سیاست کو خیرباد نہیں کہوں گی، بی جے پی کو حاشیہ پر دھکیلنے تک نہیں رکوں گی: ممتا بنرجی

ممتا نے کہا کہ وہ سیاست کو خیرباد نہیں کہیں گی اور بی جے پی کو حاشیہ پر دھکیل کر ہی دم لیں گی۔ انہوں نے مردم شماری کو این آر سی کی کوشش قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایس آئی آر کے ذریعے ووٹ حذف کیے جا رہے ہیں

<div class="paragraphs"><p>سابق وزیر اعلیٰ مغربی بنگال ممتا بنرجی / آئی اے این ایس</p></div>
i

کولکاتا: ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بنرجی نے پیر کو کہا کہ وہ سیاست کو خیرباد نہیں کہیں گی اور اس وقت تک نہیں رکیں گی جب تک بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو سیاسی طور پر حاشیہ پر نہیں دھکیل دیتیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں اقتدار کی تبدیلی کے صرف 4 ماہ کے اندر ہی لوگوں نے بی جے پی کا ’اصلی چہرہ‘ دیکھ لیا ہے۔

ممتا بنرجی نے یہ بات سوشل میڈیا پلیٹ فارم فیس بک پر ایک پوسٹ میں کہی۔ انہوں نے بی جے پی پر عوام کو دھوکا دینے اور ریاست کے مختلف معاملات میں لوگوں کے مفادات کو نظرانداز کرنے کا الزام عائد کیا۔

انہوں نے مردم شماری کی مشق پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے الزام لگایا کہ یہ قومی شہری رجسٹر (این آر سی) نافذ کرنے کی ایک اور ’پچھلے دروازے سے کی گئی کوشش‘ ہے۔ ممتا نے کہا کہ مردم شماری کی یہ مشق سیاسی جماعتوں سے مشاورت کے بغیر شروع کی گئی ہے۔

ترنمول کانگریس سربراہ نے لوگوں کو خبردار کیا کہ وہ مردم شماری کے فارم پر دستخط کرنے اور اپنی ذاتی معلومات فراہم کرنے سے پہلے محتاط رہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ذاتی معلومات شیئر کرنے کے نتیجے میں لوگوں کو اپنی نجی بچت تک سے محروم ہونا پڑ سکتا ہے۔


ریاست کے مختلف حصوں میں خواتین کی جانب سے اناپورنا بھنڈار مالی امدادی اسکیم کی رقم کی مبینہ تاخیر کے خلاف احتجاج کے درمیان ممتا نے بی جے پی حکومت کو بھی نشانہ بنایا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت نااہلی کا حوالہ دے کر اسکیم کے مستحقین کی تعداد کم کر رہی ہے۔

ممتا نے کہا کہ ان کی حکومت نے خواتین کو معاشی طور پر خود کفیل بنانے کے لیے ’لکشمی بھنڈار‘ اسکیم شروع کی تھی، لیکن بی جے پی حکومت اناپورنا بھنڈار کی رقم کی تقسیم میں مذہب اور ذات کو بنیاد بنا رہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی نے انتخابات سے قبل تمام خواتین کو اناپورنا اسکیم کی رقم دینے کا وعدہ کیا تھا، لیکن اب وہ اپنے وعدے سے پیچھے ہٹ رہی ہے۔

جادوپور یونیورسٹی میں اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (اے بی وی پی) اور بائیں بازو سے وابستہ طلبہ کے درمیان جھڑپوں کا حوالہ دیتے ہوئے ممتا نے بی جے پی پر یونیورسٹی کیمپس میں توڑ پھوڑ کرانے کا الزام بھی عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ کچھ طلبہ کے ساتھ ان کے اختلافات ضرور ہیں، لیکن وہ ان کا احترام کرتی ہیں۔

ممتا نے ووٹر لسٹ کے خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) پر بھی اعتراض کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اس عمل کے ذریعے لاکھوں حقیقی ووٹروں کے نام غیر قانونی طور پر ووٹر لسٹ سے ہٹا دیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر وہ ان ووٹروں کے نام دوبارہ شامل کرانے کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کریں گی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔