کیا آئل ریفائنریز پر خفیہ حملے ہو رہے؟ ہندوستان سے امریکہ تک لگی آگ اتفاق یا سازش؟ آئیے جانتے ہیں ماہرین کی آراء

راجستھان کے بالوترا میں واقع پچپدرا ریفائنری-کم-پٹروکیمیکل کمپلیکس ہے، جہاں حال ہی میں آگ لگ گئی تھی۔ وزیر اعظم نریندر مودی اس ریفائنری کا 21 اپریل کو افتتاح کرنے والے تھے۔

<div class="paragraphs"><p>پچپدرا ریفائنری (ویڈیو گریب)</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

مغربی ایشیا میں بحران کی شروعات سے اب تک 57 دنوں میں ہندوستان، امریکہ اور پاکستان سمیت پوری دنیا میں خام تیل صاف کرنے والی 11 ریفائنریوں میں اچانک آگ لگنے، دھماکہ یا لیک ہونے جیسے واقعات پیش آئے ہیں۔ انہی میں سے ایک راجستھان کے بالوترا میں واقع پچپدرا ریفائنری-کم-پٹروکیمیکل کمپلیکس ہے، جہاں حال ہی میں آگ لگ گئی تھی۔ وزیر اعظم نریندر مودی اس ریفائنری کا 21 اپریل کو افتتاح کرنے والے تھے، لیکن اس سے ایک روز قبل ہی یعنی 20 اپریل کو آگ لگنے کا واقعہ پیش آیا جس کے بعد وزیر اعظم کا دورہ منسوخ کر دیا گیا۔ معاملے کی تحقیقات جاری ہے۔ ملک اور دنیا کی ان ریفائنریوں میں پیش آنے والے واقعات نے سازشی نظریات کو جنم دے دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر کئی ماہرین بھی اس کی ٹائمنگ کو لے کر سوال اٹھا رہے ہیں۔ آئیے ذیل میں اس کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

ریفائنری کا سب سے تازہ واقعہ پاکستان کی نیشنل ریفائنری لمیٹڈ سے منسلک ہے۔ پاکستان کی نیشنل ریفائنری لمیٹڈ کی جنوب مغربی بلوچستان میں واقع دارگوان سائٹ پر ایک نا معلوم مسلح شخص نے حملہ کر دیا۔ اس کے بعد اس سائٹ پر سیکورٹی فورسز نے آپریشن چلا کر اسے محفوظ کیا۔ کمپنی نے اس کے متعلق بدھ (22 اپریل) کو اطلاع دی۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر امریکہ-ایران جنگ پر قریب سے نظر رکھنے والے ایک ماہر نے کہا کہ 28 فروری سے امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف جنگ چھیڑا ہوا ہے، جس کی وجہ سے پوری دنیا میں توانائی بحران پیدا ہو گیا ہے۔


اب ریفائنریوں میں پیش آنے والے واقعات کی ٹائمنگ کو سمجھتے ہیں۔ ایکواڈور کی سب سے بڑی ریفائنری میں گزشتہ 9 ماہ میں تیسری بار آگ لگنے کا واقعہ پیش آیا۔ آسٹریلیا کی ویوا انرجی گیلانگ میں دھماکہ ہو گیا، جس کی وجہ سے ملک کی 10 فیصد ایندھن کی سپلائی کے لیے خطرہ پیدا ہو گیا۔ روس کے ’نزنی کامسک نیفتے خیم‘ پلاٹ میں دھماکہ ہو گیا، جس میں 3 لوگوں کی موت ہو گئی۔ ہندوستان کی او این جی سی کے ممبئی ہائی آف شور میں آگ لگ گئی، جس میں 10 ورکرس کی موت ہو گئی۔ امریکہ کی والیرو پورٹ آرتھر ٹیکساس ریفائنری میں 157000 پاؤنڈ کیمیکل بہہ گیا، جس کی وجہ سے 10 دنوں تک آسمان میں دھواں اٹھتا رہا۔ ہندوستان میں راجستھان کی پچپدرا ریفائنری میں اچانک آگ لگ گئی، جب وزیر اعظم مودی اس کا افتتاح کرنے والے تھے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ 4 براعظموں میں کوئی میزائل نہیں، کوئی ڈرون نہیں محض حادثہ پیش آیا، وہ بھی تب جب دنیا مشرق وسطیٰ کی سپلائی کا متبادل تلاش رہی ہے۔ ایسے میں یہ ایک طرح کے خفیہ حملے ہیں، جنہیں گلوبل انرجی مارکیٹس پر دباؤ بڑھانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ ملکوں کو مجبور کیا جا رہا ہے کہ وہ جنگ میں شامل ہونے سے انکار کر دیں۔


ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ہر چیز کی قیمت بڑھتی رہی تو حکومتوں کے پاس کوئی متبادل راستہ نہیں بچے گا۔ ایسے میں کس کو فائدہ ہوگا یہ واضح طور پر نظر آ رہا ہے۔ امریکہ ریکارڈ مقدار میں تیل اور گیس فروخت کر رہا ہے۔ اسرائیل زیادہ تر ممالک کو فوجی بوجھ تقسیم کرنے کے لیے راضی کر رہا ہے۔ اتفاق ایک الگ بات ہے، لیکن 4 بر اعظموں میں 45 دنوں کے اندر 6 ریفائنریوں میں ایسے واقعات کا پیش آنا ایک خاص پیٹرن کا حصہ ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اسے اتفاق یا سازش کا نام دیا جا رہا ہے۔ ایک ماہر نے دعویٰ کیا کہ امریکہ-ایران جنگ کے بعد سے اب تک 20 سے زائد ریفائنریوں پر حملے، اچانک آگ لگنے یا خراب ہونے کے واقعات پیش آئے ہیں۔ دنیا کی انرجی گریڈ کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔ ان میں امریکہ کی والیرو، آسٹریلیا کی گیلانگ، روس کی سبور اور ہندوستان کی پچپدرا ریفائنری شامل رہی ہے۔ یہ واقعات تب پیش آئے جب امریکہ-ایران جنگ کے درمیان دنیا کی 20 فیصد والی لائف لائن ’آبنائے ہرمز‘ سے تیل-گیس کے ٹینکروں کی آمد و رفت متاثر ہو گئی ہے۔


ایک ماہر نے کہا کہ یہ 2030 ورلڈ اکنامک فورم کے ایجنڈا کو نافذ کرنے کے لیے توانائی کی خود مختاری کا منظم استحصال ہے۔ ہمارے پاس تیل کے ذخائر موجود ہیں، لیکن ڈیجیٹل راشننگ اور مرکزی کنٹرول نافذ کرنے کے لیے ایندھن کی کمی پیدا کر رہے ہیں۔ آسٹریلیائی وزیر اعطم نے ملک کو آنے مہینوں میں سخت مشکلات کی وارننگ دی ہے۔ حالانکہ یہ تکلیف مستقل بنیادوں پر مسلط کرنے کے لیے وضع کی گئی ہے۔ دوسری جانب ایک ہندوستانی ماہر کا کہنا ہے کہ ایران جنگ نے انرجی کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اس جنگ کے ساتھ ساتھ ریفائنری جنگ بھی چھڑی ہوئی ہے۔ یہ ایک لہر کی طرح ہے۔ یوکرین نے روسی تیل ٹھکانوں پر حملے شروع کرنے کا اعلان کیا۔ ٹیکساس، ہندوستان اور آسٹریلیا تک اس کے پیچھے ایک پوشیدہ ایجنڈا ہے۔ یہ ایک سائبر لیئر ہے۔

ایک ریسرچ اور اینالیسس سائٹ نے سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا ہے کہ 28 فروری سے اب تک 11 ریفائنریوں میں آگ لگ چکی ہے۔ انٹرنیٹ پر نصف لوگ مانتے ہیں کہ یہ منظم سازش ہے۔ روس میں لگی آگ یوکرینی ڈرون حملے ہیں۔ باقی سب کچھ سادہ ہے۔ آسٹریلیا کی جلانگ ریفائنری 1950 کی دہائی کی ہے اور انہوں نے قبول کیا ہے کہ مارچ میں انہوں نے پیداواری صلاحیت کو برقرار رکھنے کے لیے دیکھ بھال کے منصوبے کو ملتوی کر دیا تھا۔ یہ ملک کی بچی ہوئی 2 ریفائنریوں میں سے ایک ہے اور آبنائے ہرمز کے ذریعہ درآمدی راستہ بند ہونے کی وجہ سے یہ پوری صلاحیت کے ساتھ چل رہی تھی۔


ہنوستان، ٹیکساس اور رومانیہ میں بھی یہی صورتحال ہے۔ جب آبنائے ہرمز کی 6 ملین بیرل یومیہ کی صلاحیت کم ہو جاتی ہے تو بچی ہوئی ہر ریفائنری اپنی مقررہ حد سے زیادہ کام کرتی ہے۔ رکھ رکھاؤ کے عمل سے گریز، زیادہ سے زیادہ پیداواری صلاحیت، پرانے سامان، کوئی گنجائش نہیں۔ ایسے عوامل حادثات کے باعث بنتے ہیں۔ انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کا کہنا ہے کہ صرف مارچ میں عالمی تیل کے ذخائر میں 85 ملین بیرل کی کمی واقع ہوئی۔ یہ کوئی توڑ پھوڑ نہیں ہے۔ بفر ختم ہونے پر توانائی کا نظام ایسا ہی نظر آتا ہے۔ اس کے پیچھے سازش سے زیادہ انجینئرنگ ہے، جو کہ انتہائی دلچسپ ہے۔