قومی خبریں

راجستھان ہائی کورٹ نے اسکولوں میں جَنک فوڈ پر لگائی پابندی، کینٹین اور اسکول گیٹ کے 50 میٹر دائرے میں نہیں ہوگا فروخت

جسٹس انوپ کمار ڈھانڈ کی صدارتی بنچ نے اسکولوں کے اندر اور آس پاس کے علاقوں میں جنک فوڈ فروخت ہونے اور بچوں کے ’اسکرین ٹائم‘ میں ہو رہے اضافے پر تشویش کا اظہار کیا۔

<div class="paragraphs"><p>راجستھان ہائی کورٹ / آئی اے این ایس</p></div>

راجستھان ہائی کورٹ / آئی اے این ایس

 

راجستھان ہائی کورٹ نے بچوں کی صحت، تعلیم اور ترقی کو ذہن میں رکھتے ہوئے اہم فیصلہ سنایا ہے۔ عدالت نے پوری ریاست میں اسکولوں کی کینٹین اور اسکول گیٹ کے 50 میٹر کے دائرے میں جنک فوڈ کی فروخت پر پابندی عائد کر دی ہے۔  24 اگست کو جسٹس انوپ کمار ڈھانڈ کی صدارتی بنچ نے اسکولوں کے اندر اور آس پاس کے علاقوں میں جنک فوڈ فروخت ہونے اور بچوں کے ’اسکرین ٹائم‘ میں ہو رہے اضافے پر تشویش کا اظہار کیا۔ کورٹ نے اسکولوں کو حکم دیا ہے کہ وہ زیادہ چربی، چینی اور نمک  (ایچ ایف ایس اے ایس) والی اشیائے خوردنی کے فروخت پر سختی سے پابندی عائد کریں۔

جن مصنوعات پر پابندی عائد کی گئی ہے ان میں کاربونیٹیڈ مشروبات، چپس، ٹرانس فیٹ والے بیکری پروڈیکٹس اور دیگر جنک فوڈ شامل ہیں۔ ضلع مجسٹریٹس اور بلاک ایجوکیشن آفیسرز کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ہر ماہ انسپکشن کریں، تاکہ قواعد کی تعمیل کو یقینی بنایا جا سکے۔ کورٹ نے کہا ہے کہ اسکولوں میں محفوظ اور متوازن غذا کے لیے 2020 میں گائیڈلائنس بنائی گئی تھیں، لیکن 6 برس سے زیادہ عرصہ گزر جانے کے باوجود موثر طریقے سے عمل درآمد نہیں کیا جا رہا ہے۔ اصول و ضوابط کی تعمیل کو مضبوط بنانے کے لیے، ہر اسکول کو 4 ہفتوں کے اندر ’اسکول فوڈ سیفٹی اینڈ نیوٹریشن کمیٹی‘ تشکیل دینی ہوگی۔

اسکولوں کو یہ بھی حکم دیا گیا ہے کہ وہ 8 ہفتے کے اندر ایک ’مینو بورڈ‘ لگائیں، جس میں کینٹین میں فروخت ہونے والی ’اشیائے خوردنی‘ کی کیلوریز، اجزاء اور غذائیت سے متعلق معلومات دی گئی ہوں۔ عدالت نے افسران کو یہ بھی حکم دیا ہے کہ وہ یقینی بنائیں کہ ’ مڈ ڈے میل‘ اور دوسری غذائیت کے منصوبوں کو متوازن غذا کے معیار پر عمل کرنا چاہیے۔ تاکہ بچوں کو مو ٹاپے اور طرز زندگی سے وابستہ بیماریوں سے بچایا جا سکے۔ ہائی کورٹ نے تعلیم میں ’ٹیکنالوجی‘ اور مصنوعی ذہانت کے استعمال کی ضرورت پر بھی زور دیا، اور کہا کہ ان آلات کو سیکھنے کے بنیادی طریقوں کی جگہ نہیں لینی چاہیے۔

عدالت نے بچوں کی بنیادی تعلیم کے حصے کے طور پر ہاتھ سے لکھنے، کتابیں پڑھنے، نوٹس بنانے اور تحریری امتحانات کی اہمیت پر زور دیا۔ دیہی سرکاری اسکولوں میں ٹیچرس کی خالی اسامیوں کو پر کرنے، اسمارٹ کلاس روم، کمپیوٹر، انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی، ہیلتھ چیک اپ، بیت الخلاء، پینے کا پانی اور کھیل کود کی خدمات کو بہتر بنانے کی بھی ہدایات جاری کیں۔ سبھی ضلع کلیکٹروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ دیہی اسکولوں کا معائنہ کریں اور 8 ہفتوں کے اندر عدالت میں رپورٹ پیش کریں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔