رام مندر، تصویر سوشل میڈیا
شری رام جنم بھومی مندر میں سامنے آئے مبینہ عطیہ چوری کے معاملے کا اثر اب عقیدت مندوں کے نذرانہ دینے کے طریقے پر بھی صاف دکھائی دینے لگا ہے۔ مندر میں زائرین کی تعداد پہلے کی طرح برقرار ہے، لیکن ’دان پاتروں‘ (عطیات بکسوں) میں نقد عطیات میں مسلسل کمی آ رہی ہے۔ عقیدت مند اب عطیات بکسوں میں نقدی ڈالنے کے بجائے زیادہ شفاف نظام کے تحت رسید کٹوا کر یا آن لائن طریقے سے عطیہ کرنا پسند کر رہے ہیں۔
ہندی نیوز پورٹل ’ٹی وی-9 بھارت ورش پر‘ بینک کے ذرائع کے حوالے سے شائع خبر کے مطابق جون کے مہینے میں مندر کی عطیہ رقم کے طور پر روزانہ اوسطاً 20 سے 24 لاکھ روپے بینک میں جمع ہو رہے تھے۔ جولائی میں یہ اعداد و شمار مسلسل گرتے گئے اور 10 جولائی تک روزانہ جمع ہونے والی رقم 10 لاکھ روپے سے بھی نیچے پہنچ گئی۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق 5 جولائی کو تقریباً 14 لاکھ روپے جمع ہوئے تھے، جبکہ 10 جولائی کو یہ گھٹ کر تقریباً 9.15 لاکھ روپے رہ گئے۔ عطیات کی مبینہ چوری کے تنازعہ کے بعد عقیدت مندوں کا بھروسہ عطیات بکسوں کے بجائے رسید پر مبنی اور ڈیجیٹل عطیہ کے نظام کی طرف بڑھا ہے۔ مندر میں زیارت کے لیے آنے والوں کی تعداد میں کوئی خاص کمی نہیں آئی ہے، لیکن عطیہ دینے کے طریقے میں بڑی تبدیلی دیکھی جا رہی ہے۔
مندر کے ایک عطیہ کاؤنٹر آپریٹر نے بھی اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ چند دنوں سے زیادہ تر عقیدت مند عطیہ کاؤنٹر پر جا کر رسید کے ساتھ عطیہ جمع کرا رہے ہیں یا آن لائن ادائیگی کر رہے ہیں۔ عطیہ بکسوں میں پہلے کے مقابلے میں کافی کم نقد رقم ڈالی جا رہی ہے، جوعقیدت مند رقم ڈال بھی رہے ہیں وہ زیادہ تر 10، 20 اور 50 روپے کے چھوٹے نوٹ ہی ڈال رہے ہیں۔ رواں ماہ عقدیت مندوں اور زائرین کی جانب سے 5 جولائی کو 14 لاکھ، 6 جولائی کو 13.20 لاکھ، 7 جولائی کو 12 لاکھ، 8 جولائی کو 11 لاکھ، 9 جولائی کو 10.25 لاکھ اور 10 جولائی کو 9.15 لاکھ روپے عطیات کے طور پر دیے گئے۔
قابل ذکر ہے کہ سپریم کورٹ نے پیر (13 جولائی) کو اتر پردیش حکومت کی بنائی ہوئی خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) سے اسٹیٹس رپورٹ طلب کی ہے۔ یہ ٹیم ایودھیا میں رام مندر کے لیے ملنے والے عطیات میں مبینہ بے ضابطگی کی تحقیقات کر رہی ہے۔ عدالت نے ’رام جنم بھومی تیرتھ چھیتر ٹرسٹ‘ سے بھی جواب مانگا ہے۔ عدالت نے کہا کہ ’’ہم اتر پردیش حکومت کی طرف سے تشکیل دی گئی ایس آئی ٹی کو اسٹیٹس رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دیتے ہیں۔ اس معاملے کو مزید سماعت کے لیے اگلے پیر کو لسٹ کریں۔ اس کے ساتھ ہی اسٹیٹس رپورٹ میں ایس آئی ٹی کے اراکین کی معلومات بھی فراہم کریں۔‘‘
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔