قومی خبریں

راہل گاندھی کی تقریر حقائق پر مبنی تھی، انہیں اپنی بات مکمل کرنے کا موقع دیا جانا چاہیے تھا: شتروگھن سنہا

شتروگھن سنہا نے کہا کہ ’’راہل گاندھی کی تقریر میں حقائق اور سچائی تھی، انہیں اپنی بات مکمل کرنے کا موقع دیا جانا چاہیے تھا۔ حکومت اپوزیشن کی آواز دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔‘‘

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا 

لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد اور کانگریس رہنما راہل گاندھی کی تقریر کے بعد پیدا ہوئے سیاسی تعطل پر ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے رکن پارلیمنٹ شتروگھن سنہا نے مرکزی حکومت کو ہدف تنقید بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ راہل گاندھی کی تقریر میں حقائق اور سچائی تھی، انہیں اپنی بات مکمل کرنے کا موقع دیا جانا چاہیے تھا۔ حکومت اپوزیشن کی آواز دبانے کی کوشش کر رہی ہے اور طلبہ کے مسائل کو سنجیدگی سے نہیں لے رہی۔

خبر رساں ایجسنی ’آئی اے این ایس‘ سے خصوصی گفتگو میں شتروگھن سنہا نے کہا کہ پارلیمنٹ میں جو صورتحال پیدا ہوئی، وہ متوقع تھی کیونکہ راہل گاندھی پوری تیاری کے ساتھ ایوان میں پہنچے تھے۔ ان کے پاس حقائق، اعداد و شمار اور واقعات کی مکمل تفصیلات موجود تھیں۔ راہل گاندھی نے اپنی تقریر میں طلبہ، خواتین اور مظاہرین کے ساتھ مبینہ بدسلوکی، پولیس کارروائی اور احتجاجی مظاہروں کے دوران رونما ہونے والے واقعات کا ذکر کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ مظاہروں کے دوران پولیس کی جانب سے حد سے زیادہ طاقت کا استعمال کیا گیا اور راجدھانی دہلی میں جنتر منتر اور پارلیمنٹ کے احاطے کے قریب کسی بھی قسم کی سخت کارروائی اعلیٰ سطح کی اجازت کے بغیر ممکن نہیں ہو سکتی۔ اگر حکومت ان الزامات سے متفق نہیں تھی تو اسے راہل گاندھی کو اپنی تقریر مکمل کرنے دینی چاہیے تھی اور بعد میں حقائق کی بنیاد پر اپنا موقف پیش کرنا چاہیے تھا۔

ٹی ایم سی رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ راہل گاندھی کی تقریر لوگوں کو جذباتی کر رہی تھی اور حکومت اسی وجہ سے بے چین ہو گئی۔ اگر حکومت کو ان کے الزامات غلط لگتے تھے تو ایوان کے ریکارڈ پر حقائق کے ساتھ جواب دینا چاہیے تھا، لیکن انہیں درمیان میں روک کر یہ پیغام گیا کہ حکومت طلبہ اور نوجوانوں کی آواز سننے کو تیار نہیں ہے۔ ملک بھر میں نوجوان طبقہ اور طلبہ اپنے مطالبات کو لے کر فکر مند ہیں۔ اگر ان کی بات نہ سنی گئی تو مستقبل میں احتجاج مزید تیز ہو سکتا ہے۔ ایسے حالات میں جوابدہی طے ہونا لازمی ہے اور یہ دیکھا جانا چاہیے کہ مبینہ پولیس کارروائی کے لیے ذمہ دار کون ہے۔

شتروگھن سنہا نے کہا کہ اس پورے معاملے کو لے کر ملک بھر میں بحث ہو رہی ہے اور سپریم کورٹ میں بھی مفاد عامہ کی عرضیاں داخل کی گئی ہیں۔ کسی بھی مسئلے کو طاقت کے زور پر دبانے کی کوشش بالآخر اسے مزید بڑا بنا دیتی ہے۔ نیوٹن کے تیسرے قانون کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کسی مسئلے کو جتنا زیادہ دبایا جائے گا، وہ اتنی ہی زیادہ طاقت کے ساتھ دوبارہ سامنے آئے گا۔

مظاہرے میں مبینہ مجرمانہ پس منظر والے افراد کی موجودگی سے متعلق سوال پر شتروگھن سنہا نے کہا کہ کسی بھی بڑے احتجاج میں کچھ شرپسند عناصر شامل ہو سکتے ہیں، لیکن اس سے پورے احتجاج کو غلط نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ اگر ایسے لوگوں کے بارے میں پہلے سے معلومات تھیں تو پولیس نے وقت رہتے کارروائی کیوں نہیں کی؟

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔