قومی خبریں

انڈیا اتحاد کی میٹنگ میں مودی حکومت پر شدید تنقید، کھڑگے نے معیشت اور خارجہ پالیسی پر اٹھائے سنگین سوالات

میٹنگ کے آغاز میں انڈیا بلاک کے تمام لیڈران کا خیرمقدم کرتے ہوئے کھڑگے نے کہا کہ موجودہ حالات میں اپوزیشن پارٹیوں کے درمیان اتحاد اور یکجہتی پہلے سے زیادہ ضروری ہو گئی ہے۔

<div class="paragraphs"><p>انڈیا بلاک کی میٹنگ کا منظر، تصویر ’ایکس‘&nbsp;<a href="https://x.com/INCIndia">@INCIndia</a></p></div>

انڈیا بلاک کی میٹنگ کا منظر، تصویر ’ایکس‘ @INCIndia

 

انڈیا اتحاد کی ایک انتہائی اہم میٹنگ آج دہلی میں منعقد ہوئی، جس میں کانگریس سمیت تقریباً 2 درجن پارٹیوں کے نمائندے موجود رہے۔ کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے اپنے افتتاحی خطاب میں مرکزی حکومت کو مختلف محاذوں پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ملک اس وقت سیاسی، اقتصادی، سماجی اور خارجہ پالیسی کے متعدد چیلنجوں سے دوچار ہے، جن کا سبب مودی حکومت کی پالیسیوں اور طرز حکمرانی کو قرار دیا جا سکتا ہے۔

Published: undefined

میٹنگ کے آغاز میں انڈیا بلاک کے تمام لیڈران کا خیرمقدم کرتے ہوئے کھڑگے نے کہا کہ انڈیا بلاک تقریباً 3 سال قبل وجود میں آیا تھا اور اس نے اپوزیشن پارٹیوں کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم فراہم کیا ہے۔ موجودہ حالات میں اپوزیشن پارٹیوں کے درمیان اتحاد اور یکجہتی پہلے سے زیادہ ضروری ہو گئی ہے۔ کانگریس صدر نے 17 اپریل 2026 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ لوک سبھا میں اپوزیشن پارٹیوں نے غیر معمولی اتحاد کا مظاہرہ کیا تھا اور مشترکہ حکمت عملی کے ذریعہ مودی حکومت کے حد بندی (ڈی لمیٹیشن) سے متعلق متنازعہ بلوں کو شکست دی تھی۔ ان کے مطابق یہ اپوزیشن کی اجتماعی طاقت اور جمہوری عزم کا مظہر تھا، جسے مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔

Published: undefined

کھڑگے نے الزام لگایا کہ ووٹر لسٹ کی خصوصی نظرثانی (ایس آئی آر) کے عمل کے نتیجے میں ملک کے کروڑوں شہریوں کے حق رائے دہی کو خطرات لاحق ہو گئے ہیں اور بڑی تعداد میں لوگوں کو ووٹنگ کے بنیادی حق سے محروم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ صورتحال جمہوری اقدار کے لیے تشویش ناک ہے۔ آئین پر مسلسل حملوں کا الزام عائد کرتے ہوئے کانگریس لیڈر نے کہا کہ ملک کے آئینی اداروں کو کمزور کیا جا رہا ہے اور جمہوری روایات کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تفتیشی ایجنسیوں کا استعمال سیاسی مخالفین کو ہراساں کرنے اور دباؤ میں لانے کے لیے کیا جا رہا ہے، جس سے جمہوری نظام کی غیر جانبداری پر سوالات کھڑے ہوتے ہیں۔

Published: undefined

کانگریس صدر نے یہ بھی کہا کہ غیر بی جے پی ریاستی حکومتوں کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے اور وفاقی ڈھانچے کی روح کو مجروح کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق ریاستوں کے حقوق اور اختیارات کا احترام جمہوری نظام کا بنیادی تقاضا ہے۔ معاشی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کھڑگے نے کہا کہ ضروری اشیاء کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس کے باعث عام آدمی شدید مشکلات کا سامنا کر رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ملک کا مجموعی اقتصادی ماحول منفی سمت میں جا رہا ہے اور سرمایہ کاری کی رفتار مطلوبہ سطح تک نہیں پہنچ پا رہی، جس کی وجہ سے روزگار کے نئے مواقع پیدا نہیں ہو رہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مختلف شعبوں میں نجی اجارہ داریوں کا دائرہ وسیع ہوتا جا رہا ہے، جبکہ ملک کے چھوٹے، درمیانے اور خرد درجے کے کاروبار (ایم ایس ایم ای) سنگین بحران سے دوچار ہیں۔ ان کے مطابق یہ شعبہ ملک کی معیشت اور روزگار کا ایک اہم ستون ہے، لیکن حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے اس کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

Published: undefined

نوجوانوں کے مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کھڑگے نے امتحانات کے نظام میں بے ضابطگی پر شدید تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ لاکھوں نوجوانوں کے مستقبل اور ان کی امیدوں کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے اور بار بار امتحانات میں بے ضابطگیوں کے واقعات سامنے آ رہے ہیں۔ انہوں نے سماج کے کمزور طبقات پر ہونے والے مظالم کا بھی ذکر کیا اور دعویٰ کیا کہ خاص طور پر بی جے پی کے زیر اقتدار ریاستوں میں محروم اور کمزور طبقات کو مختلف مسائل اور ناانصافیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

Published: undefined

خارجہ پالیسی کے موضوع پر کانگریس صدر نے کہا کہ ہندوستان کی روایتی سفارتی پالیسی اور بین الاقوامی سطح پر اس کے تاریخی مؤقف کو نقصان پہنچا ہے۔ ان کے مطابق ملک نے طویل عرصے تک جن اصولوں اور اقدار کی حمایت کی، موجودہ حکومت انہیں برقرار رکھنے میں ناکام رہی ہے، جس کے اثرات عالمی سطح پر ہندوستان کی ساکھ پر بھی پڑ رہے ہیں۔

Published: undefined

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined