دہلی کی ہوا میں وقتی بہتری، پھر بھی 257 میں 167 دن پی ایم10 گزشتہ سال سے بدتر: اجے ماکن

اجے ماکن کے مطابق موسم کا اثر نکالنے کے بعد دہلی کی پی ایم10 ہوا کا گزشتہ سال سے بدتر رہنے والا سلسلہ ٹوٹ چکا ہے، مگر 257 میں 167 دن آلودگی زیادہ رہی۔ وزیپور میں اے کیو آئی 148 ریکارڈ ہوا

<div class="paragraphs"><p>اجے ماکن / تصویر سوشل میڈیا</p></div>
i

نئی دہلی: کانگریس کے سینئر رہنما اور راجیہ سبھا کے رکن اجے ماکن نے دہلی کی فضائی آلودگی سے متعلق اپنی تازہ ’سانس‘ رپورٹ میں کہا ہے کہ موسم کے اثرات کو الگ کرنے کے بعد دہلی کی پی ایم10 ہوا کا گزشتہ سال کے مقابلے میں مسلسل خراب رہنے والا سلسلہ ٹوٹ چکا ہے، تاہم رواں سال کے مجموعی اعداد و شمار اب بھی فضائی آلودگی کی سنگین صورت حال کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

ماکن کے مطابق 2026 میں اب تک دستیاب 257 دنوں کے اعداد و شمار میں 167 دن ایسے رہے جب دہلی کی پی ایم10 کی سطح گزشتہ سال کے متعلقہ دن سے زیادہ تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ حالیہ دنوں میں موسم کے اثرات الگ کرنے کے بعد پی ایم10 کا گزشتہ سال سے مسلسل زیادہ رہنے والا سلسلہ ختم ہو گیا ہے، لیکن پورے سال کا ریکارڈ اب بھی آلودگی کے مستقل مسئلے کو ظاہر کرتا ہے۔

’سانس‘ سیریز کی تازہ رپورٹ کے مطابق آج صبح دہلی میں سب سے زیادہ اے کیو آئی وزیپور میں ریکارڈ کیا گیا، جہاں یہ 148 رہا۔ سی پی سی بی کے پیمانے پر یہ ’درمیانہ‘ زمرہ ہے اور ماکن کے مطابق اس ریڈنگ کو پی ایم10 بڑھا رہا ہے۔

وزیپور کے متعلقہ مانیٹر کے 4 کلومیٹر کے دائرے میں تقریباً 14.1 لاکھ افراد رہتے ہیں۔ رپورٹ میں تاہم واضح کیا گیا ہے کہ کسی مانیٹر کے 4 کلومیٹر کے دائرے میں رہنے کا مطلب یہ نہیں کہ وہاں رہنے والا ہر شخص عین اسی مانیٹر پر ریکارڈ ہونے والی ہوا میں سانس لے رہا ہے۔ یہ اعداد و شمار صرف مانیٹر کی ریڈنگ کے اردگرد موجود آبادی کی نشاندہی کرتے ہیں۔


رپورٹ کے مطابق آج دہلی میں ’درمیانہ‘ یا اس سے بدتر اے کیو آئی ریکارڈ کرنے والے مانیٹروں کے 4 کلومیٹر کے دائرے میں تقریباً 63.2 لاکھ افراد رہتے ہیں، جو دہلی کی مجموعی آبادی کا 30.2 فیصد ہے۔

سی پی سی بی کے مطابق ’درمیانہ‘ اے کیو آئی کی سطح پر بھی پھیپھڑوں کے امراض، خصوصاً دمے میں مبتلا افراد کے ساتھ دل کے مریضوں، بچوں اور بزرگوں کو سانس لینے میں تکلیف ہو سکتی ہے۔ اس لیے ماکن نے اے کیو آئی کے نسبتاً کم درجے کو بھی مکمل طور پر بے ضرر تصور نہ کرنے کی جانب توجہ دلائی ہے۔

تازہ رپورٹ کے لیے 13 ستمبر صبح 10 بجے سے 14 ستمبر صبح 10 بجے تک کے اعداد و شمار استعمال کیے گئے ہیں۔ صحت پر ممکنہ اثرات کے حوالے سے سی پی سی بی کے نیشنل ایئر کوالٹی انڈیکس کا حوالہ دیا گیا ہے۔

ماکن کی ’سانس‘ سیریز میں دہلی کی فضائی آلودگی کے روزانہ اعداد و شمار کو عوام کے سامنے رکھنے پر زور دیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ روزانہ ریکارڈ کیے جانے والے اعداد و شمار کو خاموشی سے دبایا نہیں جا سکتا اور فضائی معیار کی صورت حال پر مسلسل نظر رکھنا ضروری ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔