
آسارام / آئی اے این ایس
نئی دہلی: سپریم کورٹ نے نابالغ لڑکی کے ساتھ جنسی زیادتی کے مقدمے میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے آسارام کی عبوری ضمانت کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے راجستھان حکومت کو ہدایت دی ہے کہ وہ ان کی طبی حالت سے متعلق تازہ رپورٹ عدالت میں پیش کرے۔ عدالت نے واضح کیا ہے کہ اگر طبی رپورٹ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ آسارام کی صحت واقعی تشویشناک ہے تو علاج کی غرض سے محدود مدت کے لیے عبوری ضمانت دینے پر غور کیا جا سکتا ہے۔
آسارام نے خراب صحت کا حوالہ دیتے ہوئے سپریم کورٹ سے کچھ عرصے کے لیے عبوری ضمانت دینے کی درخواست کی ہے۔ سماعت کے دوران عدالت نے کہا کہ وہ اس بات کو یقینی بنانا چاہتی ہے کہ کسی بھی قیدی کو صحت کے معاملے میں مناسب طبی سہولیات میسر ہوں اور اگر واقعی طبی بنیادیں موجود ہوں تو قانون کے دائرے میں مناسب فیصلہ کیا جا سکے۔
راجستھان حکومت کی جانب سے پیش ہوئے سالیسیٹر جنرل تشار مہتا نے عدالت کو بتایا کہ فی الحال آسارام کی صحت کی حالت مستحکم ہے۔ انہوں نے کہا کہ تقریباً تین ماہ قبل آسارام ایودھیا اور کاشی وشوناتھ کے دورے پر گئے تھے، جہاں انہوں نے پیدل چل کر مختلف مقامات کے درشن کیے تھے، جس سے ان کی جسمانی حالت کے بارے میں بعض سوالات پیدا ہوتے ہیں۔
تشار مہتا نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ حکومت متعلقہ حکام سے آسارام کی تازہ طبی رپورٹ اور دیگر ضروری معلومات حاصل کرکے مقررہ وقت کے اندر عدالت کے سامنے پیش کرے گی۔ اس کے بعد ہی ان کی صحت سے متعلق حقیقی صورت حال واضح ہو سکے گی۔
سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے یہ بھی کہا کہ اگر طبی رپورٹ سے معلوم ہوتا ہے کہ آسارام کی حالت سنگین ہے تو عدالت نہیں چاہتی کہ ان کے ساتھ کسی قسم کی ناخوشگوار صورت حال پیش آئے۔ اسی لیے ضرورت پڑنے پر صرف علاج کے مقصد سے محدود مدت کے لیے عبوری ضمانت دینے کے امکان پر غور کیا جا سکتا ہے۔
عدالت نے راجستھان حکومت کو ہدایت دی ہے کہ وہ 21 جولائی تک اپنا جواب اور طبی رپورٹ داخل کرے۔ اس رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد ہی سپریم کورٹ آسارام کی عبوری ضمانت کی درخواست پر کوئی حتمی فیصلہ کرے گی۔
واضح رہے کہ سال 2013 میں جودھ پور واقع اپنے آشرم میں ایک نابالغ لڑکی کے ساتھ جنسی زیادتی کے الزام میں آسارام کو یکم ستمبر 2013 کو گرفتار کیا گیا تھا۔ طویل عدالتی کارروائی کے بعد اپریل 2018 میں جودھ پور کی خصوصی عدالت نے انہیں قصوروار قرار دیتے ہوئے عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ اس کے بعد سے وہ جیل میں قید ہیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔