قومی خبریں

17 سال سے کاغذ پر ہاتھ سے لکھ کر اخبار نکالنے والے دنیش کی کہانی

اسکول میں چاکلیٹ فروخت کر کے اپنی روزی روٹی کا بندوبست کرنے والے 48 سالہ دنیش اپنا شوق پورا کرنے کے لیے اپنے ہاتھوں سے لکھ کر اخبار تیار کرتے ہیں اور مختلف دفاتر کے باہر پہنچا دیتے ہیں۔

تصویر قومی آواز/آس محمد
تصویر قومی آواز/آس محمد دنیش اپنے لکھے اخبار کو دکھاتے ہوئے

مظفر نگر: مظفر نگر کے افسروں کے دروازوں پر، مشہور وکیلوں کے دفتروں کے باہر اور خاص مقامات پر ہاتھ سے لکھے گئے اخبار نظر آ جاتے ہیں۔ ہاتھ سے لکھا گیا یہ اخبار نکال رہے ہیں دنیش جو کہ 17 سال سے ایسا کر رہے ہیں۔ اس ہاتھ سے لکھے گئے اخبار کا نام ہے ’ودھا درشن‘ جس میں عام خبروں کے علاوہ اداریہ بھی ہوتا ہے اور روز مرہ کی خبریں بھی ہوتی ہیں۔ اس کے مدیر خود دنیش ہیں۔

48 سالہ دنیش کے تعلق سے یہ جاننا دلچسپ ہے کہ وہ اسکول میں چاکلیٹ فروخت کر کے اپنی روزی روٹی کا بندوبست کرتے ہیں۔ اخبار نکالنا ان کا شوق ہے اور ہاتھ سے لکھا گیا یہ اخبار سماجی ایشوز کو بھی بہت خوبی کے ساتھ اٹھاتے ہیں۔ 17 سال قبل کچھ لوگوں نے دنیش کو پاگل کہا تھا لیکن آج کلکٹر تک اس کی تعریف کرتے ہیں۔ دراصل یہ ایسی کہانی ہے جس میں خواب کے آگے بہانہ نہ ہونے کی ترغیب چھپی ہے۔

2001 میں جب دنیش مظفر نگر کلکٹریٹ کے سامنے زمین پر بیٹھ کر آسمان چھونے کی کوشش میں لگے تھےتو وہاں موجود مقامی لوگوں نے سمجھا کہ وہ کوئی درخواست لے کر آئے ہوں گے۔ مہینوں انھیں کسی نےتوجہ نہیں دی۔ وہ روز آتے رہے اور اپنا کام کرتے رہے۔ اس وقت دنیش پیدل آیا کرتے تھے، زمین پر بیٹھ کر سفید کاغذ پر اسکیچ پین سے لکھتے رہے۔

مظفر نگر کی کچہری میں گزشتہ 25 سال سے وکالت کر رہے عارف شیش محلی کے مطابق ’’افسروں کے دروازوں پر روز دستک دینے والوں کی تعداد زیادہ ہوتی ہے۔ متاثرین اکثر ذہنی کشیدگی کا شکار بھی ہو جاتے ہیں۔ ایسا ہی کچھ دنیش کو بھی سمجھ لیا گیا تھا۔ کچھ لوگ اس کا مذاق اڑاتے تھے اور انھیں ’ٹینشن‘ میں ہے کہا کرتے تھے۔ اب جب چھوٹے اخبار مالکان بھی بلیک میلنگ کا سنڈیکیٹ چلا کر بڑی گاڑیوں میں گھوم رہے ہیں تو دنیش جیسا ایک بھی ایڈیٹر دکھائی نہیں دیتا۔‘‘

مظفر نگر ضلع مجسٹریٹ کے دفتر کے باہر گزشتہ روز زمین پر بیٹھ کر دنیش اسکیچ پین سے کاغذ پر لکھ کر اپنا اخبار تیار کر رہے تھے جب ’قومی آواز‘ کے نمائندہ کی ان سے ملاقات ہوئی۔ دنیش ایک بجے کے بعد 5 بجے تک روزانہ بیٹھ کر اخبار لکھنے کا کام کرتے ہیں۔ اخبار تیار ہونے کے بعد وہ اس کی کاپی مختلف دفاتر کے باہر لگا دیتے ہیں۔

’قومی آواز‘ کے نمائندہ کی جس وقت دنیش سے ملاقات ہوئی، اس وقت اس نے جو قمیض پہنی ہوئی تھی اس کے اوپر کے دو بٹن ٹوٹے ہوئے تھے۔ پینٹ دیکھ کر محسوس ہوتا تھا جیسے مہینوں سے اس پر پریس نہیں کی گئی ہے۔ ان کی سائیکل بھی سالوں پرانی نظر آ رہی تھی اور اس کی سیٹ تو انتہائی مخدوش حالت میں تھی۔ پوچھنے پر انھوں نے بتایا کہ وہ مظفر نگر کے محلہ سبھاش نگر میں رہتے ہیں ۔لیکن وہاں پہنچنے پر کوئی بھی ان کا پتہ نہیں بتا پایا۔ دنیش کے پاس کبھی اتنے پیسے بھی نہیں ہوئے کہ وہ ایک موبائل خرید لیں۔

Published: 19 Oct 2018, 8:00 AM IST

دنیش کسی کی مدد قبول نہیں کرتے۔ اسی کچہری میں 22 سال سے دھرنے پر بیٹھے ماسٹر وجے سنگھ کہتے ہیں کہ انھوں نے دنیش کو موبائل فون تحفۃً پیش کرنے کی کوشش کی تھی لیکن اس نے قبول نہیں کیا۔ دنیش ہمیں بتاتے ہیں کہ 17 سال سے انھوں نے نہ کوئی اشتہار لیا اور نہ ہی کبھی کسی سے چندہ وصول کیا۔

جہاں تک آٹھویں درجہ تک پڑھے دنیش کے اخبار کے معیار کا سوال ہے، تو اس میں کئی شعلہ انگیز ایشوز اٹھائے جاتے ہیں اور وہ لگاتار ذات پات نظام کے خلاف لکھتے رہے ہیں۔ وہ کسانوں کے مسائل پر بھی لکھتے ہیں اور دیگر حساس موضوعات کو بھی اپنے اخبار میں جگہ دیتے ہیں۔ انھیں یہ جانکاریاں دوسرے اخبارات کو پڑھ کر حاصل ہوتی ہیں اور اپنے اخبار میں تصویر کے طور پر وہ بڑے اخبارات کی کترن کا استعمال کرتے ہیں۔ دنیش نے مظفر نگر فساد کے دوران فرقہ وارانہ خیر سگالی کے لیے بھی اپنے اخبارات میں کافی کچھ لکھا تھا۔

اپنی مشکلات کے تعلق سے دنیش ’قومی آواز‘ کو بتاتے ہیں کہ ’’غریب ہونے کی وجہ سے مجھے عزت نہیں ملی۔ میرے پاس پیسے نہیں تھے اس لیے کبھی سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔ کئی بار اخبار رجسٹرڈ کرانے کی کوشش کی تو سرکاری دفتر میں پین کارڈ کا مطالبہ کیا گیا۔ میرا تو بینک میں اکاؤنٹ بھی نہیں ہے ، پھر پین کارڈ تو بہت بڑی چیز ہے۔‘‘ دنیش کو اس بات کا بھی ملال ہے کہ حکومت اور مقامی لیڈران نے کبھی انھیں سنجیدگی سے نہیں لیا۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’ایک بار یہاں کے ضلع مجسٹریٹ سریندر سنگھ نے بلا کر ان سے بات کی اور ان کی تعریف بھی کی۔ وہ میری مثبت رپورٹ کہیں بھیجنا چاہتے تھے لیکن پھر ان کا تبادلہ ہو گیا۔‘‘ دنیش نے مزید بتایا کہ ’’17 سال پہلے 26 جنوری کو پہلی بار اپنا اخبار شروع کیا تھا جو گزشتہ 26 جنوری کو 17 سال کا ہو گیا۔ اس کا خرچ میں چاکلیٹ فروخت کر کے نکالتا ہوں۔ سیاسی لیڈران شاید اس لیے میرے ساتھ نہیں آنا چاہتے کیونکہ میں ان کے کام کا نہیں ہوں۔‘‘

جب دنیش سے ’قومی آواز‘ نے اخبار نکالنے کے ان کے مقصد کے بارے میں جاننا چاہا تو انھوں نے بتایا کہ ’’میرے دل میں جو خیالات اٹھتے تھے وہ میں سب کو بتانا چاہتا تھا۔ اس کے لیے میں چاہتا تھا کہ اخبار نکالوں۔ میرے رشتہ دار اور پڑوس کے کئی لوگ اسے آج بھی پاگل پن بتاتے ہیں، لیکن مجھے خوشی ہے کہ سماج کے لیے اور اپنے ملک کے لیے میں بھی کچھ کر رہا ہوں۔‘‘ ساتھ ہی وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’’میری بدقسمتی ہے کہ میں غریب ہوں۔ اسی لیے لوگ میری عزت نہیں کرتے۔ اگر میں دولتمند ہوتا تو لوگ میرا مذاق نہیں بناتے۔‘‘

دنیش کے شوق کو دیکھ کر حیران ایک مقامی شخص 28 سالہ تنظیم امیر بتاتے ہیں کہ ’’دنیش بے حد سادگی پسند اور سیدھا سادہ انسان ہے اور اس دھوکے باز و تیز طرار دنیا کے لوگوں کو ایسے اشخاص سے کوئی دلچسپی نہیں۔ موجودہ دور کے لوگوں کو لگتا ہے کہ یہ ان کے مطلب کا نہیں ہے تو پھر کیوں توجہ دی جائے۔‘‘ دنیش نے اپنے شوق کو 17 سال سے جاری رکھا اور اس درمیان اس نے شادی بھی نہیں کی۔ روزانہ اپنا اخبار لکھ کر اس کی فوٹو کاپی کراتے ہیں اور پھر اسے دفتروں کے باہر لگا آتے ہیں۔ یہی ان کا ’رائٹنگ، پرنٹنگ اور سرکولیشن‘ کا طریقہ ہے۔ ایک مقامی معمر صحافی سشیل شرما ٹھیک ہی کہتے ہیں کہ ’’دنیش جیسے لوگ ہی صحافت کے اصلی ہیرو ہیں، کباڑ تو بہت دیکھنے کو مل جائیں گے۔‘‘

Published: 19 Oct 2018, 8:00 AM IST

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: 19 Oct 2018, 8:00 AM IST