قومی خبریں

کانگریس امیدوار حافظ رشید احمد کو سپریم کورٹ سے راحت، کریم گنج انتخابی عرضی خارج کرنے کا ہائی کورٹ کا حکم منسوخ

سپریم کورٹ نے کانگریس امیدوار حافظ رشید احمد چودھری کو راحت دیتے ہوئے کریم گنج انتخابی عرضی خارج کرنے کا گوہاٹی ہائی کورٹ کا حکم منسوخ کر دیا اور معاملہ دوبارہ ہائی کورٹ بھیج دیا

<div class="paragraphs"><p>سپریم کورٹ آف انڈیا</p></div>

سپریم کورٹ آف انڈیا

 

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے کانگریس امیدوار حافظ رشید احمد چودھری کو بڑی راحت دیتے ہوئے گوہاٹی ہائی کورٹ کے اس حکم کو منسوخ کر دیا ہے، جس کے تحت آسام کی کریم گنج لوک سبھا سیٹ پر 2024 کے انتخابات کو چیلنج کرنے والی ان کی انتخابی عرضی ابتدائی مرحلے میں ہی خارج کر دی گئی تھی۔

جسٹس جے بی پاردی والا اور جسٹس کے ونود چندرن کی بنچ نے چودھری کی اپیل منظور کرتے ہوئے انتخابی عرضی کو دوبارہ گوہاٹی ہائی کورٹ کے پاس بھیج دیا۔ عدالت نے ہدایت دی کہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں دی گئی ہدایات کے مطابق عرضی پر دوبارہ غور کیا جائے۔

یہ معاملہ 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں کریم گنج سے بی جے پی امیدوار کریپاناتھ ملاح کے انتخاب سے متعلق ہے۔ ملاح نے کانگریس امیدوار حافظ رشید احمد چودھری کو 18,360 ووٹوں سے شکست دی تھی۔ چودھری نے اپنے انتخابی چیلنج میں دھاندلی، بوتھ کیپچرنگ، ووٹروں کو ڈرانے دھمکانے اور رشوت خوری سمیت کئی الزامات لگائے تھے۔ انتخابی عرضی میں 47 پولنگ مراکز پر بوتھ کیپچرنگ کا بھی الزام عائد کیا گیا تھا۔

گوہاٹی ہائی کورٹ نے عوامی نمائندگی قانون، 1951 کی دفعہ 86 کے تحت چودھری کی انتخابی عرضی کو ابتدائی مرحلے میں ہی خارج کر دیا تھا۔ اس کے بعد چودھری نے ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔

سپریم کورٹ کے سامنے انتخابی عرضی کی نقول کی تصدیق، بدعنوان انتخابی طریقوں کے الزامات سے متعلق فارم 25 کے حلف نامے اور عرضی کے چار صفحات غائب ہونے جیسے نکات زیر بحث آئے۔ انتخابی عرضی کی نقول کی تصدیق کے معاملے پر سپریم کورٹ نے کہا کہ قانون میں تصدیق کا کوئی مخصوص طریقہ مقرر نہیں کیا گیا ہے۔ عدالت کے مطابق اگر انتخابی درخواست گزار ہر صفحے کے نیچے اپنے دستخط کر کے اس بات کی ذمہ داری لیتا ہے کہ نقل اصل دستاویز کے مطابق ہے تو اسے کافی سمجھا جا سکتا ہے۔

بنچ نے یہ بھی کہا کہ انتخابی عرضی کے مختلف صفحات پر استعمال کیے گئے الفاظ اصل نقل کے طور پر تصدیق شدہ اور اصل نقل کے طور پر مصدقہ کا مفہوم ایک ہی ہے۔ سپریم کورٹ نے سابق فیصلے ایف اے ساپا بنام سنگورا میں دیے گئے اصول سے اتفاق کرتے ہوئے ہائی کورٹ کے اس کے برعکس مؤقف کو مسترد کر دیا۔

عدالت نے فارم 25 سے متعلق اعتراض کا بھی جائزہ لیا۔ فارم 25 پر انتخابی درخواست گزار کے دستخط ہونا اور فرسٹ کلاس مجسٹریٹ، نوٹری یا کمشنر آف اوتھس کے ذریعے اس کی تصدیق ضروری ہے۔ تاہم سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ فارم 25 سے متعلق کسی خامی کی بنیاد پر پوری انتخابی عرضی کو عوامی نمائندگی قانون کی دفعہ 86 کے تحت لازمی طور پر خارج نہیں کیا جا سکتا۔

سپریم کورٹ نے گواہاٹی ہائی کورٹ کو یہ جانچنے کی ہدایت دی کہ اصل دستاویز میں فارم 25 کی حلف کے ساتھ مناسب تصدیق موجود ہے یا نہیں۔ عدالت نے کہا کہ اگر درست تصدیق موجود ہو تو ہائی کورٹ انتخابی عرضی میں لگائے گئے الزامات پر میرٹ کی بنیاد پر آگے بڑھے۔ اگر تصدیق موجود نہ ہو تو بدعنوان انتخابی طریقوں سے متعلق الزامات پر بحث کی اجازت نہ دی جائے، البتہ دیگر بنیادیں موجود ہوں تو ان پر میرٹ کے مطابق غور کیا جا سکتا ہے۔

چار صفحات غائب ہونے کے الزام کے معاملے میں سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے فیصلے میں مداخلت نہیں کی۔ عدالت نے اس پہلو پر ہائی کورٹ کے مؤقف کو برقرار رکھا۔

سپریم کورٹ نے ساتھ ہی واضح کیا کہ اس فیصلے میں اس نے حافظ رشید احمد چودھری کی انتخابی عرضی میں لگائے گئے اصل الزامات کی سچائی یا ان کے میرٹ پر کوئی فیصلہ نہیں دیا ہے۔ عدالت نے صرف ہائی کورٹ کے ذریعے عرضی کو ابتدائی مرحلے میں خارج کیے جانے کے حکم کو منسوخ کیا ہے اور معاملہ دوبارہ گواہاٹی ہائی کورٹ کو بھیج دیا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔