قومی خبریں

صابن اور بسکٹ ہوں گے مہنگے، ستمبر میں ’ایف ایم سی جی‘ کمپنیاں دوبارہ بڑھا سکتی ہیں قیمتیں

’ایف ایم سی جی‘ کمپنیوں نے جون کی سہ ماہی میں قیمتوں میں اوسطاً 2 سے 5  فیصد کا اضافہ کیا تھا۔ اب ستمبر سہ ماہی میں بھی چنندہ سامانوں کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>فائل تصویر آئی اے این ایس</p></div>

فائل تصویر آئی اے این ایس

 

اگر آپ بسکٹ، صابن، شیمپو، چائے، کافی یا روزمرہ کے دوسرے ’ایف ایم سی جی‘ (فاسٹ موونگ کنزیومر گڈس) پروڈکٹس خریدتے ہیں، تو آنے والے مہینوں میں آپکی جیب پر تھوڑا اثر پڑ سکتا ہے۔ اشیاء کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور جغرافیائی سیاسی تناؤ کے درمیان بہت سی بڑی ’ایف ایم سی جی‘ کمپنیاں ستمبر کی سہ ماہی میں دوبارہ قیمتیں بڑھانے کی تیاری کر رہی ہیں۔ ’ایف ایم سی جی‘ کمپنیوں نے جون کی سہ ماہی میں قیمتوں میں اوسطاً 2 سے 5 فیصد اضافہ کیا تھا، اب ستمبر سہ ماہی میں بھی اسی طرح چنندہ سامانوں کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔ کمپنیاں صرف قیمت بڑھانے کے بجائے ’شرنک فلیشن‘ کا بھی سہارا لے رہی ہیں۔ یعنی پروڈکٹ کی قیمت وہی رہتی ہے، لیکن پیکٹ میں سامان کی مقدار یعنی گرامیج کم کر دی جاتی ہے۔ کمپنیاں شوگر، پام آئل، کروڈ آئل اور دوسرے ان پٹ کاسٹ پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ اس کے ساتھ مانسون اور ال نینو جیسے موسم سے متعلق خطرات بھی تشویش کا باعث ہیں۔

’بریٹانیا‘ کمپنی کو توقع ہے کہ ستمبر کی سہ ماہی میں قیمتوں کا تعین 2 سے 1.5 فیصد کے قریب ہوگا۔ اس کا اثر 5 اور 10 روپے والے بسکٹ پیکس میں ’شرنک فلیشن‘ کے ذریعہ نظر آ سکتا ہے۔ کمپنی کے ایم ڈی اور سی ای او رکشیت ہرگیو نے کہا کہ پہلی سہ ماہی میں پرائسنگ سے متعلق اثرات بنیادی طور پر ’شرنک فلیشن‘ سے دیکھنے کو ملے۔ انہوں نے اشارہ دیا ہے کہ موجودہ سہ ماہی میں بھی تقریباً 1.5 سے 2 فیصد کا مزید اثر دیکھا جا سکتا ہے۔ حالانکہ کمپنی کے مطابق ڈیمانڈ ہے اور زیادہ لاگت کے باوجود ’ایف وائی 27‘ میں ’ای بی آئی ٹی ڈی اے‘ مارجن کو ’ایف وائی 26‘ کی سطح پر برقرار رکھنے کی کوشش کی جائے گی۔ گودریج کنزیومر پروڈکٹس نے جون سہ ماہی میں تقریباً 5 فیصد اوسطاً قیمت میں اضافہ کیا تھا۔ کمپنی ستمبر سہ ماہی میں بھی اسی نوعیت کا اضافہ کر سکتی ہے۔ لیکن کروڈ آئل کی قیمتوں کے تعلق سے زیادہ وضاحت کا انتظار ہے۔ ڈابر انڈیا کا بھی ماننا ہے کہ ان پٹ کاسٹ کا دباؤ کچھ دنوں تک رہ سکتا ہے۔

ایسی صورتحال میں کمپنی قیمتوں میں چنندہ اضافے کے ساتھ لاگت میں کمی اور پیداواریت پر توجہ دے گی۔ کمپنی نے ’ایف وائی 27‘ میں دوہرے ہندسے کی آمدنی میں اضافے پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ ہندوستان یونی لیور، یعنی ایچ یو ایل نے بھی ستمبر سہ ماہی میں کئی زمرے میں قیمت بڑھانے کے اشارے دیے ہیں۔ کمپنی کو اپریل جون کے مقابلے میں ستمبر سہ ماہی میں 2 سے 5 فیصد کی ترتیب وار افراط زر کی امید ہے۔ ٹاٹا کنزیومر پروڈکٹس نے کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو آگے بھی قیمتوں میں تبدیلی کی جا سکتی ہے، کیوں کہ ان پٹ کاسٹ مسلسل تبدیل ہو رہا ہے۔ کمپنیاں مغربی ایشیا کی صورتحال پر بھی نظر رکھے ہوئے ہیں۔ وہیں نیسلے انڈیا نے جیو پولیٹیکل اور مہنگائی سے وابستہ دباؤ کو غور و فکر کا موضوع بتایا ہے۔ کمپنی کے مطابق ان حالات میں شارٹ ٹرم میں مجموعی صارفیت کچھ نرم پڑ سکتی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔