فضائی آلودگی کے سبب گرمی نے اگست میں بنائے نئے ریکارڈ، سمندروں میں بھی گرمی کی شدت!
دنیا کے سمندروں کے اندر شدید گرمی کے پچھلے تمام ریکارڈ ٹوٹ چکے ہیں۔ تازہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ گزشتہ ہفتے کو سمندروں کا درجۂ حرارت پہلے کی بہ نسبت بہت زیادہ تھا۔
دنیا کی آب و ہوا کافی تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے، اور فضائی آلودگی کم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہے۔ گرمی کی شدت بڑھتی ہی جا رہی ہے۔ دنیا کے کئی ممالک میں شدید گرمی مسئلہ بن چکی ہے۔ زمین کے ساتھ ساتھ اب سمندر بھی گرم ہو رہے ہیں۔ دنیا کے سمندروں کے اندر شدید گرمی کے پچھلے تمام ریکارڈ ٹوٹ چکے ہیں۔ تازہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ گزشتہ ہفتے کو سمندروں کا درجۂ حرارت پہلے کی بہ نسبت بہت زیادہ تھا۔ اوسط سمندر کی سطح کا درجۂ حرارت ہفتے کے روز 21.1 درج کیا گیا تھا۔ جب کہ یکم مارچ 2024 کو یہ درجۂ حرارت 21.09 تھا۔ اسی طرح 1991 سے سال 2020 تک یہاں کا درجۂ حرارت اوسط ہی رہا۔ سمندر کے نیچے بڑھتی گرمی کو موسمیاتی بحران کی بڑی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔ ’فوسل فیول‘ جلانے سے نکلنے والے ’کاربن ڈائی آکسائیڈ‘ کی وجہ سے جو گرمی جمع ہوتی ہے، اس کا 90 فیصد سے زیادہ حصہ سمندروں میں چلا جاتا ہے۔
سائنسدانوں نے آگاہ کیا ہے کہ گرم سمندر کی سطح آب میں اضافہ اور تیز طوفانوں کے معاملے انتہائی سنگین ہیں، جس سے اربوں لوگوں کی زندگی خطرے میں ہے۔ ساتھ ہی یہ سمندری ہیٹ ویو بھی پیدا کرتے ہیں، جو سمندری حیات کو ختم کر دیتے ہیں اور ساحلی علاقوں میں رہنے والوں کے ذریعۂ معاش کو کافی نقصان پہچاتے ہیں۔ شمالی نصف کرہ کا رخ کرتے ہوئے یورپ اور شمالی امریکہ میں گرمیوں کے دوران ریکارڈ توڑ گرمی، خشک سالی اور شدید جنگل کی آگ کے کئی معاملے سامنے آئے۔ اس کے برعکس ایشیا کو شدید بارش اور طوفان کا سامنا کرنا پڑا۔ سمندروں کی گرمی کافی تیزی سے ال نینو کی وجہ سے بڑھ رہی ہے۔ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ ممکنہ طور پر کم از کم ایک صدی میں سب سے زیادہ گرم ال نینو ہوگا۔ ال نینو ایک قدرتی آب و ہوا کی تبدیلی ہے، جو عالمی درجۂ حرارت میں اضافہ کرتا ہے اور موسم کے پیٹرن کو تبدیل کرتا ہے۔ اس کے اثرات پوری دنیا میں نظر آرہے ہیں۔
نئے ال نینو کی وجہ سے ہندوستان میں اس سال مانسون میں بارش کم ہو رہی ہے۔ انڈونیشیا میں جنگل کی آگ کے کئی بڑے حادثے پیش آئے ہیں اور آسٹریلیا میں بھی آتشزدگی کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ اب اگست میں سمندروں کی گرمی کا نیا ریکارڈ بن گیا ہے۔ یہ نیا ریکارڈ اس لحاظ سے خاص ہے، کیوں کہ عام طور پر دنیا میں سمندر کا درجۂ حرارت مارچ اور اپریل میں یعنی جنوبی نصف کرہ کی گرمیوں کے بعد سب سے زیادہ ہوتا ہے۔ شمالی نصف کرہ کی بہ نسبت جنوبی نصف کرہ میں سمندر کا دائرہ کافی بڑا ہے۔ یورپی یونین کی کوپرنیکس کلائمیٹ چینج سروس (سی3ایس) کی ڈاکٹر سمانتھا برگریس کہتی ہیں کہ یہ ریکارڈ اس بات کا ایک اور صاف اشارہ ہے کہ سمندر بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ ’سی 3 ایس‘ نے نئے اعداد و شمار تیار کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ال نینو کی وجہ سے گرمی بڑھتی جا رہی ہے، لیکن یہ انسانوں کی وجہ سے دہائیوں سے ہو رہی گلوبل وارمنگ کے اوپر ہو رہا ہے۔ اس کے نتیجے پہلے سے ہی نظر آ رہے ہیں۔ کیوں کہ 1990 کی دہائی کی شروعات سے دنیا بھر میں سمندری ہیٹ ویو والے دنوں کی تعداد 3 گنا سے زیادہ ہو گئی ہے۔ گرم ہونے والے سمندروں کی وجہ سے پانی کی ’تھرمل ایکسپنسن‘ سے سمندر کی آبی سطح بڑھتی ہے، اور اس وجہ سے ساحلی کمیونٹیز اور کم اونچائی والے جزیرہ نما ممالک کے لیے سیلاب کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ سمندر کا زیادہ درجۂ حرارت انتہائی موسمی واقعات کو مزید خطرناک بنا دیتا ہے، کیونکہ گرم سمندر فضا میں زیادہ توانائی اور بھاپ چھوڑتے ہیں، جس کی وجہ سے بارش اور طوفان میں اضافہ ہوتا ہے۔
’فوسل فیول‘ جلانے اور جنگلوں کی کٹائی سے نکلنے والا بیشتر ’کاربن ڈائی آکسائیڈ‘ (زمین کو گرم کرتا ہے) سمندروں میں جذب ہوتا جاتا ہے۔ جبکہ گرم سمندر ’کاربن ڈائی آکسائیڈ‘ کو جذب کرنے میں کم موثر ہوتے ہیں۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس سے گلوبل وارمنگ کو لے کر زمین کے سب سے اہم قدرتی دفاعی طریقہ کار میں سے ایک کمزور ہو رہا ہے۔ ’مہم برائے فطرت‘ کے ڈائریکٹر برائن او ڈونیل نے کہا کہ ’’سمندر کے درجۂ حرارت میں اس ریکارڈ اضافے سے نمٹنے کے لیے دو اہم اقدامات کرنے ہوں گے۔ ’فوسل فیول‘ سے ہونے والے اخراج کو تیزی سے کم کیا جانا چاہیے۔ ساتھ ہی ممالک کے لیے سمندری اور ’کوسٹل ایکو سسٹم‘ کی حفاظت کرنا ضروری ہے۔ کیلپ بیڈز، مینگرووز اور دلدل کاربن کو جذب کرتے ہیں، اور مرجان کی چٹانیں طوفانوں سے بچاتی ہیں اور جانداروں کے لیے رہائش فراہم کرتی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’’190 سے زیادہ حکومتوں نے 2030 تک زمین کی سطح کے کم از کم 30 فیصد حصے کی حفاظت اور تحفظ کا عہد کیا ہے، اور اب وقت آگیا ہے کہ اس وعدے کو زمین سطح پر موثر اور دیرپا تحفظ میں تبدیل کیا جائے۔‘‘ سی3 ایس ڈاٹا قطبی علاقوں سے باہر کے سمندروں کے بارے میں ہے۔ آرکٹک زمین پر سب سے تیزی سے گرم ہونے والا خطہ ہے۔ یہ ریکارڈ 1979 سے موجود ہے۔ جب سیٹلائٹ سے بہترین کوالٹی کا ڈاٹا ملنا شروع ہوا تھا۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
