بھرت تیواری کیس نے سمراٹ حکومت کو گھیرا، بہار انصاف مانگ رہا ہے!

کچھ لوگ بھرت تیواری کو مجرم سمجھتے ہیں تو کچھ اسے غریبوں کا مسیحا اور نظام کے خلاف آواز اٹھانے والا انقلابی کہتے ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>فائل تصویر آئی اے این ایس</p></div>
i

بہار میں بھرت تیواری انکاؤنٹر کیس نے اب ایک بڑا سماجی اور سیاسی روپ اختیار کر لیا ہے۔ اسی تناظر میں کل بھرت تیواری کے گاؤں بلوٹی میں کل جماعتی مہاپنچایت کا انعقاد کیا گیا، جس میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔ اس مہاپنچایت میں برہمن برادری کے لوگ، کئی سماجی تنظیموں اور مختلف سیاسی جماعتوں کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔ مہاپنچایت کا بنیادی مقصد بھرت تیواری کو انصاف فراہم کرانا اور مبینہ فرضی انکاؤنٹر کی حقیقت کو سامنے لانا تھا۔

حامیوں نے گاؤں کے بورڈ پر "شہید بھرت نگر" لکھ کر اپنے احتجاج اور احترام دونوں کا مظاہرہ کیا۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ بھرت تیواری گاؤں اور سیلاب زدگان کے لیے لڑے تھے، اس لیے انھیں شہید کا درجہ ملنا چاہیے اور گاؤں کا نام بھی ان کے نام پر رکھا جانا چاہیے۔


نیوز پورٹل ’اے بی پی ‘ پر شائع خبر کے مطابق 17 جون کو بہار پولیس نے بھرت تیواری کا انکاؤنٹر کیا تھا۔ پولیس کی کارروائی کے فوراً بعد گھر والوں نے اسے فرضی قرار دیتے ہوئے سنگین الزامات لگائے۔ انہوں نے کہا کہ بھرت تیواری نے ہتھیار ڈال دیے تھے پھر بھی انہیں گولی مار دی گئی۔ یہ سوال اب تحریک کا مرکز بن چکا ہے۔ اگر اس نے ہتھیار ڈال دیے تھے تو پھر اسے کیوں مارا گیا؟

مہاپنچایت میں شریک لوگوں کا ایک ہی مطالبہ تھا - بھرت تیواری کو انصاف ملنا چاہیے اور قصوروار پولیس اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کی جانی چاہیے۔ اس دوران تین بڑے مطالبات سامنے آئے۔ سب سے پہلے، انکاؤنٹر کی غیر جانبدارانہ اور عدالتی تحقیقات؛ دوسرا، قصوروار پولیس افسران کے خلاف سخت کارروائی؛ اور تیسرا، سیلاب سے متاثرہ دیہات کے مسائل کا حل۔ اس سارے معاملے میں جذباتی پہلو بھی بہت مضبوط تھا۔


مہاپنچایت میں بھرت تیواری کی ماں نے روتے ہوئے اپنے بیٹے کے لیے انصاف کی التجا کی اور کہا کہ جس نے بھی اس کے بیٹے کو قتل کیا ہے اسے پھانسی دی جانی چاہیے۔ ان کی اپیل نے وہاں موجود لوگوں کو جذباتی کر دیا اور تحریک کو مزید تیز کر دیا۔ دراصل یہ معاملہ اس وقت شروع ہوا جب بھرت تیواری نے فیس بک لائیو کے ذریعے سسٹم کو ہتھیاروں کے ساتھ کھلا چیلنج کیا۔ اس کے بعد 16 جون کو پولیس نے اسے ذہنی طور پر بیمار قرار دیا لیکن اگلے دن 17 جون کو اسی شخص کا سامنا ہوا۔ یہ تضاد اب سب سے بڑا سوال بن چکا ہے۔

بھرت تیواری کے بارے میں لوگوں کی رائے بھی دو حصوں میں منقسم ہے۔ کچھ لوگ اسے مجرم مان رہے ہیں، جب کہ مہاپنچایت میں جمع بھیڑ انہیں غریبوں کا مسیحا اور نظام کے خلاف آواز اٹھانے والا انقلابی قرار دے رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب یہ معاملہ محض انکاؤنٹر نہیں رہا بلکہ ایک عوامی تحریک کی شکل اختیار کر چکا ہے۔


روہنی اچاریہ سے لے کر پرشانت کشور تک کئی لیڈروں نے حکومت پر سوال اٹھائے ہیں اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ مجموعی طور پر، بھرت تیواری انکاؤنٹر نے اب ایک بڑے سیاسی اور سماجی تنازعہ کی شکل اختیار کر لیا ہے۔ سوال صرف ایک شخص کی موت کا نہیں ہے، بلکہ قانون، نظام اور انصاف کے نظام کی ساکھ کا ہے۔ اب سب کی نظریں عدالتی تحقیقات پر ہیں-

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔