
دنیا کا سب سے طاقتور راکٹ مانے جانے والا ’اسٹار شپ‘ ایک بار پھر ٹیسٹ فلائٹ کے لیے تیار ہے۔ ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس 21 مئی کو اپنے نیکسٹ-جنریشن اسٹار شپ راکٹ کی 12ویں انٹیگریٹڈ ٹیسٹ فلائٹ کرنے جا رہی ہے۔ یہ مشن ٹیکساس میں موجود اسٹاربیس فیسلیٹی سے لانچ ہوگا اور اسے اسپیس ایکس کے سب سے اہم ٹیسٹس میں سے ایک مانا جا رہا ہے۔ اس اڑان پر صرف اسپیس ایکس ہی نہیں بلکہ ناسا اور مکمل اسپیس انڈسٹری کی نظر ٹکی ہوئی ہے، کیونکہ اس راکٹ کو مستقبل میں انسانوں کو چاند اور مریخ تک لے جانے کی بڑی امید مانا جا رہا ہے۔
Published: undefined
واضح رہے کہ گزشتہ کچھ مہینوں میں اسپیس ایکس نے اسٹار شپ میں کئی بڑی تبدیلیاں کی ہیں۔ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ نیا ورژن پہلے سے زیادہ بھروسے مند، طاقتور اور دوبارہ استعمال کے لیے بہتر بنایا گیا ہے۔ نئی ٹیسٹ فلائٹ میں اسٹار شپ وی3 کنفیگریشن دیکھنے کو مل سکتی ہے۔ یہ وہی اپگریڈڈ ماڈل ہے جس میں انجن سسٹم، اسٹرکچر اور ہیٹ پروٹیکشن سسٹم کو پہلے سے زیادہ مضبوط بنایا گیا ہے۔ اسٹار شپ تقریباً 120 میٹر اونچا راکٹ سسٹم ہے، جس میں سپر ہیوی بوسٹر اور اسٹار شپ اپر اسٹیج شامل ہیں۔ اس میں استعمال ہونے والے ریپٹر انجن لیکویڈ میتھین اور لیکویڈ آکسیجن پر چلتے ہیں۔ یہی انجن مستقبل کے چاند اور مریخ کے مشنز کی سب سے بڑی طاقت مانے جا رہے ہیں۔ اسپیس ایکس اس بار انجن کی کارکردگی، تھرمل کنٹرول اور دوبارہ استعمال پر توجہ دے رہا ہے۔
Published: undefined
یہ مشن کسی سیٹلائٹ لانچ کے لیے نہیں، بلکہ سسٹم ٹیسٹنگ کے لیے کیا جا رہا ہے۔ لانچ کے دوران انجنیئرس کئی اہم مراحل پر نظر رکھیں گے، جن میں راکٹ کا ٹیک آف، اسٹیج سیپریشن، بوسٹر کی واپسی اور کنٹرولڈ ڈیسنٹ شامل ہیں۔ سب سے زیادہ توجہ سپر ہیوی بوسٹر کی واپسی پر رہے گی۔ اسپیس ایکس مستقبل میں لانچ ٹاور کے مکینیکل آرمز کی مدد سے بوسٹر کو ہوا میں پکڑنے کی تکنیک کو تیار کر رہا ہے۔ یہ تکنیک کامیاب ہوئی تو راکٹ لانچ کی لاگت کافی کم ہو سکتی ہے۔ جبکہ اسٹار شپ اپر اسٹیج کی ری انٹری بھی اس مشن کا بڑا حصہ ہوگا۔ اس میں لگے ہزاروں سیرامک ٹائلس والے ہیٹ شیلڈ کو بے حد گرم درجہ حرارت میں ٹیسٹ کیا جائے گا۔
Published: undefined
اسٹار شپ صرف اسپیس ایکس کا پروجیکٹ نہیں بلکہ ناسا کے آرٹیمس پروگرام کا بھی اہم حصہ ہے۔ ناسا نے اسٹار شپ کے ماڈیفائڈ ورژن کو ہیومن لینڈنگ سسٹم کے طور پر منتخب کیا ہے، جس کا استعمال خلائی مسافروں کو چاند کی سطح تک پہنچانے میں کیا جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ اسٹار شپ کی ہر ٹیسٹ فلائٹ ناسا کے لیے بھی انتہائی اہم بن گئی ہے۔ اگر اسپیس ایکس اس سسٹم کو مکمل طور پر کامیاب بنا لیتا ہے تو مستقبل میں مون بیس اور مارس مشنز کی راہ کافی آسان ہو سکتی ہے۔
Published: undefined
اسپیس ایکس روایتی اسپیس کمپنیوں کی طرح کئی سال تک صرف لیب ٹیسٹنگ نہیں کرتا۔ کمپنی ٹیسٹ، فیل، فکس، ریپیٹ ماڈل پر کام کرتی ہے۔ یعنی بار بار ٹیسٹ کر کے ہر غلطی سے سیکھنا اور سسٹم کو بہتر بنانا۔ اسی وجہ سے اسٹار شپ پروگرام بے حد تیزی سے آگے بڑھا ہے۔ ہر لانچ سے ملنے والا ڈیٹا انجن پرفارمنس، فلائٹ اسٹیبلٹی، اسٹرکچر اور لینڈنگ سسٹم کو مضبوط بنانے میں استعمال کیا جاتا ہے۔
Published: undefined
قابل ذکر ہے کہ 21 مئی کا یہ مشن کامیاب رہا تو اسپیس ایکس پوری طرح سے دوبارہ استعمال ہونے والے راکٹ سسٹم کے اور قریب پہنچ جائے گا۔ اس سے مستقبل میں اسپیس مشنز کی لاگت کافی کم ہو سکتی ہے۔ اسٹار شپ کو مستقبل میں بڑے سیٹلائٹ لانچ، چاند کے مشنز، مریخ کے سفر اور یہاں تک کہ زمین پر ہائی اسپیڈ ٹریول کے لیے بھی استعمال کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس ٹیسٹ فلائٹ کو صرف ایک راکٹ لانچ نہیں بلکہ مستقبل کی اسپیس ٹیکنالوجی کے لیے ایک بہت بڑا سنگ میل مانا جا رہا ہے۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined