
آئی اے این ایس
نئی دہلی: دہلی پولیس نے جنوبی مشرقی دہلی کے امر کالونی علاقے میں آئی آر ایس افسر کی بیٹی کے قتل کے سنسنی خیز معاملے کو حل کرنے کا دعویٰ کیا ہے اور اس سلسلے میں ایک ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ پولیس حکام کے مطابق ملزم راہل مینا کو دوارکا کے ایک ہوٹل سے حراست میں لیا گیا، جہاں وہ واردات کے بعد چھپا ہوا تھا۔
Published: undefined
یہ واردات بدھ کی صبح کیلاش ہلز علاقے میں واقع افسر کے رہائشی مکان میں پیش آئی، جہاں 22 سالہ متاثرہ خاتون اپنے اہل خانہ کے ساتھ رہتی تھیں اور یو پی ایس سی کی تیاری کر رہی تھیں۔ اہل خانہ نے انہیں گھر کے اندر مشتبہ حالت میں پایا، جس کے بعد پولیس کو اطلاع دی گئی۔
پولیس ذرائع کے مطابق اس کیس کو حل کرنے میں تین اہم ڈیجیٹل سراغ فیصلہ کن ثابت ہوئے، جن میں ایک چوری شدہ موبائل فون، ہوٹل کے وائی فائی نیٹ ورک کا استعمال اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ہونے والی چیٹ شامل ہے۔ تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ ملزم نے اپنے ذاتی فون کے بجائے ایک چوری شدہ فون استعمال کیا تاکہ وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نظروں سے بچ سکے۔
Published: undefined
تفتیش میں یہ بھی سامنے آیا کہ ملزم نے دوارکا کے ایک ہوٹل میں قیام کیا اور وہیں کے وائی فائی کے ذریعے انٹرنیٹ استعمال کرتا رہا۔ اسی دوران وہ گروگرام میں مقیم اپنے ایک رشتہ دار سے سوشل میڈیا کے ذریعے رابطے میں تھا۔ پولیس نے انٹرنیٹ پروٹوکول ڈیٹا ریکارڈ اور دیگر تکنیکی نگرانی کے طریقوں کی مدد سے اس کی لوکیشن کا سراغ لگایا۔
پولیس حکام کے مطابق ملزم نے متاثرہ خاتون کے ساتھ زیادتی کی اور بعد ازاں فون کے چارجر سے گلا گھونٹ کر قتل کر دیا۔ واردات کے بعد اس نے کپڑے بدلے اور مبینہ طور پر گھر سے تقریباً ڈھائی لاکھ روپے لے کر فرار ہو گیا۔
Published: undefined
تحقیقات سے پتہ چلا کہ ملزم واردات سے قبل الور میں موجود تھا، جہاں اس نے موبائل فون فروخت کیا اور دہلی آنے کے لیے کرائے پر گاڑی لی، تاہم شہر پہنچنے کے بعد وہ ڈرائیور کو رقم ادا کیے بغیر فرار ہو گیا۔ سی سی ٹی وی فوٹیج میں اسے صبح تقریباً ساڑھے چھ بجے کالونی میں داخل ہوتے اور کچھ دیر بعد گھر میں جاتے دیکھا گیا، جبکہ قریب ایک گھنٹے بعد وہ وہاں سے نکلتا ہوا نظر آیا۔
پولیس نے تکنیکی شواہد، سی سی ٹی وی فوٹیج اور ڈیجیٹل نگرانی کے امتزاج سے ملزم تک رسائی حاصل کی اور بالآخر اسے گرفتار کر لیا۔ مزید تفتیش جاری ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined