قومی خبریں

جنک پوری گڑھا حادثہ: متوفی کمل دھیانی کے اہل خانہ سے ملنے پہنچے سوربھ بھاردواج، پولیس نے حراست میں لے لیا

جنک پوری میں گڑھے کے حادثے میں ہلاک کمل دھیانی کے گھر تعزیت کے لیے پہنچنے والے عام آدمی پارٹی کے دہلی صدر سوربھ بھاردواج کو پولیس نے حراست میں لے لیا، جس پر انہوں نے قانون و نظم پر سوال اٹھائے

<div class="paragraphs"><p>سوربھ بھاردواج / آئی اے این ایس</p></div>

سوربھ بھاردواج / آئی اے این ایس

 
IANS

نئی دہلی: عام آدمی پارٹی دہلی کے صدر سوربھ بھاردواج اتوار کو پارٹی رہنماؤں کے ساتھ جنک پوری میں گڑھے کے حادثے میں جان گنوانے والے کمل دھیانی کے گھر تعزیت کے لیے پہنچے، جہاں پولیس نے انہیں حراست میں لے لیا۔ اس کارروائی کے بعد انہوں نے دہلی میں قانون و نظم کی صورت حال پر سخت سوالات اٹھائے۔

Published: undefined

حراست میں لیے جانے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سوربھ بھاردواج نے کہا کہ قومی راجدھانی میں قانون و نظم پر کسی کی توجہ نہیں ہے۔ ان کے مطابق جو لوگ مسائل پر آواز اٹھا رہے ہیں، انہیں دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے اور زمینی سطح پر کوئی مؤثر کام نہیں ہو رہا۔

انہوں نے کہا کہ کمل دھَیانی کے اہل خانہ کی مدد کے لیے کوئی سرکاری نمائندہ سامنے نہیں آیا اور نہ ہی ان کی شکایت درج کی گئی۔ ان کا دعویٰ تھا کہ متوفی کے والدین، بھائی اور دیگر رشتہ دار پوری رات چھ تھانوں کے چکر لگاتے رہے، لیکن ایف آئی آر درج نہیں کی گئی۔

Published: undefined

سوربھ بھاردواج نے کہا کہ جب وہ کینڈل مارچ اور تعزیت کے لیے وہاں پہنچے تو 6 تھانوں کی پولیس گاڑیاں اور اضافی نفری موقع پر موجود تھی۔ ان کے بقول اگر ابتدائی مرحلے میں شکایت درج کر لی جاتی تو صورتحال مختلف ہو سکتی تھی۔ انہوں نے اسے زیادتی قرار دیتے ہوئے کہا کہ متاثرہ خاندان انصاف کا منتظر ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ چاہے جھگی بستی ہو یا بلند عمارتیں، دہلی میں عوامی مسائل پر توجہ نہیں دی جا رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ جو شہری سوال اٹھاتے ہیں، انہیں خاموش کرانے کی کوشش ہوتی ہے۔ سوربھ بھاردواج نے کہا کہ دہلی کی عوام سب کچھ دیکھ رہی ہے اور وقت آنے پر مناسب جواب دے گی۔

Published: undefined

انہوں نے الزام لگایا کہ موجودہ نظام میں عام لوگوں کی شکایات سننے والا کوئی نہیں اور عوام خود کو بے سہارا محسوس کر رہی ہے۔ پولیس کی جانب سے اس معاملے پر فوری ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined