
نئی دہلی: (پریس ریلیز) سپریم کورٹ کی جانب سے بابری مسجد رام جنم بھومی تنازع اراضی پر ہفتہ کی صبح فیصلہ سنائے جانے کے بعد سے تمام طرح کے رد عمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ہندو طبقات سمیت زیادہ تر متعلقین جہاں اس فیصلہ کو تاریخی قرار دے کر کھلے دل سے استقبال کر رہے ہیؓ وہیں مسلم فریقین، ملی تنظیمیں اور متعدد دانشوار اس فیصلہ پر ناخوشی کا بھی اظہار کر رہے ہیں۔
اسٹوڈنٹ اسلامک آرگینائزیشن (ایس آئی او) طرف جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ نے بابری مسجد متنازعہ اراضی پر جو فیصلہ سنایا ہے اسے قانون کی حکمرانی کی اصولی پابندی میں قبول کیا جا سکتا ہے۔ تاہم، عدالت کا فیصلہ قانونی فیصلہ نہیں ہے۔
تنظیم کی جانب سے کہا گیا کہ بیرت اس بات کی ہے کہ عدالت نے اپنے فیصلے پر پہنچنے کے لئے غیر منطقی استدلال کا استعمال کیا:
ایس آئی نے کہا، ’’ہمارا مؤقف ہے کہ انصاف کے قیام کے بغیر حقیقی امن ممکن نہیں ہے اور یہ کہ انصاف کی پیش گوئی سچائی پر کی جاتی ہے۔ یہ فیصلہ حق کی بنیاد پر انصاف فراہم کرنے میں ناکام رہا ہے۔ ہم فیصلے کو قانون کی حکمرانی کا احترام کرنے کے جذبے سے قبول کرتے ہیں ، لیکن ہم اسے انصاف نہیں کہہ سکتے۔
پریس ریلیز کے آخر میں ایس آئی او نے تمام شہریوں سے قانون کی حکمرانی پر قائم رہنے اور انصاف کے حصول کے لئے کام کرنے کی اپیل کی ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: 09 Nov 2019, 11:16 PM IST