امریکی صدر ٹرمپ کا ٹیلی پرامپٹر آپریٹر چھٹی پر بھیجا گیا، صدارتی تقریروں پر سٹہ بازی کا الزام!

وائٹ ہاؤس کی پریس سکریٹری کیرولین لیویٹ نے کہا کہ صدر ٹرمپ کو اس صورت حال کی معلومات ہے۔ انہوں نے اسے بدقسمتی اور شرم ناک قرار دیا ہے۔

ڈونالڈ ٹرمپ، تصویر یو این آئی
i

16 جولائی، یعنی جمعرات کو وائٹ ہاؤس کی جانب سے بتایا گیا کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ٹیلی پرامپٹر آپریٹر کو بغیر تنخواہ والی چھٹی پر بھیج دیا گیا ہے۔ اس پر وائٹ ہاؤس کے اندر کی معلومات کا استعمال کرتے ہوئے آن لائن پیش گوئی مارکیٹ ’کالشی‘ پر صدر کی تقریروں کو لے کر سٹہ بازی کرنے کا الزام ہے۔ کمپنی کے انفورسمنٹ چیف نے بتایا کہ کالشی نے اس معاملے کے بارے میں وفاقی ریگولیٹرز سے رابطہ کیا تھا۔ کالشی کی جانب سے حکام کو بتایا گیا کہ صدر کی عوامی تقریروں میں کن باتوں کا ذکر کیا جائے گا، اس حوالے سے اس کے پورٹل پر سٹہ بازی کی جا رہی تھی۔

وائٹ ہاؤس کی پریس سکریٹری کیرولین لیویٹ نے کہا کہ صدر ٹرمپ کو اس صورت حال کی معلومات ہے۔ انہوں نے اسے بدقسمتی اور شرم ناک قرار دیا ہے۔ لیویٹ نے صحافیوں سے کہا کہ اس طرح کے معاملات سے متعلق وائٹ ہاؤس کے قواعد و ضوابط بہت سخت ہیں اور متعلقہ ملازم کو بغیر تنخواہ کی چھٹی پر بھیج دیا گیا ہے۔


’اے بی سی نیوز‘ نے جمعرات کو اس بارے میں رپورٹ دیتے ہوئے مطلع کیا کہ 2016 سے ٹرمپ کے ٹیلی پرامپٹر کو آپریٹ کرنے والے گیبریل پیریز نے وائٹ ہاؤس کے اندر کی معلومات کا استعمال کر کے ایک لاکھ ڈالر سے زیادہ کی رقم جیتی۔ اس نے ٹرمپ کی اہم تقریروں میں کہے جانے والے الفاظ پر سٹہ لگایا تھا۔ اس میں رواں سال کے آغاز میں دی گئی ’اسٹیٹ آف دی یونین‘ تقریر بھی شامل ہے۔

کالشی کے وکیل اور انفورسمنٹ ہیڈ رابرٹ ڈینالٹ نے ’ایکس‘ پر کہا کہ ’’کالشی کی نگرانی کرنے والی ٹیم نے فوری طور پر ان ٹریڈز کی شناخت کی، ان کی تحقیقات کیں اور انہیں امریکی کموڈیٹی فیوچرز ٹریڈنگ کمیشن کے حوالے کر دیا۔‘‘ تاہم، ان کے بیان میں پیریز کا نام نہیں لیا گیا۔ ڈینالٹ نے مزید کہا کہ ’’ہم اس معاملے میں ریگولیٹرز کی مدد کر رہے ہیں اور ہم نے جو بھی شواہد جمع کیے ہیں، وہ انہیں سونپ دیے ہیں، جیسا کہ ہم کسی بھی ریفرل کے معاملے میں کرتے ہیں۔‘‘


دلچسپ بات یہ ہے کہ اے بی سی نے اب اپنی رپورٹ میں پورے معاملے کو نام کے ساتھ ظاہر کر دیا ہے۔ اے بی سی نے اپنی رپورٹ ایسے کئی ذرائع کی بنیاد پر تیار کی ہے، جنہیں اس معاملے کی معلومات ہیں، لیکن انہوں نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط رکھی تھی۔ اے بی سی کی رپورٹ میں کالشی کی مارکیٹ میں مشتبہ سرگرمی کا ذکر کیا گیا ہے، جہاں صارفین اس بات پر سٹہ لگا سکتے ہیں کہ عوامی تقریروں میں کون سے فقرے اور خاص الفاظ استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

ذرائع کے مطابق رواں سال فروری میں ہونے والی ’اسٹیٹ آف دی یونین‘ تقریر کے علاوہ سی ایف ٹی سی کے تفتیش کاروں کو معلوم ہوا کہ پیریز نے 3 ماہ کی مدت کے دوران ٹرمپ کی ایک درجن سے زیادہ تقریروں پر سٹہ لگایا تھا۔ ان میں دسمبر 2025 کی پرائم ٹائم تقریر، جنوری میں سوئٹزرلینڈ میں ورلڈ اکنامک فورم میں دی گئی تقریر اور مارچ میں ’میڈل آف آنر‘ تقریب کے دوران ٹرمپ کے تبصرے شامل تھے۔


قابل ذکر ہے کہ مارچ ہی میں وائٹ ہاؤس نے عملے کے لیے ایک داخلی میمو جاری کر کے انہیں خبردار کیا تھا کہ وہ پیش گوئی مارکیٹ میں سٹہ لگانے کے لیے ایسی معلومات کا استعمال نہ کریں جو عوامی طور پر دستیاب نہ ہوں۔ ٹرمپ کی پہلی صدارتی انتخابی مہم کے زمانے سے ہی پیریز ان کے ٹیلی پرامپٹر آپریٹرز میں سے ایک رہے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے تمام قریبی ساتھیوں میں پیریز ہی عام طور پر صدر کی تیار کردہ تقریروں کو آخری بار دیکھتے ہیں۔ اکثر ٹرمپ سے آخری وقت میں تبدیلیاں بھی کرواتے ہیں۔ اس سے پہلے 6 جنوری 2021 کو امریکی کیپٹل پر ہوئے حملے کے وقت ٹرمپ کی تقریروں میں کی گئی تبدیلیوں کے حوالے سے کانگریس اور وفاقی تفتیش کاروں نے ان سے پوچھ گچھ کی تھی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔