قومی خبریں

کانگریس لیڈر پون کھیڑا کی پیشگی ضمانت کی عرضی پر سپریم کورٹ نے فیصلہ محفوظ رکھ لیا

24 اپریل کو گواہاٹی ہائی کورٹ نے پون کھیڑا کی پیشگی ضمانت کی عرضی خارج کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے ایک غیر سیاسی خاتون پر بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے الزامات عائد کیے۔

<div class="paragraphs"><p>سپریم کورٹ آف انڈیا / آئی اے این ایس</p></div>

سپریم کورٹ آف انڈیا / آئی اے این ایس

 

کانگریس لیڈر پون کھیڑا کی پیشگی ضمانت کی عرضی پر سپریم کورٹ نے اپنا فیصلہ محفوظ رکھ لیا ہے۔ پون کھیڑا نے گواہاٹی ہائی کورٹ سے پیشگی ضمانت کی عرضی خارج ہونے کے بعد سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔ معاملہ آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما کی اہلیہ پر پون کھیڑا کی طرف سے عائد کیے گئے الزامات کے باعث ان کے خلاف درج ایف آئی آر سے متعلق ہے۔

Published: undefined

واضح رہے کہ 24 اپریل کو گواہاٹی ہائی کورٹ نے پون کھیڑا کی پیشگی ضمانت کی عرضی خارج کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے ایک غیر سیاسی خاتون پر بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے الزامات عائد کیے۔ وہ ثابت نہیں کر سکے کہ خاتون کے پاس 3 ممالک کا پاسپورٹ ہے۔ انہوں نے جس طرح کی فرضی دستاویزات دکھائیں، ان کے ذرائع کے بارے میں پتہ لگانے کے لیے ان سے حراست میں پوچھ تاچھ ضروری ہو سکتی ہے۔

Published: undefined

اس حکم کے خلاف سپریم کورٹ پہنچے پون کھیڑا کی طرف سے سینئر وکیل ابھیشیک منو سنگھوی نے جرح کی۔ جسٹس جے کے مہیشوری اور جسٹس اتُل ایس چندُرکر کی بنچ کے سامنے سنگھوی نے بار بار آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما کی طرف سے دیے جا رہے بیانات کا تذکرہ کیا۔ سنگھوی نے کہا کہ ’’ریاست کا وزیر اعلیٰ پیڑا بنا دوں گا اور زندگی بھر جیل میں رکھوں گا جیسی باتیں کر رہا ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ معاملے میں گرفتاری ضروری نہ ہونے کے باوجود، محض تذلیل کرنے کی غرض سے کھیڑا کو حراست میں لینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔‘‘

Published: undefined

ابھیشیک منو سنگھوی نے عدالت میں ’اے بی پی نیوز‘ کو دیے گئے ہیمنت بسوا سرما کے ایک حالیہ انٹرویو کا بھی تذکرہ کیا۔ سنگھوی نے کہا کہ وزیر اعلیٰ نے اس انٹرویو کے ذریعہ پولیس پر بھی دباؤ ڈالا۔ انہوں نے کہا کہ پولیس نے کھیڑا کو آسام سے جانے کیسے دیا؟ 4 مئی کو انتخابی نتائج کے بعد پولیس افسران کی جوابدہی طے کروں گا۔ ساتھ ہی سنگھوی نے آسام پولیس کے تقریباً 60 اہلکار کے دہلی میں کھیڑا کے گھر پر پہنچنے کی بات بھی عدالت کو بتائی۔

Published: undefined

قابل ذکر ہے کہ ابھیشیک منو سنگھوی کے دلائل کا جواب دیتے ہوئے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے کہا کہ یہ کوئی عام معاملہ نہیں ہے۔ جعلی سرکاری دستاویزات تیار کی گئیں، دوسرے ممالک کی جعلی سرکاری مہریں بنائی گئیں۔ ان سب کے لیے بی این ایس کی دفعہ 339 کے تحت عمر قید تک کی سزا ہو سکتی ہے۔ ایسے میں ملزم کو حراست میں لے کر پوچھ تاچھ ضروری ہے۔ یہ پتہ کرنا ہوگا کہ اسے یہ دستاویزات کس نے دیں؟ کیا اس میں کوئی غیر ملکی ہاتھ ہے؟ اور اس کے پیچھے کا مقصد کیا تھا؟

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined