
یوپی میں کہرے کا منظر / آئی اے این ایس
اتر پردیش میں کڑاکے کی سردی، گھنے کہرے اور برفیلی ہواؤں نے معمولاتِ زندگی کو بری طرح متاثر کر دیا ہے۔ ریاست کے بیشتر حصوں میں دن اور رات کے درجۂ حرارت میں مسلسل کمی درج کی جا رہی ہے، جس کے باعث کئی اضلاع میں شدید سرد دن (کولڈ ڈے) جیسے حالات پیدا ہو گئے ہیں۔ محکمۂ موسمیات نے 8 جنوری کو بھی ریاست کے 25 اضلاع میں گھنے کہرے اور شدید سرد دن کی وارننگ جاری کی ہے۔
Published: undefined
محکمۂ موسمیات کے مطابق آئندہ دو دن تک کہرے کی دبیز تہہ برقرار رہنے کا امکان ہے، جس کی وجہ سے زیادہ سے زیادہ درجۂ حرارت معمول سے کم رہے گا۔ اس کے بعد دو دن کے دوران درجۂ حرارت میں 3 سے 5 ڈگری سیلسیس تک اضافہ ممکن ہے، تاہم اس کے بعد ایک بار پھر 2 سے 4 ڈگری سیلسیس تک کمی آنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ کم سے کم درجۂ حرارت بھی عام حالات کے مقابلے نیچے رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
Published: undefined
ریاست میں مجموعی طور پر موسم خشک رہنے کی توقع ہے، لیکن مغربی اتر پردیش میں نوئیڈا، میرٹھ، سہارنپور، مظفر نگر اور اس سے ملحقہ اضلاع میں گھنا کہرا چھایا رہنے کا امکان ہے۔ مشرقی اور وسطی اتر پردیش میں لکھنؤ، کانپور اور آس پاس کے علاقوں میں شدید سرد دن کی وارننگ دی گئی ہے، جہاں تیز اور برفیلی ہوائیں سردی کی شدت میں مزید اضافہ کریں گی۔
Published: undefined
محکمۂ موسمیات نے لکھنؤ، اناؤ، رائے بریلی، بارہ بنکی، کانپور، امیٹھی، گونڈا، پرتاپ گڑھ، سلطان پور، بلرام پور، سدھارتھ نگر، مہاراج گنج، کشی نگر، دیوریا، بستی، سنت کبیر نگر، امبیڈکر نگر، جونپور، گورکھپور، اعظم گڑھ، مئو، بلیا، غازی پور، وارانسی اور چندولی میں شدید سرد دن کی وارننگ جاری کی ہے۔ اس کے علاوہ سہارنپور، مظفر نگر، شاملی، باغپت، میرٹھ، غازی آباد، نوئیڈا، مراد آباد، بریلی اور دیگر کئی اضلاع میں کہرے کا یلو الرٹ نافذ کیا گیا ہے۔
Published: undefined
ریاست کے سرد ترین اضلاع میں ایودھیا اور اعظم گڑھ شامل ہیں، جہاں کم سے کم درجۂ حرارت 5 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا۔ گورکھپور، چرک اور علی گڑھ میں بھی درجۂ حرارت 5 سے 6 ڈگری سیلسیس کے درمیان رہا۔ شدید سردی اور کہرے کے باعث سڑک، ریل اور ہوائی آمد و رفت متاثر ہو رہی ہے۔ سردی کی شدت کے پیش نظر ریاست کے بیشتر اضلاع میں اسکولوں کی سرمائی تعطیلات میں توسیع کر دی گئی ہے، جب کہ لوگ گھروں میں محدود رہنے اور سردی سے بچاؤ کے لیے الاؤ کا سہارا لینے پر مجبور ہیں۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined