اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو ’پیجر‘ لے کر پہنچے، حزب اللہ پر کسا طنز
اسرائیلی وزیر اعظم کی تقریر شروع ہوتے ہی درجنوں ممالک کے سفارت کار اقوام متحدہ کے ہال سے باہر نکل گئے۔ کئی نشستیں خالی ہو گئیں۔

اسرائیل کے وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو نے جمعرات کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اپنی تقریر کے دوران اچانک ایک ’پیجر‘ ہاتھ میں لے کر لہرایا اور لوگوں سے سوال کیا کہ ’یہ بیپر یاد ہے؟‘ دراصل انہوں نے اس پیجر کے ذریعے ستمبر 2024 میں لبنان میں حزب اللہ کے خلاف کیے گئے دھماکوں کو یاد کیا اور کہا کہ ’’اسرائیل نے حماس پر حملہ کیا، ہم نے حزب اللہ کو بھی نشانہ بنایا۔ یاد ہیں وہ پیجر؟‘‘
اسرائیلی وزیر اعظم کی تقریر شروع ہوتے ہی درجنوں ممالک کے سفارت کار اقوام متحدہ کے ہال سے باہر نکل گئے۔ کئی نشستیں خالی ہو گئیں۔ اس پر نیتن یاہو نے ہال سے واک آؤٹ کرنے والوں کو ’اخلاقی طور پر بزدل‘ قرار دیا اور کہا کہ ’’اگر مزید کوئی بزدل اب بھی ہال میں موجود ہے تو وہ بھی باہر چلا جائے۔‘‘ اس کے بعد انہوں نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے جوہری ٹھکانوں پر حملہ کرنا ان کے لیے وزیر اعظم کی حیثیت سے آسان ترین فیصلوں میں سے ایک تھا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے پیجر حملے کا بھی ذکر کیا۔
نیتن یاہو نے اپنی تقریر میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان تنازعہ کا ذکر کرتے ہوئے پیجر کو ثبوت کے طور پر دکھایا۔ انہوں نے ستمبر 2024 میں لبنان اور شام میں حزب اللہ سے وابستہ ہزاروں پیجرز میں ہونے والے دھماکوں کو یاد کیا۔ رپورٹس کے مطابق اس حملے میں 12 افراد ہلاک ہوئے تھے، جن میں 2 بچے بھی شامل تھے، جبکہ 3 ہزار سے زیادہ افراد زخمی ہوئے تھے۔ نیتن یاہو نے اس کارروائی کو حزب اللہ کے خلاف اسرائیل کی ایک بڑی فوجی کارروائی کے طور پر پیش کیا۔ یہ حملہ 2 مراحل میں کیا گیا تھا۔ 17 ستمبر 2024 کو بڑی تعداد میں پیجر اچانک پھٹنے لگے۔ اس کے اگلے دن ہاتھ میں پکڑ کر استعمال کیے جانے والے واکی ٹاکی میں بھی دھماکے ہوئے۔ دوسرے مرحلے میں بھی بڑی تعداد میں لوگ ہلاک اور زخمی ہوئے۔ ان حملوں کے بعد حزب اللہ کے مواصلاتی نیٹورک کو بڑا دھچکا لگا تھا۔
نیتن یاہو نے اسرائیل کی موجودہ لڑائی کو ’7 محاذوں کی جنگ‘ قرار دیا۔ انہوں نے حماس، حزب اللہ، حوثیوں، ایران، عراق اور شام میں موجود ملیشیا اور مغربی کنارے میں فلسطینی جنگجوؤں کا ذکر کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ 3 برسوں کے دوران اسرائیلی فوجیوں نے ان تمام محاذوں پر جنگ لڑی ہے۔ نیتن یاہو نے ایران کے جوہری ٹھکانوں پر حملے کے بارے میں کہا کہ یہ فیصلہ ان کے لیے آسان تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر اسرائیل نے کارروائی نہیں کی ہوتی تو اس کے نتائج انتہائی سنگین ہوتے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اسرائیل اپنے دفاع کے ساتھ ان ممالک کا بھی دفاع کر رہا ہے، جن کے نمائندے ان کی تقریر کے دوران ہال سے باہر چلے گئے۔
نیتن یاہو نے غزہ میں اسرائیل پر لگائے جا رہے نسل کشی کے الزامات کو بھی مسترد کر دیا۔ انہوں نے ان الزامات کو ’صدی کا سب سے بڑا جھوٹ‘ قرار دیا۔ اسرائیل اس سے پہلے بھی غزہ میں نسل کشی اور جنگی جرائم کے الزامات سے انکار کرتا رہا ہے۔ اپنی تقریباً 40 منٹ کی تقریر میں نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی بھی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے خلاف جنگ میں امریکہ اور اسرائیل نے مل کر کام کیا۔ اقوام متحدہ میں ان کی یہ تقریر ایسے وقت ہوئی ہے، جب اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کے خلاف بین الاقوامی سطح پر دباؤ اور احتجاج جاری ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
