قومی خبریں

بڑھتی مہنگائی، بڑھتا قرض، گھٹتی کمائی، مودی حکومت میں متوسط طبقے کے حصے میں آئی صرف تباہی: جے رام رمیش

جے رام رمیش نے ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’ایک طرف امیروں کی دولت اور کارپوریٹ منافع بڑھ رہے ہیں، تو دوسری طرف متوسط طبقے کے خاندان اپنے گھر کا بجٹ سنبھالنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>جے رام رمیش /&nbsp; سوشل میڈیا</p></div>

جے رام رمیش /  سوشل میڈیا

 

کانگریس نے بڑھتی مہنگائی، قرض اور گھٹتی آمدنی کو لے کر مودی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ پارٹی نے کہا کہ حکومت کو معاشی بدحالی کی حقیقت تسلیم کرنی چاہیے اور روزگار کے مواقع بڑھانے اور مہنگائی پر قابو پانے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے چاہئیں۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری ایک پوسٹ کا آغاز کچھ اس طرح کیا ہے کہ ’’بڑھتی مہنگائی، بڑھتا قرض، گھٹتی آمدنی، مودی حکومت میں متوسط طبقے کے حصے میں آئی صرف تباہی!‘‘

جے رام رمیش نے اپنی ’ایکس‘ پوسٹ میں اخبار کا ایک تراشا شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’’مودی حکومت مہنگائی کی اصل تصویر چھپانے کے لیے اعداد و شمار کو توڑ مروڑ کر پیش کر رہی ہے۔ گرتی معیشت اور روزگار کے گھٹتے مواقع کا سب سے زیادہ خمیازہ نوجوان نسل بھگت رہی ہے۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ کمپنیاں کم بھرتیاں کر رہی ہیں اور لوگوں کی سالوں پرانی ملازمتیں تک جا رہی ہیں۔‘‘

کانگریس لیڈر جے رام رمیش کے مطابق مہنگائی کے مقابلے میں آمدنی اور بچت مسلسل گھٹتی جا رہی ہے۔ خاندانوں کا قرض تیزی سے بڑھ رہا ہے اور روزمرہ کے اخراجات پورے کرنے کے لیے انہیں ادھار لینے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔ تنخواہیں یا تو جمود کا شکار ہیں یا مہنگائی کے مطابق ان میں اضافہ کیے جانے کے باوجود ان کی حقیقی قوت خرید کم ہو گئی ہے۔ ایک طرف امیروں کی دولت اور کارپوریٹ منافع بڑھ رہے ہیں، تو دوسری طرف متوسط طبقے کے خاندان اپنے گھر کا بجٹ سنبھالنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ ایسے مشکل معاشی حالات میں خاندان اپنی بچت خرچ کر کے گزارا کرنے کو مجبور ہیں۔ حکومت جی ڈی پی کے سہارے سچائی سے انکار کر رہی ہے، جب کہ متوسط طبقے اور غریب خاندان اپنے معاشی مستقبل کو لے کر بہت فکر مند ہیں۔

جے رام رمیش نے مزید لکھا کہ ’’ہمارا واضح مطالبہ ہے کہ حکومت معاشی بدحالی کی حقیقت تسلیم کرے، روزگار کے مواقع بڑھائے اور مہنگائی پر قابو پانے کے لیے ٹھوس قدم اٹھائے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی سے مخاطب ہوتے ہوئے لکھا کہ ’’مودی جی، بڑھتی معاشی عدم مساوات ملک کے سب سے بڑے خدشات میں سے ایک ہے، لیکن آپ اسے فروغ دے رہے ہیں۔ جی ڈی پی کے اعداد و شمار کبھی یہ نہیں بتاتے کہ ترقی کا فائدہ کس کو مل رہا ہے اور عام آدمی کی زندگی کتنی بہتر ہو رہی ہے۔ جب آمدنی اور دولت کا بڑا حصہ مٹھی بھر لوگوں کے پاس محدود ہوتا جائے اور عام خاندان مہنگائی، قرض اور گھٹتی بچت کے دباؤ میں زندگی گزارنے کو مجبور ہوں، تو جی ڈی پی کے کاغذی اعداد و شمار زمینی حقیقت پر پردہ نہیں ڈال سکتے۔‘‘ پوسٹ کے آخر میں جے رام رمیش لکھتے ہیں کہ ’’معاشی ترقی کا دعویٰ تبھی بامعنی ہے جب اس کا فائدہ عام آدمی تک پہنچے، ورنہ یہ اعداد و شمار ترقی کی نہیں بلکہ بڑھتی معاشی خلیج کی کہانی بیان کرتے ہیں۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔