
تصویر ’ایکس‘ @INCIndia
منریگا کے اصولوں میں تبدیلی کر مودی حکومت نے ’وی بی-جی رام جی‘ نام سے جو قانون لایا ہے، اس کے خلاف کانگریس سڑکوں پر اتر چکی ہے۔ کانگریس عوام سے لگاتار اپیل کر رہی ہے کہ ’منریگا بچاؤ سنگرام‘ نام سے جاری اس مہم مسے جڑیں، تاکہ مودی حکومت کو ایک بار پھر جھکنے کے لیے مجبور کیا جا سکے۔ اس مہم کا مقصد منریگا کو بچانا اور مزدوروں کے حقوق کی حفاظت کرنا ہے۔
Published: undefined
کانگریس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنی مہم سے متعلق کچھ پوسٹس جاری کی ہیں، جس میں منریگا کے فائدے اور ’جی رام جی‘ کے نقصانات کو سامنے رکھا گیا ہے۔ ایک ویڈیو میں بتایا گیا ہے کہ ’’نریندر مودی نے منریگا کو برباد کر ملک کے کروڑوں مزدوروں کے ساتھ دھوکہ کیا ہے۔ منریگا صرف منصوبہ نہیں تھا، بلکہ یہ کام کے حق کی قانونی گارنٹی تھی، جہاں مزدوروں کے مطالبہ پر انھیں کام دیا جاتا تھا۔‘‘ اس میں یہ بھی جانکاری دی گئی ہے کہ ’’اب مودی حکومت ’وی بی-جی رام جی‘ نام سے ایک نیا قانون لائی ہے، جس میں مرکزی حکومت طے کرے گی کہ مزدوروں کو کب کام دینا ہے۔‘‘
Published: undefined
نئے قانون کی ایک بڑی خامی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ویڈیو میں مطلع کیا گیا ہے کہ ’’اس نئے قانون میں بجٹ تناسب 60 فیصد اور 40 فیصد میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔ ایسے میں ریاستی حکومت پر منصوبہ کو لے کر معاشی بوجھ مزید بڑھ جائے گا۔ یہ فیصلہ ریاستوں کے مفاد میں نہیں ہوگا، کیونکہ پہلے سے ہی منریگا کا ہزاروں کروڑ روپیہ اٹکا ہوا ہے۔ اس صورت میں یہ منصوبہ بند ہو جائے گا۔ یعنی مزدوروں کو نہ کام ملے گا اور نہ ہی ان کی کمائی ہوگی۔‘‘ غور کرنے والی بات یہ ہے کہ منریگا میں مزدوری کا 10 فیصد حصہ ہی ریاستی حکومت کے ذمہ تھا، باقی 90 فیصد مزدوری کی ادائیگی مرکزی حکومت کو کرنی ہوتی تھی۔
Published: undefined
اس ویڈیو پوسٹ میں کانگریس نے ’منریگا بچاؤ سنگرام‘ کا ذکر بھی کیا ہے اور اس منصوبہ کی حفاظت کے لیے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ مہم سے جڑیں۔ ویڈیو جاری کرنے کے ساتھ ساتھ پوسٹ میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ ’’محروم، استحصال زدہ اور غریب لوگوں کے لیے منریگا ذریعہ معاش بنا تھا۔ انھیں عزت اور وقار حاصل ہوا تھا۔ ہم اسے ختم نہیں ہونے دے سکتے۔ منریگا کو بچانا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔‘‘
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined