
سمبھل میں فلیگ مارچ کی فائل تصویر / آئی اے این ایس
سنبھل: اتر پردیش کے ضلع سنبھل میں نومبر 2024 کے دوران پیش آئے تشدد کے معاملے میں عدالت نے اہم قدم اٹھاتے ہوئے پولیس افسران کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا ہے۔ چیف جوڈیشل مجسٹریٹ وبھانشو سدھیر کی عدالت نے منگل کے روز اُس وقت کے سرکل آفیسر سنبھل انوج چودھری اور دیگر 11 پولیس اہلکاروں کے خلاف تعزیری دفعات کے تحت مقدمہ درج کرنے کی ہدایت دی۔
Published: undefined
یہ حکم یامین نامی شہری کی عرضی پر دیا گیا ہے، جن کے مطابق اُن کے 24 سالہ بیٹے عالم کو پولیس فائرنگ میں گولی لگی تھی۔ یامین، جو تھانہ نخاسہ علاقے کے محلہ کھگّو سرائے انجمن کے رہنے والے ہیں، نے 6 فروری 2025 کو عدالت میں درخواست دائر کی تھی۔ درخواست میں بتایا گیا کہ 24 نومبر 2024 کو ان کا بیٹا عالم گھر سے رسک (ٹوسٹ) فروخت کرنے نکلا تھا اور شاہی جامع مسجد کے علاقے میں پہنچنے پر پولیس نے اس پر گولی چلا دی۔
عرضی میں الزام لگایا گیا کہ فائرنگ بلا اشتعال کی گئی اور تشدد پر قابو پانے کے نام پر ایک بے قصور نوجوان کو نشانہ بنایا گیا۔ یامین کا کہنا ہے کہ واقعے کے بعد پولیس نے نہ صرف مناسب جانچ نہیں کی بلکہ زخمی نوجوان کو بروقت اسپتال پہنچانے میں بھی لاپرواہی برتی گئی، جس کے باعث اس کی حالت مزید بگڑ گئی۔
Published: undefined
درخواست میں اُس وقت کے سی او سنبھل انوج چودھری، سنبھل کوتوالی کے انسپکٹر انوج تومر سمیت کل 12 پولیس اہلکاروں کو نامزد ملزم بنایا گیا تھا۔ عدالت میں 9 جنوری 2026 کو اس معاملے کی سماعت ہوئی، جس کے بعد تمام دلائل اور دستیاب مواد پر غور کرتے ہوئے عدالت نے ایف آئی آر درج کرنے کا حکم صادر کیا۔
انوج چودھری واقعے کے وقت سنبھل میں سرکل آفیسر کے عہدے پر تعینات تھے اور اس وقت فیروزآباد میں اے ایس پی دیہی کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔
Published: undefined
عدالتی حکم کے بعد محکمہ پولیس اور ضلع انتظامیہ میں کھلبلی مچ گئی ہے، جبکہ اعلیٰ افسران اس معاملے پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہیں۔ یہ تشدد نومبر 2024 میں شاہی جامع مسجد کے علاقے میں پیش آیا تھا، جہاں پولیس اور مقامی افراد کے درمیان شدید جھڑپ ہوئی تھی۔ پولیس نے اس وقت دعویٰ کیا تھا کہ حالات پر قابو پانے کے لیے طاقت کا استعمال ناگزیر تھا، تاہم مقامی لوگوں کا الزام رہا ہے کہ کارروائی حد سے زیادہ تھی اور بے قصور شہریوں کو نشانہ بنایا گیا۔
Published: undefined