
تصویر/آئی اے این ایس
جنوبی سکم میں سمرڈونگ ٹنل حادثے میں مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 22 ہو گئی ہے۔ افسران نے بتایا کہ ٹنل سے اب تک 22 لاشیں برآمد کی جا چکی ہیں، جبکہ ملبے میں پھنسے باقی ملازمین کا پتا لگانے کے لیے تلاشی مہم جاری ہے۔ این ایچ پی سی تیستا اسٹیج-6 ہائیڈرو پاور پروجیکٹ میں رات بھر تلاشی اور بچاؤ مہم جاری رہی۔ تازہ ترین سرکاری معلومات کے مطابق بچاؤ ایجنسیوں نے بدھ کی دیر رات مہم تیز کی۔ آسنسول کی ایسٹرن کول فیلڈز لمیٹڈ (ای سی ایل) کی دوسری ریسکیو ٹیم رات تقریباً 10 بجے جائے حادثہ پر پہنچی اور فوری طور پر مشن میں شامل ہو گئی۔ وہ اس مشکل مشن میں مدد کے لیے اضافی تکنیکی مہارت اور آلات بھی اپنے ساتھ لائے۔
واضح رہے کہ واقعے کے بعد سے ہی، بھاری مشینری اور تکنیکی بچاؤ کے آلات سے لیس ٹیمیں ٹنل میں پھنسے ملازمین کو باہر نکالنے کے لیے چوبیسوں گھنٹے کام کر رہی ہیں۔ نیشنل ڈیزاسٹر ریسپانس فورس (این ڈی آر ایف)، ای سی ایل، اسٹیٹ ڈیزاسٹر ریسپانس فورس اور دیگر ہنگامی ایجنسیوں کی ٹیموں نے انتہائی خطرناک حالات میں کام کیا۔ ریسکیو ٹیموں نے پھنسے ہوئے باقی مزدوروں کو نکالنے کی کوشش میں آدھی رات تک مہم جاری رکھی۔
ریاستی حکومت، ضلع انتظامیہ اور تمام متعلقہ ایجنسیاں اس مہم پر باریک بینی سے نظر رکھ رہی ہیں۔ ریاستی حکومت نے اس سانحے میں اپنی جان گنوانے والوں کے خاندانوں کو ہر ممکن مدد کا یقین دلایا ہے اور آپریشن میں مصروف بچاؤ کارکنان کو ہر ضروری مدد فراہم کرنے کے اپنے عزم کو دہرایا ہے۔قابل ذکر ہے کہ ٹنل حادثہ پیر کی دوپہر تقریباً 3 بجے پیش آیا تھا۔ یہ ٹنل تیستا اسٹیج-6 ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹ کے تحت پٹیل انجینئرنگ کی جانب سے بنائی جا رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ٹنل کے اندر اچانک لینڈ سلائیڈنگ ہوئی، جس کی وجہ سے سرنگ کا ایک حصہ ملبے سے بھر گیا اور کئی مزدور اندر پھنس گئے۔ حادثے کے وقت ٹنل میں تعمیراتی کام چل رہا تھا۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔