لوک سبھا LIVE: اینٹی پیپر لیک بل پر بحث کے دوران اکھلیش یادو کا بیان، ’نوجوانوں نے ثابت کیا کہ حکومت کو بھی جھکایا جا سکتا ہے‘
لوک سبھا میں اینٹی پیپر لیک (ترمیمی) بل پر بحث جاری ہے۔ ایک روز قبل مرکزی وزیر مملکت برائے عملہ، عوامی شکایات و پنشن ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے یہ بل ایوان میں پیش کیا تھا، تاہم اپوزیشن کی جانب سے وزیر داخلہ امت شاہ کے بیان کا مطالبہ کیے جانے کے باعث بحث شروع نہیں ہو سکی تھی۔ ابتدا میں اس بل پر 6 گھنٹے بحث کے لیے وقت مقرر کیا گیا تھا، لیکن اپوزیشن کے مطالبے پر پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے حکومت کی جانب سے 10 گھنٹے تک بحث کرانے پر آمادگی ظاہر کی، جس کے بعد اسپیکر اوم برلا نے ایوان کی رضامندی سے بحث کا دورانیہ 10 گھنٹے کرنے کا اعلان کر دیا۔

جو چندہ نہیں بچا سکے، وہ پیپر لیک کیسے روکیں گے؟ اکھیلیش یادو
سماجوادی پارٹی کے صدر اور رکن پارلیمنٹ اکھیلیش یادو نے اینٹی پیپر لیک بل پر بحث کے دوران حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر 20 لاکھ طلبہ نے امتحان دیا تو اس سے تقریباً ایک کروڑ افراد کے خاندان متاثر ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ کے والدین نے خود اپنے بچوں کو احتجاج کے لیے بھیجا، کیونکہ انہیں اپنے مستقبل کی فکر تھی۔ اکھیلیش یادو نے کہا کہ اگر حکومت کا مؤقف درست ہے تو وزیر داخلہ امت شاہ کو ایوان میں آکر تمام سوالات کے جواب دینے چاہئیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا، ’’جو لوگ مندروں میں چڑھاوے کی حفاظت نہیں کر سکے، وہ پیپر لیک کیسے روکیں گے؟‘‘ انہوں نے الزام لگایا کہ گزشتہ برسوں میں متعدد امتحانات کے پرچے لیک ہوئے، کئی امتحانات عدالت کی مداخلت کے بعد منسوخ کرنا پڑے، جبکہ اتر پردیش ٹی ای ٹی کا پرچہ بھی ایک نہیں بلکہ تین بار لیک ہوا۔ اکھیلیش یادو نے مزید کہا کہ نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) میں آؤٹ سورسنگ کے بڑھتے رجحان پر تشویش ہے اور حکومت کو یہ بتانا چاہیے کہ وہ کون لوگ تھے جو این ٹی اے میں بیٹھ کر مبینہ بے ضابطگیوں میں ملوث تھے۔
نوجوانوں نے ثابت کر دیا کہ حکومت کو بھی جھکایا جا سکتا ہے: اکھیلیش یادو
لوک سبھا میں اینٹی پیپر لیک بل پر بحث کے دوران سماجوادی پارٹی کے صدر اور رکن پارلیمنٹ اکھیلیش یادو نے کہا کہ یہ کہا جاتا تھا کہ حکومت کبھی نہیں جھکتی، لیکن نئی نسل نے ثابت کر دیا کہ اگر عوام متحد ہوں تو حکومت کو بھی جھکایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کروڑوں نوجوانوں کے مسلسل احتجاج کے بعد حکومت کو اپنی بات ماننی پڑی اور سب سے پہلے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو عہدہ چھوڑنا پڑا۔ اکھیلیش یادو نے کہا کہ حکومت نے کئی مطالبات تسلیم کر لیے ہیں، لیکن یہ سمجھ سے بالاتر ہے کہ جن دیگر نکات پر اتفاق ہوا، انہیں ابھی تک ایوان کے سامنے کیوں نہیں رکھا جا رہا۔ انہوں نے مزید کہا کہ سابق وزیر تعلیم کے ایوان سے باہر استقبال پر انہیں کوئی اعتراض نہیں، تاہم اس فیصلے سے حکومت نے دراصل ایک وزیر کو ہٹا کر وزیراعظم کو بڑے سیاسی بحران سے بچانے کی کوشش کی ہے۔
’لڑکیوں پر تشدد اور پیلٹ گن کا استعمال نہیں بھولیں گے‘، گورو گوگوئی کا حکومت پر شدید حملہ
اپنی تقریر کے اختتامی حصے میں گورو گوگوئی نے احتجاج کے دوران پیش آنے والے مبینہ واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک ان مناظر کو کبھی نہیں بھولے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پولیس نے مظاہرین پر پیلیٹ گن کا استعمال کیا، خواتین کے ساتھ بدسلوکی کی گئی اور ایک طالبہ کے ساتھ مبینہ تشدد کا واقعہ بھی پیش آیا۔ گوگوئی نے واصف بریلوی کا شعر پڑھتے ہوئے کہا کہ اصولوں کی خاطر جدوجہد ضروری ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مختلف شہروں کے لوگوں نے مظاہرین کی مدد کی، وکلا نے بھی ان کا ساتھ دیا، لیکن حکومت احتجاج کو طاقت کے زور پر دبانے کی کوشش کرتی رہی۔ ان کے مطابق یہ بل اس لیے لایا گیا کیونکہ حکومت طلبہ کی تحریک کو کچلنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔
امت شاہ بتائیں پولیس کو طاقت کے استعمال کی اجازت کس نے دی؟ گورو گوگوئی
کانگریس رکن پارلیمنٹ نے احتجاج کے دوران پولیس کارروائی پر بھی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ مظاہرین کے خلاف آنسو گیس، لاٹھی چارج اور پیلیٹ گن کے استعمال کی اجازت کس نے دی اور مبینہ طور پر پولیس کو سر پر لاٹھیاں برسانے کی ہدایت کس سطح سے دی گئی۔ گوگوئی نے کہا کہ ان واقعات پر وزیر داخلہ امت شاہ اور وزیراعظم نریندر مودی کو ایوان اور ملک کے سامنے جواب دینا چاہیے۔ ان کے مطابق لاکھوں نوجوانوں کے مستقبل سے جڑے معاملے میں طاقت کے استعمال پر حکومت خاموش نہیں رہ سکتی۔
'نوجوانوں نے جمہوریت کا سبق یاد دلایا'، گورو گوگوئی نے طلبہ کے احتجاج کو سراہا
گورو گوگوئی نے کہا کہ طلبہ کی بڑی تعداد نے سڑکوں پر نکل کر ثابت کیا ہے کہ جمہوریت میں سوال پوچھنا اور اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانا ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ کئی نوجوانوں نے مشکلات اور دباؤ کے باوجود احتجاج جاری رکھا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اپنے مستقبل کے حوالے سے شدید فکر مند ہیں۔ گوگوئی کے مطابق نوجوانوں نے پورے ملک کو یہ پیغام دیا ہے کہ جمہوری نظام میں عوامی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا اور حکومت کو ان کے خدشات کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔
صرف سزا بڑھانے سے تعلیم نہیں سدھرے گی، نوجوانوں کا درد سمجھنا ہوگا: گورو گوگوئی
اپنی تقریر میں گورو گوگوئی نے کہا کہ حکومت نوجوانوں کو مستقبل کے چیلنجز کے لیے تیار کرنے کے بجائے انہیں صرف اپنا ووٹر بنانے پر توجہ دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر سے والدین اپنے بچوں کو انصاف کے مطالبے کے لیے دہلی بھیجنے پر مجبور ہوئے، کیونکہ انہیں موجودہ نظام پر اعتماد نہیں رہا۔ گوگوئی نے کہا کہ صرف سزاؤں میں اضافہ کر دینے سے تعلیمی نظام بہتر نہیں ہوگا بلکہ حکومت کو نوجوانوں کی بے چینی اور مایوسی کو سمجھنا ہوگا۔ انہوں نے طلبہ کی خودکشیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ اعدادوشمار ملک کے تعلیمی بحران کی سنگینی کو ظاہر کرتے ہیں، جبکہ گوپال داس نیرج کی نظم کا حوالہ دے کر حکومت کو جوابدہی کی یاد دہانی کرائی۔
گورو گوگوئی نے این ٹی اے کی قیادت پر اٹھائے سوالات، چیئرمین کو نہ ہٹانے پر حکومت پر تنقید
بحث کو آگے بڑھاتے ہوئے گورو گوگوئی نے نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) کی کارکردگی اور اس کی قیادت پر کئی سوالات اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے 47 افراد کے خلاف کارروائی کا دعویٰ کیا، جبکہ این ٹی اے میں منظور شدہ عہدوں کی تعداد ہی 34 ہے، اس لیے حکومت واضح کرے کہ کارروائی کن افراد کے خلاف کی گئی۔ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ جب ڈائریکٹر جنرل کو تبدیل کیا گیا تو چیئرمین کو کیوں برقرار رکھا گیا۔ گوگوئی نے الزام لگایا کہ حکومت ایک خاص نظریاتی وابستگی کی وجہ سے چیئرمین کا دفاع کر رہی ہے اور تعلیمی اداروں میں معیار کے بجائے نظریاتی تقرریوں کو ترجیح دی جا رہی ہے۔
اینٹی پیپر لیک بل صرف دکھاوا، حکومت تعلیم کے معاملے میں سنجیدہ نہیں: گورو گوگوئی
لوک سبھا میں اینٹی پیپر لیک (ترمیمی) بل پر بحث کے دوران کانگریس کے رکن پارلیمنٹ گورو گوگوئی نے حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ بل حقیقی اصلاحات کے بجائے صرف دکھاوے کے لیے لایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کوئی نیا قانون نہیں بلکہ پہلے سے موجود قانون میں ترمیم ہے، جبکہ دو سال قبل بھی ایسے ہی دعوے کیے گئے تھے۔ گوگوئی نے نیٹ 2024 پیپر لیک کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ گرفتار کیے گئے بیشتر ملزمان ضمانت پر باہر آ چکے ہیں، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ موجودہ قانون مؤثر ثابت نہیں ہوا۔ ان کے مطابق اگر قانون واقعی سخت ہوتا تو پیپر لیک جیسے واقعات دوبارہ پیش نہ آتے۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ: پیپر لیک کیسز میں پانچ ماہ کے اندر فیصلہ یقینی بنانے کی کوشش
اینٹی پیپر لیک بل پر بحث کا جواب دیتے ہوئے مرکزی وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ حکومت امتحانی بدعنوانیوں کے خلاف سخت اور مؤثر نظام قائم کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مجوزہ ترمیم کے تحت خصوصی فاسٹ ٹریک عدالتوں کے قیام کی تجویز دی گئی ہے، جہاں تفتیش دو ماہ کے اندر مکمل کی جائے گی اور اس کے بعد ٹرائل کورٹ تین ماہ میں مقدمے کا فیصلہ سنائے گی۔ ان کے مطابق وقوعہ سے لے کر عدالتی فیصلے تک پورا عمل پانچ ماہ سے زیادہ نہیں ہوگا، جبکہ اپیل صرف 30 دن کے اندر کی جا سکے گی اور اس کی سماعت ہائی کورٹ کی ڈبل بینچ کرے گی۔ وزیر نے کہا کہ حکومت نے قانون سازی کے ساتھ ہی خصوصی عدالتوں کے قیام کا عمل بھی شروع کر دیا ہے۔
اینٹی پیپر لیک بل پر لوک سبھا میں 10 گھنٹے بحث ہوگی، اسپیکر اوم برلا کا اعلان
اینٹی پیپر لیک بل پر بحث کے لیے پہلے 6 گھنٹے کا وقت مقرر کیا گیا تھا، تاہم اپوزیشن جماعتوں نے مؤقف اختیار کیا کہ معاملہ لاکھوں طلبہ کے مستقبل سے جڑا ہے، اس لیے زیادہ وقت دیا جانا چاہیے۔ اس پر پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے کہا کہ حکومت 10 گھنٹے تک بھی بحث کے لیے تیار ہے۔ اسپیکر اوم برلا نے ایوان کا احساس جاننے کے بعد اعلان کیا کہ اس اہم بل پر اب مجموعی طور پر 10 گھنٹے بحث ہوگی، تاکہ تمام جماعتوں کو اپنی بات رکھنے کا پورا موقع مل سکے۔
لوک سبھا میں اینٹی پیپر لیک بل پر بحث کا آغاز، کانگریس نے حکومت سے وضاحت مانگی
لوک سبھا کی کارروائی شروع ہوتے ہی اینٹی پیپر لیک بل پر بحث کا ماحول گرم ہو گیا۔ کانگریس کے رکن کے سی وینوگوپال نے بحث شروع ہونے سے قبل حکومت سے وضاحت طلب کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم یا وزیر داخلہ کی عدم موجودگی پر ایوان کو جواب دیا جانا چاہیے۔ اس پر اسپیکر اوم برلا نے کہا کہ متعلقہ وزیر ایوان میں موجود ہیں اور کارروائی معمول کے مطابق آگے بڑھے گی۔ اپوزیشن نے ابتدا ہی سے حکومت کو جوابدہ بنانے کی کوشش کی، جبکہ حکومت نے بل پر براہ راست بحث شروع کرنے پر زور دیا۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
