جوہری تنصیبات کے معائنے پر ایران کا سخت مؤقف برقرار، حتمی معاہدے سے پہلے رسائی سے انکار
ایران نے واضح کیا ہے کہ جوہری تنصیبات تک رسائی اور معائنہ صرف حتمی معاہدے کے بعد ہی ممکن ہوگا۔ تہران نے آئی اے ای اے سربراہ کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے پابندیوں کے خاتمے کو بھی شرط قرار دیا

تہران: ایران نے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کی جانب سے جوہری تنصیبات کے معائنے سے متعلق مطالبات پر سخت مؤقف برقرار رکھتے ہوئے واضح کیا ہے کہ حتمی معاہدے سے پہلے کسی بھی جوہری مرکز تک رسائی نہیں دی جائے گی۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ معائنے اور رسائی سے متعلق تمام فیصلے صرف ایک جامع معاہدے اور پابندیوں کے خاتمے کے بعد ہی ممکن ہوں گے۔
ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے آئی اے ای اے کے سربراہ رافیل ماریانو گروسی کے حالیہ بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ جن جوہری تنصیبات پر حملے ہوئے تھے یا جہاں جوہری مواد موجود ہے، وہاں فی الحال معائنہ کاروں کو رسائی دینے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ ان کے مطابق ان معاملات پر غور صرف حتمی معاہدے کے فریم ورک کے اندر کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ایران اس معاملے میں واضح شرائط رکھتا ہے جن میں تمام پابندیوں اور دیگر تعزیری اقدامات کے خاتمے کے لیے عملی اور قابلِ تصدیق اقدامات شامل ہیں۔ کاظم غریب آبادی کے مطابق میڈیا بیانات یا سیاسی دباؤ کے ذریعے ایران کو اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔
ایرانی نائب وزیر خارجہ نے یہ بھی بتایا کہ آئی اے ای اے سربراہ کی خواہش کے باوجود سوئٹزرلینڈ میں ان کے ساتھ کوئی ملاقات نہیں ہوئی۔ انہوں نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ ایران نے حالیہ دنوں میں جوہری تنصیبات کے معائنے کے لیے کوئی نئی آمادگی ظاہر کی ہے۔
اس سے قبل جاپان کی راجدھانی ٹوکیو میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے رافیل ماریانو گروسی نے کہا تھا کہ ایران کی جوہری تنصیبات کا معائنہ لازمی طور پر ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ آج ہو، چند دن بعد ہو یا ایک ہفتے کے اندر، لیکن بالآخر یہ عمل انجام پائے گا۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک حالیہ بیان میں دعویٰ کیا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان بعض معاملات پر رابطے جاری ہیں اور دونوں فریق چند اہم نکات پر پیش رفت کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ بعض اطلاعات کے برخلاف امریکہ نے ابھی تک ایران کے منجمد اثاثے جاری نہیں کیے ہیں، تاہم مستقبل میں محدود مالی وسائل جاری کیے جا سکتے ہیں تاکہ انسانی ضروریات پوری کی جا سکیں۔
اگرچہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان بعض معاملات پر سفارتی رابطوں کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، لیکن جوہری تنصیبات کے معائنے کے معاملے میں ایران نے کسی قسم کی نرمی کے آثار نہیں دکھائے ہیں۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ جب تک پابندیوں کے خاتمے اور باہمی ذمہ داریوں سے متعلق جامع معاہدہ طے نہیں پا جاتا، آئی اے ای اے کو حساس جوہری مراکز تک رسائی نہیں دی جائے گی۔
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بھی اس مؤقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ معائنے کے حوالے سے نہ کوئی وقت طے کیا گیا ہے اور نہ ہی آئی اے ای اے کے ساتھ کسی نئی ملاقات کا فیصلہ ہوا ہے۔ ان کے مطابق اس معاملے پر پھیلائی جانے والی قیاس آرائیاں حقیقت کی عکاسی نہیں کرتیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
