قومی خبریں

ایئر انڈیا کے 3 افسران پر ہوئی سخت کارروائی، ڈی جی سی اے نے سبھی کرداروں سے سبکدوش کرنے کی دی ہدایت

ڈی جی سی اے نے اپنے حکم میں کہا کہ لائسنسنگ، آرام اور جدت ضروریات میں خامی کے باوجود فلائٹ پائلٹ ٹیم (عملہ) کے شیڈول اور آپریشن میں ایئر انڈیا نے بار بار لاپروائی کی۔

<div class="paragraphs"><p>ایئر انڈیا، تصویر آئی اے این ایس</p></div>

ایئر انڈیا، تصویر آئی اے این ایس

 

احمد آباد میں ایئر انڈیا طیارہ حادثہ کے بعد ڈی جی سی اے (شہری ہوابازی ڈائریکٹوریٹ جنرل) نے فلائٹ سیکورٹی سے متعلق کارروائی شروع کر دی ہے۔ ڈی جی سی اے نے ایئر انڈیا کو ڈویزنل وائس پریسیڈنٹ سمیت اپنے 3 افسران کو پائلٹ ٹیم (عملہ) کی شیڈولنگ اور روسٹرنگ سے متعلق سبھی کرداروں اور ذمہ داریوں سے ہٹانے کا حکم دیا ہے۔ ڈی جی سی اے نے 20 جون کو جاری اپنے حکم میں ایئر انڈیا کو ہدایت دی ہے کہ ان افسران کے خلاف بلاتاخیر ڈسپلنری کارروائی شروع کی جائے۔ ڈی جی سی اے کی ہدایت کے مطابق 3 افسران میں ایئرلائنس کا ایک ڈویزنل وائس پریسیڈنٹ بھی شامل ہے۔ ڈی جی سی اے نے ایئر انڈیا سے 10 دن میں اس تعلق سے رپورٹ دینے کو بھی کہا ہے۔

Published: undefined

ڈی جی سی اے نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ لائسنسنگ، آرام اور جدت ضروریات میں خامی کے باوجود فلائٹ پائلٹ ٹیم (عملہ) کے شیڈول اور آپریشن میں ایئر انڈیا نے بار بار لاپروائی کی۔ اس لاپروائی کا پتہ اے آر ایم ایس سے سی اے ای پرواز اور پائلٹ ٹیم مینجمنٹ سسٹم میں تبدیلی کے بعد ہوئے تجزیہ کے دوران چلا۔ اے آر ایم ایس (ایئر روٹ مینجمنٹ سسٹم) ایک سافٹ ویئر پلیٹ فارم ہے۔ جس کا استعمال ایئرلائنس کے ذریعہ مختلف آپریشن اور مینجمنٹ امور کے لیے کیا جاتا ہے۔ اس میں پائلٹ ٹیم کی روسٹرنگ اور پرواز منصوبہ وغیرہ شامل ہیں۔

Published: undefined

ڈی جی سی اے کے حکم میں کہا گیا ہے کہ تجزیہ کے دوران ہوئے انکشافات پائلٹ ٹیم کی شیڈولنگ، کمپلائنس مانیٹرنگ اور داخلی جوابدہی میں ناکامی کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ لاپروائی کے بعد بھی ذمہ داری اہم افسران کے خلاف سخت ڈسپلنری کارروائی نہیں کی گئی۔ افسر غیر مجاز اور غیر کمپلائنس پائلٹ ٹیم کی جوڑی، لازمی لائسنسنگ، جدید پیمانوں کی خلاف ورزی اور وقت تعین پروٹوکول، جائزہ میں ناکامی سمیت سنگین غلطیوں میں شامل رہے ہیں۔ ڈی جی سی اے نے ایئر انڈیا کو متنبہ کیا کہ مستقبل میں پائلٹ ٹیم کی شیڈولنگ میں خلاف ورزی کرنے پر لائسنس معطلی اور ٹرانسپورٹیشن پابندیوں سمیت سخت کارروائی کی جائے گی۔

Published: undefined

اس معاملے میں ڈی جی سی اے نے ایئر انڈیا کے ذمہ دار منیجر کو وجہ بتاؤ نوٹس جاری کیا ہے۔ نوٹس میں کہا گیا ہے کہ ایئر انڈیا کے ذمہ دار منیجر نے 16 مئی 2025 اور 17 مئی 2025 کو بنگلورو سے لندن (اے ایل 133) کے لیے 2 پروازیں آپریٹ کیں۔ ان میں سے دونوں نے 10 گھنٹے کی مقررہ پرواز مدت کار کو عبور کر لیا۔ ڈی جی سی اے نے افسر سے 7 دنوں کے اندر جواب دینے کو کہا ہے کہ خلاف ورزی کے لیے مناسب انفورسمنٹ کارروائی کیوں نہ شروع کی جائے؟ ڈی جی سی اے کی ہدایت کے بعد ایئر انڈیا نے کہا کہ ہم نے ڈی جی سی اے کے حکم کو قبول کر لیا ہے اور حکم کو نافذ کر دیا ہے۔ کمپنی کے چیف آپریشن افسر آئی او سی سی (انٹگریٹیڈ آپریشن کنٹرول سنٹر) کی نگرانی کریں گے۔ ایئر انڈیا یہ یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے کہ سیکورٹی پروٹوکول اور طے کردہ پیمانوں پر مکمل عمل ہو۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined