
تصویر سوشل میڈیا، بشکریہ @jyotirmathah
جیوتش پیٹھ کے شنکراچاریہ سوامی اویمکتیشورانند سرسوتی کی بھوک ہڑتال اتوار دوپہر سے مسلسل جاری ہے۔ انہوں نے مکمل طور سے کھانا اور پانی چھوڑ رکھا ہے۔ شنکراچاریہ کا مطالبہ ہے کہ انتظامیہ پروٹوکول کے ساتھ انہیں لے جا کر ’گنگا اسنان‘ کرائے۔ ’ٹی وی 9 بھارت ورش‘ سے بات چیت میں انہوں نے بتایا کہ انتظامیہ کے رویے سے انہیں کافی تکلیف پہنچی ہے۔ شنکراچاریہ نے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ’’وزیر اعلیٰ کے کہنے پر میرے ساتھ یہ سلوک کیا گیا تاکہ وہ ہمیں سبق سکھا سکیں۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے ’ستوا بابا‘ کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ ان سے تنازعہ کے بعد دوسرے سنت کو مکمل وی آئی پی انتظام کے ساتھ ’اسنان‘ کرایا گیا جو دوہرا معیار ہے۔
Published: undefined
واضح رہے کہ شنکراچاریہ اور انتظامیہ کے درمیان ہوئے تنازعہ کے بعد ستوا بابا سینکڑوں کی تعداد میں اپنے حامیوں کے ساتھ ’مونی اماوسیا‘ پر اسنان کے لیے پہنچے تھے اور انتظامیہ نے انہیں مکمل وی آئی پی انتظام کے ساتھ گنگا اسنان کرایا تھا۔ لیکن شنکراچاریہ کو روک دیا تھا اور ان کے حامیوں کے ساتھ مار پیٹ کی تھی۔ شنکراچاریہ نے سنگین الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ کل ان کے قتل کی سازش تھی۔ شنکراچاریہ نے بیریکیڈنگ توڑے جانے والے الزام پر کہا کہ ان کے لوگوں نے بیریر نہیں توڑا تھا بلکہ وہاں موجود پولیس اہلکاروں سے بات کرنے گئے تھے۔
Published: undefined
قابل ذکر ہے کہ 18 جنوری کو ’مونی اماوسیا‘ پر پالکی اور عقیدت مندوں کے ساتھ اسنان کی اجازت نہ دیے جانے پر شنکراچاریہ اور انتظامیہ کے درمیان تنازعہ ہو گیا تھا۔ سنگم نوز پر بھیڑ کو دیکھتے ہوئے انتظامیہ نے شنکراچاریہ سے کم تعداد میں پیدل جا کر اسنان کرنے کی پیشکش کی تھی۔ تنازعہ کے بعد پولیس انتظامیہ نے انہیں وہیں سے واپس بھیج دیا تھا۔ واپس لوٹائے جانے کے بعد سے ہی شنکراچاریہ سوامی اویمکتیشورانند اپنے کیمپ میں بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہیں۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined