کیسے کہہ سکتا ہوں، تو میرے پاس اس کا جواب بھی ہے۔ بھگوان وشنو کا پہلا اوتار ’متسیہ‘ یعنی مچھلی تھا۔ عیسائیت کی ابتدائی ترین علامت صلیب نہیں بلکہ مچھلی تھی۔ اس اتفاق نے مجھے ہمیشہ متوجہ کیا ہے۔ مجھے نہیں لگتا کہ میری تقرری پر خود بھگوان رام کو بھی کوئی اعتراض ہوگا۔
رامائن انہیں ایک فاتح بادشاہ کے طور پر نہیں بلکہ ایک مثالی حکمران کے طور پر پیش کرتی ہے۔ رام راج کا حقیقی مطلب بھی یہی ہے: ایک ایسی ریاست جہاں انصاف غیر جانب دار ہو، انتظامیہ رحم دل ہو اور حکمران ہر شہری کے تئیں جواب دہ ہو۔ یہ بائبل میں بیان کیے گئے ’خدا کی بادشاہی‘ کے تصور جیسا ہے، جہاں طاقت نہیں بلکہ سچائی اور نیک کردار بنیادی اصول ہوتے ہیں۔
والد مجھے اکثر کئی ممتاز مندروں کی یاترا کے لیے بھی لے جاتے تھے۔ مجھے رامیشورم، متھرا، کاشی، سومناتھ، تروپتی، تنجاور، مدورئی، چامُنڈی، چدمبرم، کالڈی اور کئی دیگر مقامات پر جانے کا موقع ملا ہے۔ میں خود کو ماہر ہونے کا دعویٰ نہیں کرتا، لیکن میرے دل میں ان مقامات کے لیے ہمیشہ عاجزی اور احترام کا جذبہ رہا ہے۔ میں شری رام مندر سے وابستہ ہر روایت کا مزید تفصیل سے مطالعہ کروں گا۔
اپنی مذہبی اور روحانی اہلیت کے بارے میں بتانے کے بعد اب میں اس کام کے عملی پہلوؤں کی طرف آتا ہوں۔ میں سمجھ سکتا ہوں کہ اس عہدے کے ساتھ کابینہ درجے کا رتبہ اور اس سے وابستہ سہولتیں ملتی ہیں، لیکن یہ سب مجھے بالکل پرجوش نہیں کرتا۔ عہدے کی شان و شوکت کا انتظامی اصلاحات سے شاید ہی کوئی تعلق ہو۔
میرے لیے 50 ہزار سے ایک لاکھ روپے کے درمیان ٹیکس کے دائرے میں آنے والی تنخواہ کافی ہوگی۔ اس عہدے پر رہتے ہوئے میں اخبار سے متعلق کام، مشاورتی خدمات یا کوئی اور کاروباری سرگرمی نہیں کرنا چاہوں گا۔ میری پوری توجہ صرف مندر کے انتظام و انصرام پر ہوگی۔ مجھے معلوم ہے کہ مبینہ مالی بے ضابطگیوں کی وجہ سے سی ای او کی تقرری ضروری ہو گئی ہے۔ مجھے گھوٹالے سے زیادہ حیرت اس بات پر ہوئی کہ گرفتار کیے گئے 8 ملازمین میں سے 6 کی ماہانہ تنخواہ محض 12 ہزار سے 20 ہزار روپے کے درمیان تھی۔
ایسے ملازم سے مکمل دیانت داری کی توقع کرنا بے معنی ہے جو روزانہ بھاری مقدار میں نقد رقم سنبھالتا ہو اور اس کے باوجود انتہائی کم آمدنی میں اپنے خاندان کا پیٹ پالنے پر مجبور ہو۔ اداروں کو ایسے حالات پیدا کرنے سے گریز کرنا چاہیے جو غیر ضروری طور پر لالچ کو جنم دیں۔
میرا پہلا انتظامی فیصلہ یہ یقینی بنانا ہوگا کہ کسی بھی ملازم کو مرکزی حکومت اور اتر پردیش حکومت کی جانب سے مقرر کردہ کم از کم اجرت سے کم تنخواہ نہ ملے۔ سالانہ تنخواہ میں اضافہ، طبی سہولتوں، پروویڈنٹ فنڈ اور ریٹائرمنٹ کے بعد تحفظ کے ساتھ ایک مناسب تنخواہی ڈھانچہ تیار کیا جائے گا۔ ملازمین پر خاندان کا پیٹ پالنے کی فکر حاوی نہیں ہونی چاہیے۔
نذرانے کی گنتی اور حساب کتاب کا کام اسٹیٹ بینک آف انڈیا یا ٹرسٹ کی جانب سے منتخب کسی دوسرے سرکاری بینک کو سونپا جائے گا۔ بینکاری کے ماہرین بڑے پیمانے پر نقد رقم کے انتظام کو زیادہ بہتر طریقے سے سنبھالنے کے اہل ہوتے ہیں۔
گزشتہ روز جمع ہونے والی نقد رقم، سونا، چاندی اور دیگر قیمتی اشیا کی تفصیلات مندر کی سرکاری ویب سائٹ پر باقاعدگی سے اپ لوڈ کی جائیں گی۔ تمام عطیہ دہندگان کو ان کے عطیات کی رسیدیں دی جائیں گی۔ اندرونی آڈٹ رپورٹ ہر سہ ماہی شائع کی جائے گی۔ ہر مالی سال کے اختتام پر ٹرسٹ سے منظور شدہ مکمل آڈٹ شدہ حسابات عوام کے سامنے پیش کیے جائیں گے۔
عقیدہ اور شفافیت ایک دوسرے کی ضد نہیں ہیں، بلکہ ایک دوسرے کو مضبوط کرتے ہیں۔ نقد لین دین کو کم سے کم کیا جائے گا۔ پانچ ہزار روپے سے زیادہ کی ہر ادائیگی بینک ٹرانسفر، چیک یا کسی دوسرے منظور شدہ ڈیجیٹل طریقے سے کی جائے گی۔ ہندوستان ڈیجیٹل ادائیگی کے معاملے میں دنیا میں آگے ہے۔ ایودھیا اس سلسلے میں ایک مثال قائم کرے گی۔
ٹرسٹ کا اکاؤنٹ فارن کنٹریبیوشن ریگولیشن ایکٹ (ایف سی آر اے) کے تحت بھی آتا ہے۔ اس لیے ضابطوں کی پابندی کے حوالے سے کبھی کوئی تشویش نہیں ہونی چاہیے۔
کئی برس تک ایف سی آر اے کے تحت رجسٹرڈ ایک غیر سرکاری تنظیم کے سی ای او کی حیثیت سے میں نے اس بات کو یقینی بنایا کہ قانون کی ہر شق پوری طرح نافذ ہو۔ غیر ملکی عطیات کی وصولی یا استعمال کے حوالے سے کبھی کوئی سوال نہیں اٹھا۔ ہم نے نہ ٹیکس چوری کی حوصلہ افزائی کی اور نہ مالیاتی بے ضابطگی کو برداشت کیا۔ ایودھیا میں بھی انہی معیارات پر عمل کیا جائے گا۔ میری تجاویز کا ہرگز یہ مطلب یا اشارہ نہیں ہے کہ آپ ان اصولوں پر عمل نہیں کر رہے ہیں۔
میں ذاتی طور پر یہ اعلان کرتا ہوں:
اگر کبھی بھی میں یا میرے خاندان کا کوئی فرد مندر کا ایک روپیہ بھی لیتا ہوا پایا گیا تو میں کسی بھی سزا کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہوں۔ ایک بڑے سیاست دان نے اعلان کیا تھا کہ اگر وہ اپنا وعدہ پورا نہ کر سکے تو وہ زندہ جلنے کے لیے بھی تیار ہیں۔ میں ایسا کوئی وعدہ نہیں کر رہا۔ لیکن اتنا ضرور کہوں گا کہ عبادت گاہ سے چوری کرنے والا کوئی بھی شخص قانون اور عقیدے، دونوں کی توہین کرتا ہے۔
میرا ایک بڑا خواب بھی ہے۔ ہندوستان میں انسانیت کے لیے مشہور دنیا کی بعض سب سے مالا مال فلسفیانہ روایات موجود ہیں۔ اس کے باوجود ہندو مذہبی تعلیم کے میدان میں ایسے کسی ادارے کی کمی ہے جو دوسرے مذاہب کے بہترین مذہبی تعلیمی اداروں اور یونیورسٹیوں کا مقابلہ کر سکے۔ ہندو معاشرہ ہندو فلسفے، دھرم شاستر اور مندر مطالعات پر مرکوز ایک عالمی معیار کی یونیورسٹی کیوں قائم نہیں کر سکتا؟
اس سے سنسکرت کو وہ احترام ملے گا جس کی وہ مستحق ہے۔ ہم سنسکرت کے ایسے اسکالر تیار کریں گے جو محض اشلوک رٹنے کے بجائے دنیا کی بہترین یونیورسٹیوں کے ساتھ علمی مکالمہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ تقابلی مذہبیات کو بھی نصاب کا حصہ بنایا جانا چاہیے۔ سوامی وویکانند نے دکھایا تھا کہ مختلف مذہبی روایات کس طرح مکالمے کے ذریعے ایک دوسرے کو مالا مال کر سکتی ہیں۔ میں ایک غیر ہندو مذہبی رہنما کو جانتا ہوں جنہوں نے شری نارائن گرو پر ڈاکٹریٹ کی ہے۔ علم اور تحقیق کی کوئی مذہبی حد تو ہوتی نہیں۔
اگست 2024 میں ایودھیا مندر کے اپنے دورے کے دوران مجھے خاصی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا، کیونکہ کسی وی آئی پی دورے کی وجہ سے سڑکیں بند کر دی گئی تھیں۔ سکیورٹی سے متعلق امور کا احترام اپنی جگہ درست ہے، لیکن یہ بھی ضروری ہے کہ عام یاتریوں کو پریشانی نہ ہو۔
آئینی عہدیداروں اور وی آئی پی سکیورٹی کے لیے الگ داخلے کا انتظام کیا جائے گا۔ اس زمرے میں کون کون لوگ شامل ہوں گے، یہ عوامی طور پر واضح کیا جائے گا اور چاہے وہ کتنے ہی بڑے عہدے پر کیوں نہ ہوں، باقی تمام لوگوں کو صبر کے ساتھ قطار میں کھڑا ہونا ہوگا۔ ٹیکنالوجی کا استعمال غیر ضروری انتظار ختم کر سکتا ہے۔ قطار کے انتظام کا نظام عقیدت مندوں کو بالکل درست طور پر بتا سکتا ہے کہ انہیں درشن کے لیے کب آنا چاہیے۔ تروپتی میں ایسا نظام موجود ہے، جسے مزید بہتر بنایا جا سکتا ہے۔
میں ٹرسٹ کو ’حق اطلاعات قانون‘ کے دائرے میں لانے کا خیرمقدم کروں گا۔ اگر ایسا نہ بھی ہوا تو بھی رضاکارانہ طور پر شفافیت اختیار کرنے کی حمایت کروں گا۔ دیانت دار اداروں کو کچھ بھی چھپانے کی ضرورت نہیں ہوتی۔
آخر میں...
مجھے نہ شہرت چاہیے اور نہ اقتدار۔ میری خواہش صرف اتنی ہے کہ ایودھیا نہ صرف یاترا کا سب سے بڑا مرکز بنے بلکہ ہندو فلسفے، علم و دانش اور عوامی خدمت کے ایک عالمی مرکز کے طور پر بھی ابھرے۔ یہ سب کرنے کے لیے مندر کے پاس کافی وسائل موجود ہیں۔
سوامی جی، یہ چند خیالات ہیں جو میں آپ کے سامنے پیش کر رہا ہوں۔ اگر آپ میری تقرری کرتے ہیں تو میں پوری ایمانداری کے ساتھ انہیں نافذ کرنے کی کوشش کروں گا۔ مجھے خوشی ہوگی اگر مستقبل کا کوئی سی ای او بھگوان رام کی عظمت کو بڑھانے کے لیے ان میں سے کچھ تجاویز کو اختیار کرے۔
آپ کا،
اے جے فلپ
بشکریہ: انڈین کرنٹس
