
طلبہ، تصویر آئی اے این ایس
اتر پردیش میں ان دنوں پولیس کانسٹیبل بھرتی امتحان کا دور چل رہا ہے۔ اس امتحان میں ریاست کے ساتھ ساتھ دوسری ریاستوں سے بھی لاکھوں امیدوار یوپی کے مختلف اضلاع میں امتحان دینے پہنچے ہیں۔ کل 32679 عہدوں کے لیے ہونے والے اس بھرتی امتحان میں 29 لاکھ نوجوانوں نے فارم بھرے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس امتحان میں ’اوور کوالیفائڈ‘ امیدواروں کی کافی تعداد ہے۔ ’ٹی وی 9‘ نے کچھ امتحانی مراکز پر جب امیدواروں سے بات کی تو معلوم ہوا کہ جس امتحان کے لیے تعلیمی قابلیت صرف انٹرمیڈیٹ ہے، اس کے لیے ماسٹرز اور پوسٹ گریجویٹ امیدواروں میں دوڑ لگی ہوئی ہے۔ انہیں پولیس کانسٹیبل کے عہدہ کے لیے ’اوور کوالیفائڈ‘ کہا جا سکتا ہے، لیکن ان کا کہنا ہے کہ بس سرکاری نوکری ہو جائے، اتنا ہی مقصد ہے۔
Published: undefined
آگرہ سے لکھنؤ پہنچے کنال شرما ڈھائی سال سے پولیس بھرتی کی تیاری کر رہے ہیں۔ وہ ایم ایس سی کے طالب علم ہیں اور یہ ان کا آخری موقع ہے۔ انہوں نے سب انسپکٹر (ایس آئی) کے عہدے کے لیے بھی کوشش کی تھی، لیکن کامیاب نہیں ہو پائے۔ 60000 عہدوں پر کانسٹیبل والی بھرتی میں بھی انہوں نے امتحان دی تھی، لیکن ان کا کہنا ہے کہ ان کا کوئی اسکور کارڈ جاری نہیں کیا گیا۔ انہیں معلوم ہی نہیں ہے کہ کہ وہ کامیاب ہوئے ہیں یا ناکام۔ ایم ایس سی کے طلبہ بھی کانسٹیبل بننا چاہتے ہیں، اس سوال پر کنال شرما کا کہنا ہے کہ ان کے لیے سرکاری پانے کا یہ آخری موقع تھا، اس لیے انہوں نے اپلائی کر دیا اور اس بار بھروسہ ہے کہ وہ امتحان میں پاس ہو جائیں گے۔
Published: undefined
واضح رہے کہ ’ٹی وی 9‘ کو کنال شرما جیسے کم از کم 25 امیدوار لکھنؤ کے نیشنل پی جی کالج پر ملے، جن کے پاس بڑی ڈگریاں ہیں یا ان کی پڑھائی جاری ہے، لیکن اس کے باوجود وہ یوپی پولیس میں کانسٹیبل بننا چاہتے ہیں۔ اسی طرح دوسری نشست کے امتحان کے لیے بھی سنٹر کے باہر موجود امیدواروں سے بات چیت سے پتہ چلا کہ ان میں سے کچھ ماسٹرز کر چکے ہیں یا ماسٹرز کر رہے ہیں اور کئی تو گریجویٹ ہو چکے ہیں، جبکہ کچھ ایل ایل بی کے طلبہ بھی اس امتحان میں شامل ہوئے۔ اتنا ہی نہیں ایم بی اے کے طلبہ بھی اس امتحان میں شامل ہو رہے ہیں۔
Published: undefined
قابل ذکر ہے کہ لکھنؤ میں کل 55 مراکز پر پولیس کانسٹیبل بھرتی امتحان ہو رہے ہیں، جس میں ایک لاکھ 36 ہزار کے قریب امیدوار شامل ہو رہے ہیں۔ 2 نشستوں میں امتحان کرائے جا رہے ہیں۔ پہلی نشست کے امتحان ختم ہوتے ہی جب امیدوار باہر نکلنا شروع ہوئے تو کئی ’اوور کوالیفائڈ‘ امیدوار کیمرے سے بچ کر نکلتے نظر آئے۔ حالانکہ کچھ امیدواروں نے ’ٹی وی 9‘ سے بات بھی کی اور کہا کہ سرکاری نوکری ضروی ہے، کیونکہ اونچی ڈگری کے مطابق ملازمت ملنا مشکل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جو مل جائے وہی صحیح ہے۔ کچھ کا یہ بھی کہنا تھا کہ پہلے ایک سرکاری نوکری پا لیں، پھر آگے بھی تیاری جاری رکھیں گے۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined