قومی خبریں

جسٹس یشونت ورما کو سپریم کورٹ سے جھٹکا، مواخذے کی کارروائی کو چیلنج کرنے والی عرضی خارج

پریم کورٹ نے جسٹس یشونت ورما کی وہ عرضی خارج کر دی جس میں انہوں نے مواخذے کے لیے تین رکنی جانچ کمیٹی کی تشکیل کو چیلنج کیا تھا۔ عدالت نے کہا کہ عرضی گزار کسی راحت کے حق دار نہیں

<div class="paragraphs"><p>سپریم کورٹ/جسٹس یشونت ورما</p></div>

سپریم کورٹ/جسٹس یشونت ورما

 

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے جمعہ کو الہٰ آباد ہائی کورٹ کے جسٹس یشونت ورما کی وہ عرضی خارج کر دی جس میں انہوں نے لوک سبھا اسپیکر کے اس فیصلے کو چیلنج کیا تھا، جس کے تحت ججز (جانچ) ایکٹ 1968 کے تحت ان کے خلاف تین رکنی جانچ کمیٹی تشکیل دی گئی تھی۔ عدالت نے واضح کیا کہ موجودہ معاملے میں عرضی گزار کسی بھی طرح کی عدالتی راحت کے مستحق نہیں ہیں۔

Published: undefined

یہ فیصلہ جسٹس دیپانکر دتہ اور جسٹس ستیش چندر شرما پر مشتمل بنچ نے سنایا۔ بنچ نے کہا کہ تمام فریقین کے دلائل سننے اور ریکارڈ کا بغور جائزہ لینے کے بعد عدالت اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ درخواست میں کوئی ایسا قانونی جواز موجود نہیں جو مداخلت کا تقاضا کرے۔ اس سے قبل گزشتہ ہفتے عدالت نے طویل سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔

Published: undefined

جسٹس یشونت ورما کے خلاف مہابھیوگ کی کارروائی اس وقت شروع ہوئی جب دہلی میں واقع ان کی سرکاری رہائش گاہ کے ایک آؤٹ ہاؤس سے بڑی مقدار میں جلی اور ادھ جلی کرنسی برآمد ہونے کا معاملہ سامنے آیا۔ اگرچہ آگ لگنے کے وقت وہ وہاں موجود نہیں تھے، تاہم بعد میں سپریم کورٹ کی جانب سے قائم تین رکنی ان ہاؤس جانچ کمیٹی نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ مذکورہ نقدی پر ان کا خفیہ یا عملی کنٹرول تھا۔

اپنی عرضی میں جسٹس ورما نے بنیادی طور پر طریقۂ کار سے متعلق اعتراضات اٹھائے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ چونکہ لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں ایک ہی دن مہابھیوگ کے نوٹس دیے گئے تھے، اس لیے لوک سبھا اسپیکر کو راجیہ سبھا کے چیئرمین کے فیصلے کا انتظار کرنا چاہیے تھا اور مشترکہ مشاورت کے بغیر یکطرفہ طور پر جانچ کمیٹی تشکیل نہیں دی جا سکتی تھی۔ ان کا استدلال تھا کہ ججوں (جانچ) ایکٹ کی دفعہ 3(2) کے تحت ایسی صورت میں دونوں ایوانوں کی منظوری اور اسپیکر و چیئرمین کی مشترکہ کارروائی لازمی ہے۔

Published: undefined

اس کے برعکس لوک سبھا سیکریٹریٹ اور مرکز کی جانب سے پیش دلائل میں کہا گیا کہ راجیہ سبھا نے مہابھیوگ کی تجویز کو قبول ہی نہیں کیا تھا۔ بتایا گیا کہ نائب صدر اور چیئرمین کے استعفے کے بعد راجیہ سبھا کے نائب چیئرمین نے مقررہ تاریخ کو اس تجویز کو مسترد کر دیا تھا، اس لیے دفعہ 3(2) کا اطلاق نہیں ہوتا۔ عدالت نے ان دلائل سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ اسپیکر اپنے دائرۂ اختیار میں آزادانہ طور پر کارروائی کرنے کے مجاز تھے۔

عدالت نے مزید واضح کیا کہ مہابھیوگ کی تجویز کو قبول کرنا خودکار عمل نہیں بلکہ متعلقہ ایوان کے صدر نشین کو تمام پہلوؤں پر غور کے بعد فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔ اسی بنیاد پر جسٹس یشونت ورما کی عرضی کو خارج کر دیا گیا۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined