وزیر اعلیٰ تھلاپتی وجے کا محض 2 ماہ میں آئی پی ایس افسر ارون پر اعتماد ہوا ختم!

آئی جی رینک کی افسر مادیشوری ’ڈی وی اے سی‘ کے اسپیشل انویسٹی گیشن سیل میں کام کر رہی ہیں۔ اب انہیں ’ڈائریکٹوریٹ آف ویجیلنس اینڈ اینٹی کرپشن‘ میں ڈائریکٹر کا بھی اضافی چارج سونپا گیا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>تھلاپتی وجے / آئی اے این ایس</p></div>
i

تمل ناڈو کے وزیر اعلی جوزف وجے نے ریاستی چوکسی و انسداد بدعنوانی ڈائریکٹوریٹ کے ڈائریکٹر اور آئی پی ایس افسر اے ارون کو عہدے سے ہٹا دیا ہے۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ تقرری کے 2 مہینے سے بھی کم وقت کے اندر یہ بڑا فیصلہ لیا گیا ہے۔ انتظامیہ میں ہوئی اس بڑی تبدیلی کے بعد اے ارون کی جگہ آئی پی ایس افسر سی مادیشوری کو تعینات کیا گیا ہے، جو پہلے ہی بطور آئی جی کام کر رہی ہیں۔ اے ڈی جی پی رینک کے افسر ارون کو اب چنئی میں تمل ناڈو پولیس اکیڈمی کا ڈائریکٹر بنایا گیا ہے۔

ایڈیشنل چیف سکریٹری کے مانیواسن کے سرکاری حکم کے مطابق یہ تبادلہ فوری اثر سے نافذ کیا گیا ہے۔ آئی جی رینک کی افسر مادیشوری ’ڈی وی اے سی‘ کے اسپیشل انویسٹی گیشن سیل میں کام کر رہی تھیں۔ اب انہیں ’ڈائریکٹوریٹ آف ویجیلنس اینڈ اینٹی کرپشن‘ (ڈی وی اے سی) میں ڈائریکٹر کا بھی اضافی چارج سونپا گیا ہے۔ مئی کے آخر میں تھلاپتی وجے کی قیادت والی حکومت نے اے ارون کو ڈی وی اے سی کا ڈائریکٹر مقرر کیا تھا۔ حالانکہ ریاست اینٹی کرپشن چیف کے طور پر ان کی تقرری پر پہلے ہی سوال اٹھ رہے تھے۔ دراصل اسمبلی انتخابی مہم کے دوران جب وہ گریٹر چنئی پولیس کمشنر تھے، تب ’ٹی وی کے‘ نے انہیں ’ڈی ایم کے‘ حامی افسر بتایا تھا۔ ڈی وی اے سی کا ڈائریکٹر بننے سے قبل ارون چنئی شہر کی پولیس کے سربراہ تھے۔


تمل ناڈو اسمبلی انتخاب 2026 کے دوران سیاسی پارٹیوں نے ارون پر انتظامی تعصب کا الزام لگایا تھا، اور ان کے تبادلے کا مطالبہ کیا تھا۔ اس حوالے سے الیکشن کمیشن سے شکایت بھی کی گئی تھی، جس کے بعد کمیشن نے انہیں ویٹنگ لسٹ میں ڈال دیا تھا۔ مدراس ہائی کورٹ نے بھی ان کی تقرری پر سخت اعتراض کیا تھا۔ عدالت نے اینٹی کرپشن ایجنسی کی دیانتداری پر زور دیا تھا اور کہا تھا کہ ’’اس عہدے کی سربراہی غیرمعمولی شہرت کے حامل پیشہ ور افراد کے پاس ہونی چاہیے۔‘‘ مدراس ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ ’’ڈی وی اے سی ڈائریکٹر کا عہدہ روایتی طور پر بہترین صلاحیت والے افسران کے پاس رہا ہے اور اس کے لیے سابق سربراہان سی وی نرسمہن اور سی ایل رام کرشنن کی مثال دی جا سکتی ہے۔‘‘ عدالت نے آگے کہا کہ ’’ان افسران کے کیریئر کے دوران ان پر الزامات نہیں لگے۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔