اینٹی پیپر لیک بل پر پہلے دن کی بحث ختم، لوک سبھا کی کارروائی ملتوی

لوک سبھا میں اینٹی پیپر لیک (ترمیمی) بل پر پہلے دن کی بحث رات دیر تک جاری رہی، جس میں حکومت اور اپوزیشن کے ارکان نے بل، پیپر لیک کے واقعات، امتحانی نظام، طلبہ کے احتجاج اور تعلیمی اصلاحات سمیت مختلف پہلوؤں پر اپنے اپنے مؤقف پیش کیے۔ بحث کے دوران حکومت اور اپوزیشن کے درمیان کئی مواقع پر سخت نوک جھونک بھی دیکھنے میں آئی۔ دن بھر کی کارروائی کے اختتام پر اسپیکر نے ایوان کی کارروائی کل صبح 11 بجے تک کے لیے ملتوی کر دی۔ بل پر مزید بحث اور آئندہ کارروائی اب بدھ کو دوبارہ شروع ہوگی۔

<div class="paragraphs"><p>کے سی وینوگوپال / ویڈیو گریب</p></div>
i

اینٹی پیپر لیک بل پر پہلے دن کی بحث ختم، لوک سبھا کی کارروائی ملتوی

اینٹی پیپر لیک (ترمیمی) بل پر تقریباً پورا دن جاری رہنے والی بحث کے بعد لوک سبھا کی کارروائی رات 11 بجے تک جاری رہی، جس کے دوران حکومت اور اپوزیشن کے متعدد ارکان پارلیمنٹ نے بل، پیپر لیک کے واقعات، امتحانی نظام، طلبہ کے احتجاج اور تعلیمی اصلاحات سے متعلق اپنے اپنے خیالات پیش کیے۔ دن بھر کی کارروائی مکمل ہونے کے بعد اسپیکر نے ایوان کی کارروائی کل صبح 11 بجے تک کے لیے ملتوی کر دی۔ بل پر مزید بحث اور آئندہ کارروائی اب بدھ کو دوبارہ شروع ہوگی۔

لوک سبھا میں اینٹی پیپر لیک (ترمیمی) بل پر بحث

لوک سبھا میں اینٹی پیپر لیک (ترمیمی) بل پر بحث جاری ہے۔ ایک روز قبل مرکزی وزیر مملکت برائے عملہ، عوامی شکایات و پنشن ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے یہ بل ایوان میں پیش کیا تھا، تاہم اپوزیشن کی جانب سے وزیر داخلہ امت شاہ کے بیان کا مطالبہ کیے جانے کے باعث بحث شروع نہیں ہو سکی تھی۔ ابتدا میں اس بل پر 6 گھنٹے بحث کے لیے وقت مقرر کیا گیا تھا، لیکن اپوزیشن کے مطالبے پر پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے حکومت کی جانب سے 10 گھنٹے تک بحث کرانے پر آمادگی ظاہر کی، جس کے بعد اسپیکر اوم برلا نے ایوان کی رضامندی سے بحث کا دورانیہ 10 گھنٹے کرنے کا اعلان کر دیا

’سرکاری اسکول بند ہو رہے ہیں، غریب بچوں کا کیا ہوگا؟‘ کے سی وینوگوپال کا حکومت پر حملہ

اینٹی پیپر لیک (ترمیمی) بل پر بحث کے دوران کانگریس کے رکن پارلیمنٹ کے سی وینوگوپال نے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ گزشتہ برسوں میں ایک لاکھ سے زائد سرکاری اسکول بند کیے جا چکے ہیں، جس سے غریب اور پسماندہ طبقے کے بچوں کی تعلیم متاثر ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوچنگ کا مہنگا نظام ہر خاندان کی پہنچ میں نہیں، اس لیے سرکاری تعلیمی اداروں کو مضبوط بنانا ضروری ہے۔ وینوگوپال نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ 12 برسوں میں 152 پیپر لیک کے واقعات پیش آئے اور نیٹ امتحان کے بعد 21 طلبہ نے خودکشی کی، مگر حکومت نے ان معاملات پر مؤثر اقدامات نہیں کیے۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ حکومت اپوزیشن کی بات سننے کے بجائے اہم اداروں کو کمزور کر رہی ہے اور تعلیم جیسے بنیادی مسئلے پر سنجیدہ رویہ اختیار نہیں کر رہی۔


2024 میں قانون بننے کے باوجود پیپر لیک کیوں نہیں رکے؟ ڈمپل یادو کا سوال

اینٹی پیپر لیک (ترمیمی) بل پر بحث کے دوران سماجوادی پارٹی کی رکن پارلیمنٹ ڈمپل یادو نے حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے سوال کیا کہ جب 2024 میں پیپر لیک روکنے کے لیے قانون منظور ہو چکا تھا تو اس کے بعد بھی امتحانی پرچے کیوں لیک ہوتے رہے؟ انہوں نے کہا کہ یا تو یہ ایک منظم سازش ہے یا پھر حکومت کے نظام میں مستقل خامی موجود ہے۔ ڈمپل یادو نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ 40 دنوں میں 20 طلبہ نے خودکشی کی اور اپنی تقریر میں ان طلبہ کے نام بھی پڑھے۔ انہوں نے کہا کہ جنتر منتر پر جاری طلبہ کی تحریک پرامن تھی اور اپوزیشن کے ارکان وہاں سیاست کرنے نہیں بلکہ نوجوانوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے گئے تھے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پرامن مظاہرین کے ساتھ سخت رویہ اختیار کیا گیا اور کہا کہ حکومت طلبہ پر دباؤ نہیں بنا سکی، حالانکہ ان کا مطالبہ صرف شفاف امتحانی نظام اور سابق وزیر تعلیم کے استعفے کا تھا۔

جنتر منتر لاٹھی چارج کی ایس آئی ٹی سے تحقیقات کرائی جائیں، سپریا سولے کا مطالبہ

اینٹی پیپر لیک (ترمیمی) بل پر بحث کے دوران نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (شرد پوار) کی رکن پارلیمنٹ سپریا سولے نے طلبہ کے احتجاج اور جنتر منتر میں پولیس کارروائی کا معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ ہر کسی کو یہ سوچنا چاہیے کہ زخمی طالب علم کی ماں پر کیا گزر رہی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ وہ خود بھی ایک ماں ہیں، اس لیے اس درد کو محسوس کر سکتی ہیں۔ سپریا سولے نے کہا کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ، لیکن اس معاملے میں بات طلبہ کے مستقبل کی ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ جنتر منتر میں لاٹھی چارج کی ایس آئی ٹی سے غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ کسی مخصوص شخص پر الزام نہیں لگا رہیں، بلکہ صرف حقائق سامنے آنے چاہییں۔ سپریا سولے نے تعلیم کے نظام پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ملک میں نوجوانوں کو بہتر تعلیم اور محفوظ مستقبل دینا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے مہاراشٹر میں پولیس کے سامنے تنہا کھڑی ایک طالبہ کی وائرل تصویر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہی وہ حوصلہ ہے جس کے لیے بیٹیوں کو تعلیم دی جاتی ہے۔


اینٹی پیپر لیک بل پر بحث کے لیے لوک سبھا کی کارروائی رات 10 بجے تک بڑھا دی گئی

لوک سبھا میں اینٹی پیپر لیک (ترمیمی) بل پر جاری بحث کے پیش نظر ایوان کی کارروائی کا وقت بڑھا دیا گیا ہے۔ اس بل پر پہلے ہی 10 گھنٹے بحث کرانے کا فیصلہ کیا گیا تھا اور دوپہر 2 بجے سے اس پر غور و خوض جاری ہے۔ کارروائی کے دوران چیئر پر موجود جگدمبیکا پال نے ایوان کی رضامندی حاصل کرنے کے بعد اعلان کیا کہ بل پر تمام ارکان کو اپنی بات رکھنے کا موقع دینے کے لیے آج کی کارروائی رات 10 بجے تک جاری رہے گی۔ اس دوران حکومت اور اپوزیشن کے ارکان بل کے مختلف پہلوؤں، امتحانی نظام میں اصلاحات، پیپر لیک کے واقعات اور طلبہ سے متعلق مسائل پر اپنے اپنے مؤقف پیش کر رہے ہیں۔

نوجوانوں کے مستقبل کی چوری، ملک کی سب سے بڑی چوری ہے: پرینکا گاندھی

لوک سبھا میں اینٹی پیپر لیک (ترمیمی) بل پر بحث کے دوران کانگریس کی رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی واڈرا نے کہا کہ 2024 میں منظور ہونے والے قانون کے باوجود آج تک پیپر لیک کے کسی ملزم کو سزا نہیں ملی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے نام تو عوامی کیے جا رہے ہیں، لیکن پیپر لیک کے ملزمان کے خلاف ایسی کارروائی نظر نہیں آتی۔ پرینکا گاندھی نے وزیراعظم نریندر مودی کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے مشیروں کو بدلیں، کیونکہ نئی نئی کمیٹیاں بنانے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔

انہوں نے رادھا کرشنن کمیٹی اور فاسٹ ٹریک عدالتوں کی کارکردگی پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کا اعتماد صرف ویڈیوز بنانے سے نہیں بلکہ جوابدہی سے بحال ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کی لاٹھیاں بچوں کی پیٹھ پر نہیں بلکہ حکومت کی ساکھ پر پڑی ہیں۔ پرینکا گاندھی نے کہا کہ ملک میں ووٹ، رام مندر کے چندے اور کسانوں کی زمین کی چوری جیسے معاملات سامنے آئے، لیکن سب سے بڑی چوری اس وقت ہوئی جب نوجوانوں کے مستقبل اور ان کے خواب چھین لیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ملک کا نوجوان مایوس ہو گیا تو یہ صرف اس کی نہیں بلکہ پورے ہندوستان کی شکست ہوگی۔


پیلٹ گن چلانے کا حکم کس نے دیا، وزیر داخلہ جواب دیں، پرینکا گاندھی کا سوال

لوک سبھا میں اینٹی پیپر لیک (ترمیمی) بل پر بحث کے دوران کانگریس کی رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی واڈرا نے احتجاج کے دوران طلبہ کے خلاف پولیس کارروائی پر حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ وہ آر ایم ایل اسپتال گئیں، جہاں زخمی طلبہ زیر علاج تھے۔ انہوں نے ایک زخمی طالبہ کی والدہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ شدید صدمے میں تھیں اور اپنی بیٹی کی حالت پر انصاف کا مطالبہ کر رہی تھیں۔

پرینکا گاندھی نے کہا کہ وہ وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ سے پوچھنا چاہتی ہیں کہ طلبہ پر آنسو گیس، لاٹھی چارج اور پیلٹ گن چلانے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ انہوں نے سوال کیا کہ آخر پیلٹ گن استعمال کرنے کا حکم کس نے دیا اور مظاہرین، خصوصاً طالبات، کے ساتھ بدسلوکی کیوں کی گئی۔ پرینکا گاندھی نے کہا کہ صرف کانگریس ہی نہیں بلکہ پورا ملک ان سوالات کے جواب چاہتا ہے، کیونکہ پارلیمنٹ عوام کی امانت ہے اور حکومت عوام کے سامنے جوابدہ ہے۔

12 برس میں کسی پیپر لیک ملزم کو سزا نہیں ملی، نوجوان ہمدردی نہیں جوابدہی چاہتے ہیں: ابھیشیک بنرجی

اینٹی پیپر لیک (ترمیمی) بل پر بحث کے دوران ترنمول کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ابھیشیک بنرجی نے گزشتہ 12 برسوں میں سی بی ایس ای، نیٹ اور دیگر اہم امتحانات میں سامنے آنے والے پیپر لیک کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان تمام معاملات میں اب تک کسی بھی ملزم کو سزا نہیں مل سکی۔ بنرجی نے کہا کہ خود حکومت پارلیمنٹ میں یہ اعتراف کر چکی ہے کہ اس کے پاس ملک میں ہونے والے پیپر لیک واقعات کا کوئی جامع اعداد و شمار موجود نہیں ہے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ حکومت کو ہر منٹ ہونے والے یو پی آئی لین دین کی تعداد تو معلوم ہے، مگر یہ معلوم نہیں کہ ملک میں کتنے امتحانات کے پرچے لیک ہوئے۔ ان کے مطابق آج کا نوجوان ہمدردی نہیں بلکہ جوابدہی اور اپنے مستقبل کے حوالے سے یقینی ضمانت چاہتا ہے۔


ابھیشیک بنرجی کی تقریر کے دوران ہنگامہ، مہوا موئترا کی سپیکر سے مداخلت کی اپیل

اینٹی پیپر لیک (ترمیمی) بل پر ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے رکن پارلیمنٹ ابھیشیک بنرجی کی تقریر کے دوران لوک سبھا میں زبردست ہنگامہ دیکھنے میں آیا۔ شور شرابے کے درمیان ٹی ایم سی کی رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا اپنی نشست پر کھڑی ہو گئیں اور الزام لگایا کہ کچھ ارکان جان بوجھ کر ایوان کی کارروائی میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں۔ انہوں نے اسپیکر سے مطالبہ کیا کہ وہ ایوان میں نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے مداخلت کریں اور ہنگامہ کرنے والے ارکان کو خاموش کرائیں، تاکہ بل پر بحث بغیر کسی خلل کے جاری رہ سکے۔

شفاف امتحان ہر طالب علم کا حق، حکومت صرف کمیٹیاں بنانے اور قانون بدلنے میں ماہر: ابھیشیک بنرجی

لوک سبھا میں اینٹی پیپر لیک بل پر بحث کے دوران ترنمول کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ابھیشیک بنرجی نے کہا کہ ہر طالب علم کو شفاف اور منصفانہ امتحانی نظام ملنا اس کا بنیادی حق ہے۔ انہوں نے مرکزی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جب بھی کوئی ادارہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہتا ہے تو حکومت تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دے دیتی ہے، اور جب نظامِ حکمرانی پر سوال اٹھتے ہیں تو قانون میں ترمیم کا راستہ اختیار کیا جاتا ہے۔ بنرجی نے کہا کہ حکومت ان مسائل کی بنیادی وجوہات دور کرنے کے بجائے صرف ظاہری اقدامات کرتی ہے، جس سے طلبہ کا امتحانی نظام پر اعتماد متاثر ہو رہا ہے۔


نفرت کی سیاست ملک کو کس سمت لے جائے گی، اندازہ لگانا مشکل: اکھلیش یادو

لوک سبھا میں اینٹی پیپر لیک بل پر بحث کے دوران سماجوادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ اکھلیش یادو نے اتر پردیش حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ آزادی کے مجاہدین کے نام پر قائم جامعات کو مضبوط بنانے کے بجائے انہیں کمزور کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت ایسے تعلیمی اداروں کے تحفظ کے بجائے ان کے خلاف کارروائی کے لیے "ہتھوڑا لے کر بیٹھی ہے"۔ اکھلیش یادو نے کہا کہ نفرت کی سیاست ملک کو کس سمت لے جائے گی، اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ انہوں نے روزگار کے مسئلے پر بھی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ اگنی ویر بھرتی اسکیم کے تحت صرف محدود تعداد میں نوجوانوں کو مواقع مل رہے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آخر حکومت نوجوانوں کی تعلیم اور روزگار، دونوں پر مسلسل ضرب کیوں لگا رہی ہے اور اس پالیسی سے ملک کے مستقبل پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔

آخر دسویں اور بارہویں کے پرچے بار بار کیوں لیک ہو رہے ہیں؟، اکھلیش یادو کا سوال

اینٹی پیپر لیک بل پر بحث کے دوران سماجوادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ اکھلیش یادو نے حکومت پر ملک کے تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں ایک لاکھ سے زائد پرائمری اسکول بند کیے جا چکے ہیں، جن میں سب سے زیادہ اسکول اتر پردیش میں بند ہوئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اگر یہ اعداد و شمار غلط ہیں تو حکومت ایوان میں اس کی وضاحت کرے۔ اکھلیش یادو نے کہا کہ حکومت نے صرف اسکولوں ہی نہیں بلکہ ملازمتوں کے مواقع کو بھی متاثر کیا ہے اور بھرتی کے عمل میں بے ضابطگیوں کے باعث پسماندہ اور دلت طبقات کے حقوق سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ سیکنڈری اسکول بھی بند کیے جا رہے ہیں۔

اکھلیش یادو نے سوال اٹھایا کہ آخر دسویں اور بارہویں کے بورڈ امتحانات سمیت مختلف مسابقتی امتحانات کے پرچے بار بار کیوں لیک ہو رہے ہیں۔ ان کے مطابق ان واقعات نے لاکھوں طلبہ کے مستقبل کو غیر یقینی بنا دیا ہے۔ انہوں نے امتحانات سے متعلق تنازعات اور ذہنی دباؤ کے دوران جان گنوانے والے طلبہ کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کے اہل خانہ سے اظہارِ تعزیت بھی کیا۔


جو چندہ نہیں بچا سکے، وہ پیپر لیک کیسے روکیں گے؟ اکھلیش یادو

سماجوادی پارٹی کے صدر اور رکن پارلیمنٹ اکھلیش یادو نے اینٹی پیپر لیک بل پر بحث کے دوران حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر 20 لاکھ طلبہ نے امتحان دیا تو اس سے تقریباً ایک کروڑ افراد کے خاندان متاثر ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ کے والدین نے خود اپنے بچوں کو احتجاج کے لیے بھیجا، کیونکہ انہیں اپنے مستقبل کی فکر تھی۔ اکھلیش یادو نے کہا کہ اگر حکومت کا مؤقف درست ہے تو وزیر داخلہ امت شاہ کو ایوان میں آکر تمام سوالات کے جواب دینے چاہئیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا، ’’جو لوگ مندروں میں چڑھاوے کی حفاظت نہیں کر سکے، وہ پیپر لیک کیسے روکیں گے؟‘‘ انہوں نے الزام لگایا کہ گزشتہ برسوں میں متعدد امتحانات کے پرچے لیک ہوئے، کئی امتحانات عدالت کی مداخلت کے بعد منسوخ کرنا پڑے، جبکہ اتر پردیش ٹی ای ٹی کا پرچہ بھی ایک نہیں بلکہ تین بار لیک ہوا۔ اکھلیش یادو نے مزید کہا کہ نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) میں آؤٹ سورسنگ کے بڑھتے رجحان پر تشویش ہے اور حکومت کو یہ بتانا چاہیے کہ وہ کون لوگ تھے جو این ٹی اے میں بیٹھ کر بے ضابطگیوں میں ملوث تھے۔

نوجوانوں نے ثابت کر دیا کہ حکومت کو بھی جھکایا جا سکتا ہے: اکھلیش یادو

لوک سبھا میں اینٹی پیپر لیک بل پر بحث کے دوران سماجوادی پارٹی کے صدر اور رکن پارلیمنٹ اکھلیش یادو نے کہا کہ یہ کہا جاتا تھا کہ حکومت کبھی نہیں جھکتی، لیکن نئی نسل نے ثابت کر دیا کہ اگر عوام متحد ہوں تو حکومت کو بھی جھکایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کروڑوں نوجوانوں کے مسلسل احتجاج کے بعد حکومت کو اپنی بات ماننی پڑی اور سب سے پہلے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو عہدہ چھوڑنا پڑا۔ اکھلیش یادو نے کہا کہ حکومت نے کئی مطالبات تسلیم کر لیے ہیں، لیکن یہ سمجھ سے بالاتر ہے کہ جن دیگر نکات پر اتفاق ہوا، انہیں ابھی تک ایوان کے سامنے کیوں نہیں رکھا جا رہا۔ انہوں نے مزید کہا کہ سابق وزیر تعلیم کے ایوان سے باہر استقبال پر انہیں کوئی اعتراض نہیں، تاہم اس فیصلے سے حکومت نے دراصل ایک وزیر کو ہٹا کر وزیراعظم کو بڑے سیاسی بحران سے بچانے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’پردھان کو ہٹا کر پردھان منتری کو بچا لیا گیا۔‘


’لڑکیوں پر تشدد اور پیلٹ گن کا استعمال نہیں بھولیں گے‘، گورو گوگوئی کا حکومت پر شدید حملہ

اپنی تقریر کے اختتامی حصے میں گورو گوگوئی نے احتجاج کے دوران پیش آنے والے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک ان مناظر کو کبھی نہیں بھولے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پولیس نے مظاہرین پر پیلیٹ گن کا استعمال کیا، خواتین کے ساتھ بدسلوکی کی گئی اور ایک طالبہ کے ساتھ تشدد کا واقعہ بھی پیش آیا۔ گوگوئی نے واصف بریلوی کا شعر پڑھتے ہوئے کہا کہ اصولوں کی خاطر جدوجہد ضروری ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مختلف شہروں کے لوگوں نے مظاہرین کی مدد کی، وکلا نے بھی ان کا ساتھ دیا، لیکن حکومت احتجاج کو طاقت کے زور پر دبانے کی کوشش کرتی رہی۔ ان کے مطابق یہ بل اس لیے لایا گیا کیونکہ حکومت طلبہ کی تحریک کو کچلنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔

امت شاہ بتائیں پولیس کو طاقت کے استعمال کی اجازت کس نے دی؟ گورو گوگوئی

کانگریس رکن پارلیمنٹ نے احتجاج کے دوران پولیس کارروائی پر بھی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ مظاہرین کے خلاف آنسو گیس، لاٹھی چارج اور پیلیٹ گن کے استعمال کی اجازت کس نے دی اور طور پر پولیس کو سر پر لاٹھیاں برسانے کی ہدایت کس سطح سے دی گئی۔ گوگوئی نے کہا کہ ان واقعات پر وزیر داخلہ امت شاہ اور وزیراعظم نریندر مودی کو ایوان اور ملک کے سامنے جواب دینا چاہیے۔ ان کے مطابق لاکھوں نوجوانوں کے مستقبل سے جڑے معاملے میں طاقت کے استعمال پر حکومت خاموش نہیں رہ سکتی۔


'نوجوانوں نے جمہوریت کا سبق یاد دلایا'، گورو گوگوئی نے طلبہ کے احتجاج کو سراہا

گورو گوگوئی نے کہا کہ طلبہ کی بڑی تعداد نے سڑکوں پر نکل کر ثابت کیا ہے کہ جمہوریت میں سوال پوچھنا اور اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانا ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ کئی نوجوانوں نے مشکلات اور دباؤ کے باوجود احتجاج جاری رکھا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اپنے مستقبل کے حوالے سے شدید فکر مند ہیں۔ گوگوئی کے مطابق نوجوانوں نے پورے ملک کو یہ پیغام دیا ہے کہ جمہوری نظام میں عوامی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا اور حکومت کو ان کے خدشات کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔

صرف سزا بڑھانے سے تعلیم نہیں سدھرے گی، نوجوانوں کا درد سمجھنا ہوگا: گورو گوگوئی

اپنی تقریر میں گورو گوگوئی نے کہا کہ حکومت نوجوانوں کو مستقبل کے چیلنجز کے لیے تیار کرنے کے بجائے انہیں صرف اپنا ووٹر بنانے پر توجہ دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر سے والدین اپنے بچوں کو انصاف کے مطالبے کے لیے دہلی بھیجنے پر مجبور ہوئے، کیونکہ انہیں موجودہ نظام پر اعتماد نہیں رہا۔ گوگوئی نے کہا کہ صرف سزاؤں میں اضافہ کر دینے سے تعلیمی نظام بہتر نہیں ہوگا بلکہ حکومت کو نوجوانوں کی بے چینی اور مایوسی کو سمجھنا ہوگا۔ انہوں نے طلبہ کی خودکشیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ اعدادوشمار ملک کے تعلیمی بحران کی سنگینی کو ظاہر کرتے ہیں، جبکہ گوپال داس نیرج کی نظم کا حوالہ دے کر حکومت کو جوابدہی کی یاد دہانی کرائی۔


گورو گوگوئی نے این ٹی اے کی قیادت پر اٹھائے سوالات، چیئرمین کو نہ ہٹانے پر حکومت پر تنقید

بحث کو آگے بڑھاتے ہوئے گورو گوگوئی نے نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) کی کارکردگی اور اس کی قیادت پر کئی سوالات اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے 47 افراد کے خلاف کارروائی کا دعویٰ کیا، جبکہ این ٹی اے میں منظور شدہ عہدوں کی تعداد ہی 34 ہے، اس لیے حکومت واضح کرے کہ کارروائی کن افراد کے خلاف کی گئی۔ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ جب ڈائریکٹر جنرل کو تبدیل کیا گیا تو چیئرمین کو کیوں برقرار رکھا گیا۔ گوگوئی نے الزام لگایا کہ حکومت ایک خاص نظریاتی وابستگی کی وجہ سے چیئرمین کا دفاع کر رہی ہے اور تعلیمی اداروں میں معیار کے بجائے نظریاتی تقرریوں کو ترجیح دی جا رہی ہے۔

اینٹی پیپر لیک بل صرف دکھاوا، حکومت تعلیم کے معاملے میں سنجیدہ نہیں: گورو گوگوئی

لوک سبھا میں اینٹی پیپر لیک (ترمیمی) بل پر بحث کے دوران کانگریس کے رکن پارلیمنٹ گورو گوگوئی نے حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ بل حقیقی اصلاحات کے بجائے صرف دکھاوے کے لیے لایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کوئی نیا قانون نہیں بلکہ پہلے سے موجود قانون میں ترمیم ہے، جبکہ دو سال قبل بھی ایسے ہی دعوے کیے گئے تھے۔ گوگوئی نے نیٹ 2024 پیپر لیک کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ گرفتار کیے گئے بیشتر ملزمان ضمانت پر باہر آ چکے ہیں، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ موجودہ قانون مؤثر ثابت نہیں ہوا۔ ان کے مطابق اگر قانون واقعی سخت ہوتا تو پیپر لیک جیسے واقعات دوبارہ پیش نہ آتے۔


ڈاکٹر جتیندر سنگھ: پیپر لیک کیسز میں پانچ ماہ کے اندر فیصلہ یقینی بنانے کی کوشش

اینٹی پیپر لیک بل پر بحث کا جواب دیتے ہوئے مرکزی وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ حکومت امتحانی بدعنوانیوں کے خلاف سخت اور مؤثر نظام قائم کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مجوزہ ترمیم کے تحت خصوصی فاسٹ ٹریک عدالتوں کے قیام کی تجویز دی گئی ہے، جہاں تفتیش دو ماہ کے اندر مکمل کی جائے گی اور اس کے بعد ٹرائل کورٹ تین ماہ میں مقدمے کا فیصلہ سنائے گی۔ ان کے مطابق وقوعہ سے لے کر عدالتی فیصلے تک پورا عمل پانچ ماہ سے زیادہ نہیں ہوگا، جبکہ اپیل صرف 30 دن کے اندر کی جا سکے گی اور اس کی سماعت ہائی کورٹ کی ڈبل بینچ کرے گی۔ وزیر نے کہا کہ حکومت نے قانون سازی کے ساتھ ہی خصوصی عدالتوں کے قیام کا عمل بھی شروع کر دیا ہے۔

اینٹی پیپر لیک بل پر لوک سبھا میں 10 گھنٹے بحث ہوگی، اسپیکر اوم برلا کا اعلان

اینٹی پیپر لیک بل پر بحث کے لیے پہلے 6 گھنٹے کا وقت مقرر کیا گیا تھا، تاہم اپوزیشن جماعتوں نے مؤقف اختیار کیا کہ معاملہ لاکھوں طلبہ کے مستقبل سے جڑا ہے، اس لیے زیادہ وقت دیا جانا چاہیے۔ اس پر پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے کہا کہ حکومت 10 گھنٹے تک بھی بحث کے لیے تیار ہے۔ اسپیکر اوم برلا نے ایوان کا احساس جاننے کے بعد اعلان کیا کہ اس اہم بل پر اب مجموعی طور پر 10 گھنٹے بحث ہوگی، تاکہ تمام جماعتوں کو اپنی بات رکھنے کا پورا موقع مل سکے۔


لوک سبھا میں اینٹی پیپر لیک بل پر بحث کا آغاز، کانگریس نے حکومت سے وضاحت مانگی

لوک سبھا کی کارروائی شروع ہوتے ہی اینٹی پیپر لیک بل پر بحث کا ماحول گرم ہو گیا۔ کانگریس کے رکن کے سی وینوگوپال نے بحث شروع ہونے سے قبل حکومت سے وضاحت طلب کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم یا وزیر داخلہ کی عدم موجودگی پر ایوان کو جواب دیا جانا چاہیے۔ اس پر اسپیکر اوم برلا نے کہا کہ متعلقہ وزیر ایوان میں موجود ہیں اور کارروائی معمول کے مطابق آگے بڑھے گی۔ اپوزیشن نے ابتدا ہی سے حکومت کو جوابدہ بنانے کی کوشش کی، جبکہ حکومت نے بل پر براہ راست بحث شروع کرنے پر زور دیا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔