
سپریم کورٹ آف انڈیا / آئی اے این ایس
نئی دہلی: سپریم کورٹ نے انتخابات سے قبل سیاسی جماعتوں کی جانب سے مفت اعلانات اور مفت اسکیموں کے وعدوں پر پابندی عائد کرنے کی مانگ والی ایک نئی عرضی کو مسترد کر دیا ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اس موضوع سے متعلق دیگر معاملات پہلے ہی اس کے روبرو زیرِ سماعت ہیں، اس لیے اسی نوعیت کی ایک اور عرضی پر الگ سے سماعت کرنا مناسب نہیں ہوگا۔
Published: undefined
یہ عرضی اس بنیاد پر دائر کی گئی تھی کہ سیاسی جماعتیں انتخابی مہم کے دوران عوام کو متاثر کرنے کے لیے سرکاری وسائل کے استعمال کے وعدے کرتی ہیں، جنہیں بعض حلقوں میں عام طور پر ’ریوڑیاں‘ بھی کہا جاتا ہے۔ عرضی گزار کا مؤقف تھا کہ اس طرح کے وعدے انتخابی عمل کی شفافیت کو متاثر کرتے ہیں اور انہیں بدعنوان طرزِ عمل کے زمرے میں شمار کیا جانا چاہیے، کیونکہ یہ ووٹروں کو براہِ راست متاثر کرنے کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔
عرضی میں عدالت سے یہ بھی مانگ کی گئی تھی کہ الیکشن کمیشن کو ہدایت دی جائے کہ وہ سیاسی جماعتوں کی جانب سے کیے جانے والے ایسے وعدوں پر سختی سے روک لگائے اور اس سلسلے میں واضح رہنما اصول طے کرے۔ مزید یہ کہ جو جماعتیں ان اصولوں کی خلاف ورزی کریں، ان کے خلاف مؤثر کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ انتخابی عمل کی غیر جانب داری برقرار رکھی جا سکے۔
Published: undefined
اس کے ساتھ ساتھ عرضی میں ایک اہم تجویز یہ بھی پیش کی گئی تھی کہ سیاسی جماعتوں کو اپنے انتخابی منشور کے ساتھ یہ وضاحت دینا لازمی قرار دیا جائے کہ وہ جن مفت اسکیموں یا سہولیات کا اعلان کر رہی ہیں، ان کے لیے مالی وسائل کہاں سے حاصل کیے جائیں گے۔ عرضی گزار کے مطابق اس اقدام سے مالی شفافیت کو فروغ ملے گا اور عوام کو یہ سمجھنے میں آسانی ہوگی کہ ان وعدوں کی عملی حیثیت کیا ہے۔
مزید برآں، عرضی میں یہ مطالبہ بھی شامل تھا کہ ایسے تمام انتخابی اعلانات کا آڈٹ کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل آف انڈیا کے ذریعے کرایا جائے، تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ سرکاری وسائل کا غلط استعمال نہ ہو اور عوامی خزانے پر غیر ضروری بوجھ نہ پڑے۔ اس تجویز کا مقصد مالی نظم و ضبط کو یقینی بنانا اور جواب دہی کے نظام کو مضبوط کرنا بتایا گیا۔
Published: undefined
تاہم سپریم کورٹ نے ان تمام نکات پر علیحدہ سے غور کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ چونکہ اسی نوعیت کے سوالات پہلے ہی عدالت میں زیرِ غور ہیں، اس لیے نئی عرضی کو قبول کرنا ضروری نہیں ہے۔ عدالت کے اس فیصلے کے بعد یہ واضح ہو گیا ہے کہ مفت اعلانات کے مسئلے پر آئندہ کی سماعتیں انہی مقدمات کے دائرے میں جاری رہیں گی جو پہلے سے زیرِ التوا ہیں۔ یہ مسئلہ گزشتہ کچھ عرصے سے سیاسی اور عوامی حلقوں میں زیرِ بحث ہے۔ ایک جانب اسے عوامی فلاح کے اقدامات کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، جبکہ دوسری جانب ناقدین اسے مالی بوجھ اور انتخابی اثراندازی کا ذریعہ قرار دیتے ہیں۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined