ہوائی جہاز کے مہنگے ٹکٹوں کی منمانی پر لگے گی لگام، سپریم کورٹ نے مرکز کو دی ہدایت

عرضی گزار کا کہنا ہے کہ ہندوستان میں پرائیویٹ ایئرلائنز بغیر کسی مناسب ضابطے کے ڈائنامک پرائسنگ اپنا کر مسافروں سے زیادہ کرایے وصول کر رہی ہیں، جس سے صارفین کے حقوق متاثر ہو رہے ہیں۔

ہوائی جہاز، تصویر یو این آئی
i

سپریم کورٹ نے تہوار اور چھٹیوں کے دوران ہوائی کرایوں میں بھاری اضافے کو لے کر مرکزی حکومت کو ہدایات جاری کی ہیں۔ عدالت نے ہوائی کرایے کو ریگولیٹ کرنے کے لیے بنائے گئے قوانین کی ایک کاپی پیش کرنے کی ہدایت دی۔ اس کے لیے عدالت نے مرکزی حکومت کو 2 ہفتے کا وقت دیا ہے۔ پیر (13 جولائی) کو مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ ہوائی کرایے کو ریگولیٹ کرنے کے قوانین تیار کر لیے گئے ہیں۔ ان قوانین کو 30 دنوں کے اندر پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں پیش کیے جانے کا امکان ہے۔ اس کے بعد سپریم کورٹ نے ہدایت دی کہ قوانین کی ایک کاپی 2 ہفتے کے اندر اس کے سامنے پیش کی جائے۔

معاملے کی آئندہ سماعت 3 اگست کو ہوگی۔ اس معاملے کی سماعت جسٹس وکرم ناتھ اور جسٹس سندیپ مہتا کی بنچ نے کی۔ عرضی میں ہوائی کرایے میں غیر متوقع اتار چڑھاؤ کو کنٹرول کرنے کے لیے گائیڈلائنز مانگی گئی تھیں۔ ہوائی سفر میں منمانے کرایوں اور ایئر لائنز کی جانب سے اضافی چارجز کی وصولی سے عام صارفین پریشان رہتے ہیں۔ لیکن اس سمت میں کسی خاص گائیڈلائنز کے نہ ہونے کی وجہ سے وہ مجبور ہیں۔ ایسے میں سپریم کورٹ میں یہ عرضی ایئرلائن کمپنیوں کے اس منمانے رویے کے خلاف داخل کی گئی ہے۔ عرضی گزار کا کہنا ہے کہ ہندوستان میں پرائیویٹ ایئرلائنز بغیر کسی مناسب ضابطے کے ڈائنامک پرائسنگ اپنا کر مسافروں سے زیادہ کرایے وصول کر رہی ہیں، جس سے صارفین کے حقوق متاثر ہو رہے ہیں۔


ڈائنامک پرائسنگ سے متعلق عرضی میں کیے گئے مطالبات:

  • الگوریدم پر مبنی ڈائنامک پرائسنگ کی نگرانی اور اس کا ضابطہ بنایا جائے۔

  • ایئر ٹکٹ کے کرایے میں ہونے والے اچانک اور حد سے زیادہ اضافے کو روکنے کے لیے واضح قوانین بنائے جائیں۔

  • ایئرلائنز کی جانب سے لگائے جانے والے اضافی چارجز (جیسے سیٹ کا انتخاب، سامان، ترجیحی خدمات وغیرہ) کو شفاف بنایا جائے۔

  • مسافروں کی شکایات کو حل کرنے کے لیے مؤثر نظام قائم کیا جائے۔

  • ایک آزاد ’ایوی ایشن ٹیرف اینڈ کنزیومر پروٹیکشن کمیشن‘ یا اس جیسا کوئی ریگولیٹری ادارہ تشکیل دیا جائے۔

  • گھریلو پروازوں میں اکانومی کلاس کے لیے کم از کم 25 کلوگرام مفت چیک ان بیگیج بحال کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ ڈائنامک پرائسنگ  قیمتیں طے کرنے کی ایک ایسی حکمتِ عملی ہے جہاں کمپنیاں مارکیٹ کی مانگ، صارفین کے رویے اور فوری ڈیٹا کی بنیاد پر اپنی مصنوعات یا خدمات کی قیمتوں میں مسلسل تبدیلی کرتی ہیں۔ اسی بنیاد پر ہوائی جہاز کی کمپنیاں کسی ایک پرواز کے لیے کوئی مقررہ قیمت طے کرنے کے بجائے، مانگ کے حساب سے ہر گھنٹے یا دن ٹکٹ کی قیمت بدلتی رہتی ہیں۔ اگر کسی خاص روٹ پر اچانک مسافروں کی تعداد بڑھ جاتی ہے یا کسی سیٹ کی مانگ زیادہ ہوتی ہے، تو قیمتیں بڑھا دی جاتی ہیں۔