قومی خبریں

ٹرمپ کی حلف برداری کے بعد شیئر بازار دھڑام، اُچھال کے بعد سینسیکس 800 پوائنٹس نیچے، نفٹی بھی گرا

شیئر بازار میں منگل کو اتار چڑھاؤ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ سینسیکس اور نفٹی شروعاتی اچھال کے بعد اچانک پھسل گئے۔ ماہرین نے بھی دنیا بھر کے شیئر بازاروں میں بڑی ہلچل کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>شیئر مارکیٹ، تصویر آئی اے این ایس</p></div>

شیئر مارکیٹ، تصویر آئی اے این ایس

 
IANS_ARCH

شیئر مارکیٹ کے ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ ڈونالڈ ٹرمپ کے امریکہ کا صدر بننے کے بعد دنیا بھر کے شیئر بازاروں میں بڑی ہلچل دیکھنے کو مل سکتی ہے۔ ہندوستانی شیئر بازار میں بھی کچھ ایسا ہی دکھتا ہوا نظر آ رہا ہے۔

ٹرمپ کی حلف برداری کے بعد آج جب شیئر مارکیٹ کھلا تو دونوں انڈیکس گرین زون میں کھلے۔ بامبے اسٹاک ایکسچینج کا 30 شیئروں والا سینسیکس 200 پوائنٹس سے زیادہ چڑھ کر کاروبار کرتا ہوا ںظر آیا تو وہیں نفٹی کا بھی پچھلے بند کے مقابلے میں اُچھال کے ساتھ کاروبار شروع ہوا۔ لیکن کچھ ہی منٹوں میں یہ شروعاتی تیزی ہوا ہو گئی اور سینسیکس اور نفٹی گراوٹ کے ساتھ لال نشان پر ٹریڈ کرتے ہوئے نظر آئے۔ محض گھنٹے بھر کے کاروبار کے بعد ہی اسٹارک مارکیٹ دھڑام ہو گیا اور سینسیکس 800 پوائنٹس سے زیادہ نیچے چلا گیا۔

Published: undefined

ہفتہ کے دوسرے کاروباری دن منگل کو شیئر مارکیٹ میں سبقت کے ساتھ کاروبار شروع ہوا تھا۔ بی ایس ای سینسیکس نے اپنے پچھلے بند 77073 کی سطح سے چڑھ کر 77261 پر کاروبار شروع کیا لیکن یہ تیزی کچھ منٹوں تک ہی دیکھنے کو ملی، پھر اچانک سینسیکس ٹوٹنے لگا اور 401.93 پوائنٹس سے زیادہ پھسل کر 76671 کی سطح پر آ گیا۔ سینسیکس کی طرح ہی این ایس ای نفٹی کی بھی رفتار اچانک تبدیل ہو گئی۔ 23421 پر کھلنے کے بعد یہ 210 پوائنٹس پھسل کر 23127 کی سطح تک پہنچ گیا۔

Published: undefined

شیئر بازار میں منگل کو اچانک آئی گراوٹ کے درمیان سب سے زیادہ ٹوٹنے والے شیئروں کی بات کریں تو آن لائن فوڈ ڈیلیوری پلیٹ فارم زومیٹو میں لگاتار دوسرے دن گراوٹ آئی۔ خبر لکھے جانے تک یہ اسٹاک 8.40 فیصد ٹوٹ کر 220.75 روپے پر ٹریڈ کر رہا تھا۔ اس کے علاوہ لارج کیپ کمپنیوں میں شامل اڈانی پورٹس شیئر 1.74 فیصد اور ریلائنس شیئر 1.37 فیصد پھسل کر کاروبار کر رہا تھا۔ کمپنی کے سہ ماہی نتائج نے سرمایہ کاروں کے سینٹیمنٹ پر بُرا اثر ڈالا ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined