
سپریم کورٹ / آئی اے این ایس
عام لوگوں کی پریشانیوں سے متعلق معاملات کو اب سپریم کورٹ میں ترجیح دی جائے گی۔ چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی) سوریہ کانت کی ہدایت پر سپریم کورٹ انتظامیہ نے ایک نیا نظام نافذ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’عام لوگوں کی آزادی کا سوال ہو یا فوری طور پر عبوری ضمانت کا مطالبہ کیا گیا ہو۔ ایسے معاملات کی تصدیق اور غلطی کے اصلاح کے بعد 2 کام کے دنوں کے اندر مرکزی یا ضمنی فہرست میں شامل کیا جائے گا۔‘‘
Published: undefined
سپریم کورٹ نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ باقاعدہ ضمانت، پیشگی ضمانت، اور ضمانت کی منسوخی سے متعلق تمام معاملات متعلقہ نوڈل افسر یا حکومت ہند، ریاستی حکومت، یا مرکز کے زیر انتظام علاقے کے اسٹینڈنگ کونسل کو بھیجے جائیں۔ ان مقدمات میں ایک علیحدہ درخواست داخل کرنا ہوگا، جس کے بغیر نہ تو مقدمہ کی تصدیق ہوگی اور نہ ہی عدالت میں درج ہوگا۔ سپریم کورٹ کے اس اقدام کا مقصد عوامی مفاد سے متعلق معاملات کی سماعت میں تیزی اور سہولت فراہم کرنا ہے۔
Published: undefined
سپریم کورٹ نے نئے مقدمات کی فہرست کے لیے مقررہ شیڈول بھی جاری کر دیا ہے۔ اب منگل، بدھ اور جمعرات کو تصدیق شدہ مقدمے آئندہ پیر کو درج کیے جائیں گے۔ جمعہ، ہفتہ اور پیر کو تصدیق شدہ مقدمے آئندہ جمعہ کو درج کیے جائیں گے۔ نئے نظام کے تحت، نئے مقدمات خود بخود درج ہو جائیں گے، اور مدعیان کو عدالت میں اپنے مقدمات کا ذکر کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی، جیسا کہ پہلے ہوتا رہا ہے۔ سپریم کورٹ نے واضح کیا ہے کہ مذکورہ زمرے کے مقدمات کے لیے کسی بھی قسم کی سفارش قبول نہیں کی جائے گی۔
Published: undefined
دوسری جانب سپریم کورٹ نے جہیز کے نظام کے حوالے سے بھی سخت تبصرے کیے ہیں۔ عدالت کا کہنا ہے کہ شادی، جسے کبھی ہندوستانی معاشرے میں سب سے مقدس بندھن سمجھا جاتا تھا، جہیز کی وجہ سے ایک تجارتی لین دین بن گیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ جدید دور میں لوگ شادی کو تحائف، پیسے اور دکھاوے کے ساتھ جوڑتے ہیں، جس سے رشتے کی روح کمزور ہوتی ہے۔ جہیز کو بڑی چالاکی سے تحفہ یا روایت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ لالچ کی شکل اختیار کر چکا ہے۔
Published: undefined
سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ شادی محبت، اعتماد اور مساوات پر مبنی ہونی چاہیے۔ ساتھ ہی عدالت نے ملک کے نوجوانوں، والدین اور سماجی تنظیموں سے جہیز کے خلاف ماحول بنانے کے لیے مل کر کام کرنے کی اپیل کی ہے۔ اس کے بغیر نہ تو جہیز کی وجہ سے اموات رکیں گی اور نہ ہی خواتین پر مظالم کم ہوں گے۔ عدالت نے واضح پیغام دیا ہے کہ جہیز تب ہی ختم ہوگا جب ہم کھل کر اس کی مخالفت کریں گے اور اسے رواج نہیں بلکہ برائی کے طور پر تسلیم کریں گے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined