قومی خبریں

رام مندر چندہ چوری معاملہ پر سپریم کورٹ میں سماعت اگلے ہفتے تک ملتوی

ایودھیا کے رام مندر میں چندے کی مبینہ چوری کی آزادانہ تحقیقات سے متعلق 4 عرضیوں پر سپریم کورٹ میں سماعت ملتوی ہو گئی۔ دراصل، یوپی حکومت نے سالیسٹر جنرل کی عدم دستیابی کا حوالہ دیا تھا

<div class="paragraphs"><p>سپریم کورٹ آف انڈیا</p></div>

سپریم کورٹ آف انڈیا

 

نئی دہلی: ایودھیا کے شری رام مندر میں چندے اور چڑھاوے کی مبینہ چوری اور مالی بے ضابطگیوں کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کرنے والی 4 عرضیوں پر سپریم کورٹ میں پیر کو ہونے والی سماعت ملتوی ہو گئی۔ عدالت اب اس معاملے کی سماعت اگلے ہفتے کرے گی۔

سماعت کے دوران اتر پردیش حکومت کی جانب سے معاملے کو دو ہفتے کے لیے ملتوی کرنے کی درخواست کی گئی۔ حکومت کی طرف سے بتایا گیا کہ اس معاملے میں پیش ہونے والے سالیسٹر جنرل تشار مہتا دستیاب نہیں ہیں، اس لیے سماعت کو آگے بڑھایا جائے۔ جس کے بعد عدالت نے معاملے کی سماعت اگلے ہفتے تک ملتوی کر دی۔

یہ معاملہ ایودھیا کے رام مندر سے متعلق چڑھاوے اور اس سے جڑے مالی معاملات میں مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات سے متعلق ہے۔ عرضیوں میں پورے معاملے کی آزادانہ اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اس سے قبل سپریم کورٹ نے معاملے کی تحقیقات کے لیے نئی خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دینے کی ہدایت دی تھی۔ عدالت کی ہدایت کے بعد اتر پردیش حکومت نے نئی ایس آئی ٹی تشکیل دی۔ اس ٹیم کی سربراہی لکھنؤ رینج کی آئی جی کرن ایس کو سونپی گئی ہے۔

نئی ایس آئی ٹی میں ایودھیا کے ڈی آئی جی سومین ورما، ایس ایس پی گورو گروور اور بارہ بنکی کے ایڈیشنل ایس پی ریتیش کمار کو شامل کیا گیا ہے۔ مالی لین دین اور متعلقہ ریکارڈ کی جانچ کے لیے ایک آڈیٹر کو بھی ٹیم کا حصہ بنایا گیا ہے۔ اس کا مقصد معاملے سے متعلق مالی لین دین اور دستاویزات کی تفصیلی جانچ کرنا ہے۔

سپریم کورٹ کی ہدایت کے بعد معاملے کی تحقیقات نے ایک بار پھر رفتار پکڑی ہے۔ نئی ایس آئی ٹی کے قیام کے بعد تحقیقات کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ اس معاملے کو لے کر سیاسی بیان بازی بھی تیز ہوگئی ہے اور اپوزیشن جماعتیں حکومت سے شفاف تحقیقات اور ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کر رہی ہیں۔

’چندہ چوری‘ معاملے پر بحث کا مطالبہ

اس معاملے کو لے کر سماج وادی پارٹی کے ارکان پارلیمنٹ نے 7 اگست کو پارلیمنٹ کے احاطے کے باہر احتجاج کیا تھا۔ ایس پی ارکان نے ایودھیا کے رام مندر میں چڑھاوے سے متعلق مبینہ بے ضابطگیوں کی غیر جانب دارانہ تحقیقات اور ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔

ایس پی ارکان کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ کروڑوں عقیدت مندوں کے جذبات اور ان کی آستھا سے جڑا ہوا ہے، اس لیے اس کی مکمل اور شفاف تحقیقات ضروری ہیں۔ ان کا الزام تھا کہ حکومت اس معاملے پر پارلیمنٹ میں بحث سے بچ رہی ہے۔

ایس پی رکن پارلیمنٹ دھرمیندر یادو نے کہا تھا کہ جب تک مبینہ طور پر ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی نہیں کی جاتی، ان کی پارٹی کا احتجاج جاری رہے گا۔ انہوں نے کہا تھا کہ بھگوان رام کے نام پر جمع ہونے والی رقم کا ایک ایک پیسہ مندر تک پہنچنا چاہیے اور اس رقم سے متعلق کسی بھی بے ضابطگی کے لیے ذمہ دار افراد کو قانون کے دائرے میں لایا جانا چاہیے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔