قومی خبریں

دہلی میں بارش نے گرمی سے دلائی راحت، کئی ریاستوں میں آندھی-طوفان کے ساتھ بارش کا الرٹ جاری

نریلا، پیتم پورہ اور میور وِہار سمیت موسم نگرانی اسٹیشنوں نے 0.5 ملی میٹر بارش درج کی ہے۔ اس ہفتے دہلی سمیت یوپی، ہریانہ اور پنجاب وغیرہ ریاستوں میں آندھی-طوفان کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔

<div class="paragraphs"><p>ویڈیو گریب</p></div>

ویڈیو گریب

 

دہلی کے کئی علاقوں میں جمعہ کی شام تیز ہوا کے ساتھ بارش ہوئی۔ اس سے لوگوں کو گرمی سے راحت ملی۔ اطلاع کے مطابق نریلا، پیتم پورہ اور میور وِہار سمیت موسم نگرانی اسٹیشنوں نے 0.5 ملی میٹر بارش درج کی۔ محکمہ موسمیات نے امکان ظاہر کیا ہے کہ اس ہفتے یوپی سمیت دہلی، ہریانہ اور پنجاب وغیرہ ریاستوں میں آندھی-طوفان کے ساتھ بارش ہوتی رہے گی۔

Published: undefined

محکمہ موسمیات کے مطابق دہلی میں آج بھی بادل چھائے رہیں گے۔ ابھی بہت ہلکی بارش ہو رہی ہے اور 30 سے 40 کلومیٹر فی گھنٹے کی رفتار سے ہوائیں چل رہی ہیں۔ شہر بھر میں اسی رفتار کے ساتھ ہوائیں چلنے کا امکان ہے۔ بارش کی وجہ سے درجہ حرارت میں گراوٹ آئی ہے۔ شام تک ہلکی بارش یا بوندا باندی ہو سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی طوفان، بجلی اور 50-40 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گرد بھری آندھی چلنے کے آثار ہیں۔

Published: undefined

اتر پردیش کے 40 سے زیادہ ضلعوں میں آندھی-پانی اور ژالہ باری کا زبردست اثر دیکھنے کو ملا۔ یوپی کے کئی ضعلوں میں آندھی کی وجہ سے بجلی سپلائی ٹھپ ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق نئے ویسٹرن ڈسٹربنس کے فعال ہونے کی وجہ سے جمعہ کی رات اور ہفتہ کو کئی ضلعوں میں گرج-چمک کے ساتھ بارش ہونے کا پورا امکان ہے۔ اس کے علاوہ مغربی اتر پردیش کے کئی ضلعوں میں آواز کے ساتھ بجلی گرنے کا الرٹ جاری کیا گیا ہے۔

جمعہ کو اگلے 24 گھنٹوں میں باگیشور، چمولی، دہرہ دون، پتھوراگڑھ، رودر پریاگ، ٹہری گڑھوال، اُتر کاشی سمیت اتراکھنڈ کے کچھ مقامات پر گرج کے ساتھ بارش ہونے کا امکان ہے۔

Published: undefined

آئی ایم ڈی آنے والے مضبوط ویسٹرن ڈسٹربنس کی وجہ سے ہماچل پردیش میں 18 اپریل سے 21 اپریل کے درمیان ریاست کے مختلف حصوں میں بارش کی پیش گوئی کر چکا ہے۔ محکمہ کے مطابق اس ویسٹرن ڈسٹربنس کا اثر ریاست پر پڑنے کی امید ہے، جس کے نتیجے میں زیادہ تر علاقوں میں ہلکی سے درمیانی اور اونچائی والے علاقوں میں بھاری بارش ہوگی۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined